کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

مسجد بیگم پورہ اور مٹھو کی حویلی۔۔ہزار داستان/مستنصر حسین تارڑ

بیگم پورہ کی تاریخی مسجد کے وسیع صحن میں دھوپ بہت تھی اور تشویش اور انجانے کا خوف بہت تھا۔ صحن پر کھلتی متعدد قدیم محرابیں جو کسی زمانے میں کھلی ہوں گی۔ سفید دروازوں اور شیشوں سے ان زمانوں میں بند کر دی گئی ہیں تا کہ مسجد کا اندرون گردوغبار سے محفوظ رہے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے دل جمعی سے قرآن پاک اور دینی علوم کو حفظ کر سکیں۔ اگرچہ بیگم پورہ مسجد کے قدیم درودیوار پر جو پرکشش روغنی اینٹوں سے سجی ہوئی زیبائشیں تھیں ان میں سے بیشتر اکھڑ چکی ہیں اور ان کی جگہ قلعی شدہ سپاٹ سطح ہے لیکن حیرت تو یہ ہے کہ اب بھی محرابوں کے اوپر چوکھٹوں میں کہیں کہیں ان کی رنگین گل بوٹوں والی نشانیاں موجود ہیں بلکہ مسجد کے عین درمیان میں زرد روغنی اینٹوں سے ترتیب شدہ ایک خوبصورت شجر جوں کا توں موجود ہے اور دیکھنے کے لائق ہے۔ ہمیں تو ہرگز خبر نہ تھی کہ لاہور کی اہم پرانی مساجد میں سے ایک بیگم پورہ مسجد، سرو والے مقبرے کے عقب میں کہیں پوشیدہ ہے۔ ایک مقامی نوجوان نے مجھے پہچان کر رہنمائی کے فرائض سرانجام دیئے۔ میں نے آغاز میں مسجد میں تشویش اور انجانے سے خوف کے احساس کا اظہار کیا ہے تو اس کا ایک سبب تھا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ مسجد میں ہماری موجودگی کو ناپسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ چھت پر تین باریش نوجوان جو شکل سے کسی دوسرے علاقے کے لگتے تھے بار بار ہماری جانب شک کی نظروں سے تکتے تھے۔ محراب کے باہر ایک صاحب مسلسل ہم پر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ ہم نے اپنے آپ کو راہداری میں محدود رکھا اور خواہش کے باوجود مسجد کی اندرونی عمارت میں قدم رکھنے سے گریز کیا۔ البتہ اس کی عمارت کے پہلو میں سے گزرتے ہوئے میں نے ذرا پوشیدہ ہو کر اندر نگاہ کی۔ محراب کی قربت میں سیاہ چوغے اور سرخ ٹوپی میں ملبوس ایک باریش صاحب اپنے سامنے ایک بہت بڑی کتاب کے اوراق کھولے چار طالب علموں کو درس دے رہے تھے۔ ان چاروں نوجوانوں کے چہروں پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک قابل ستائش اشتیاق رقم تھا۔ دراصل مقامی نوجوان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسجد کے اندر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن کیوں؟ جیسے کسی بھی قدیم مسجد میں نفل پڑھنے کا ایک خاص مہک دارلطف ہے، تو ہم یہاں اس سعادت سے محروم رہے، مقامی نوجوان نے کچھ اور سرگوشیاں بھی کیں۔ زرد روغنی اینٹوں سے ترتیب شدہ خوبصورت شجر کے عین نیچے ایک بورڈ آویزاں تھا جسے اتنے فاصلے سے مکمل طور پر پڑھنا مشکل تھا۔ ’’مدارس دینیہ اسلام کے مستحکم قلعے ہیں، اسلامی حدود کی چھائونیاں ہیں جس طرح ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس سے کہیں زیادہ اسلامی حدود کی حفاظت ضروری ہے‘‘ میں نے مبینہ بدھوکے مقبرے کو بیان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو ایک زندہ بدھو سے ملائوں گا۔ بیگم پورہ مسجد کے عقب میں ایک نو تعمیر شدہ مزار کے قریب، ایک قدیم کھنڈر کے شکستہ درودیوار کے سامنے بدھو پلاسٹک کی ایک کرسی پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا۔ نیلے سویٹر اور نیلی اونی ٹوپی میں ملبوس وہ ایک عجیب سی چھوٹی سی سفید داڑھی والا شخص تھا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہاں کسی زمانے میں ایک شاہانہ حویلی ہوا کرتی تھی جو ڈھے چکی ہے لیکن اس کی چند محراب دار کوٹھڑیاں اب بھی قائم ہیں۔ ان میں دو کوٹھڑیوں میں سریش تیار کرنے کا کوئی مخدوش سا کارخانہ تھا جو چھٹی کے باعث بند تھا۔ ان کے برابر میں مزید دو تین کوٹھڑیاں شکستہ حال زوال پذیر تھیں جن کے درودیوار کے سامنے وہ کرسی پر براجمان دھوپ سینک رہا تھا۔ ’’آپ اسی علاقے کے رہنے والے ہیں؟‘‘ میں نے معلومات حاصل کرنے کی غرض سے گفتگو شروع کر دی۔ ’’ہاں جی…میں تو پیدا ہی یہاں ہوا تھا‘‘ اس نے ایک مسکین لہجے میں کہا۔ ’’یہاں کہاں؟‘‘ ’’اس حویلی میں‘‘ اس نے کہا۔ ’’آپ کرتے کیا ہیں؟‘‘ ’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ ’’اور آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ’’مٹھو‘‘ ہم نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ ’’آپ کا اصل نام تو کوئی اور ہو گا؟‘‘ ’’پتہ نہیں جی…مجھے بچپن سے ہی سب لوگ مٹھو کہتے ہیں۔ آپ نے میری حویلی دیکھنی ہے؟‘‘ ’’ہاں جی ہم تاریخی آثار دیکھنے کے لیے ہی اس علاقے میں آئے ہیں‘‘ اس کے برابر میں نانک شاہی اینٹوں سے تعمیر کردہ ایک بوسیدہ دیواریں، ایک محراب نمایاں ہو رہی تھی ’’آ جاؤباؤجی‘‘ اندر نیم اندھیارے میں آگے پیچھے دو کمرے تھے جن کی محرابوں کی بناوٹ اگرچہ خستہ ہو چکی تھی لیکن ان کا طرز تعمیر نہایت پرکشش تھا۔ دیواروں کا پلستر اکھڑ چکا تھا اور ننگی بھر بھری اینٹیں دھوئیں سے سیاہ ہو چکی تھیں۔ یہ مٹھو کی حویلی تھی، وہ سردیوں میں آگ جلا کر اپنے بدن کو سردی سے بچاتا ہو گا جس کی وجہ سے گنبد کی چھت بھی سیاہی کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔ ان دونوں کوٹھڑیوں کے پچھواڑے میں ایک اور قدیم فصیل نما دیوار کے آثار تھے۔ اس سینکڑوں برس پرانی تعمیر میں سانس لیتے ہوئے میرے اندر ایک خواہش بیدار ہوئی۔ اگر مٹھو کی حویلی کے یہ دو کھنڈر نما محرابی کمرے میری ملکیت ہوتے تو میں کیسے ان کی صفائی ستھرائی کر کے ان کی آرائش کرتا، اپنی کتابیں اور لکھنے کی میز یہاں منتقل کر کے اسے اپنی سٹڈی میں تبدیل کر دیتا۔ گئی رات کو کسی ناول یا سفرنامے کے مسودے پر جھکے مجھے کیسے کیسے عجب قیاس آتے کہ وہ کون لوگ تھے۔ جو اس حویلی کے ان کمروں میں شبیں بسر کرگئے۔ ان کی حیات کے شب و روز کیسے بسر ہوتے تھے۔ شاید کوئی شہزادی کسی غلام کے عشق میں فنا ہو کر ان نیم پوشیدہ کوٹھڑیوں میں اسے ملنے آتی ہو۔ کتنے لوگوں نے ان صدیوں میں ان شکستہ محراب اور آماجگاہوں میں اپنے آخری سانس لئے۔ اور اب اس حویلی میں مٹھو رہتا ہے۔ ہم نے شکرانے کے طور پر مٹھو کی مٹھی تھوڑی سی گرم کر دی تاکہ وہ کچھ امرود وغیرہ خرید سکے کہ امرود مٹھوؤں کی پسندیدہ خوراک ہوا کرتی ہے۔ مغل پورہ اور بیگم پورہ کے علاقوں میں ارائیں برادری کی اکثریت ہے اور اگر مٹھو بھی ارائیں تھا تو ہم اسے آسانی سے یہاں مٹھو پکار سکتے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker