کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

جب ضیاء الحق کو شہید قرار دیا گیا ۔۔ مستنصر حسین تارڑ

یہ اُن بیت چکے زمانوں کا قصہ ہے جب میں پی ٹی وی کی اولین صبح کی نشریات کا مرکزی میزبان ہونے کے حوالے سے اسلام آباد کے ایم این اے ہوسٹل میں مقیم تھا۔۔۔ مری میں میڈیا اور نشریات کے موضوع پر منعقد کردہ ایک سیمینار میں ملک بھر سے مدعو کردہ ٹیلی ویژن ڈرامہ نگار، میزبان، اداکار اور پروڈیوسر شریک تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ابا جی اور امی جی جو ان دنوں اسلام آباد میں میرے چھوٹے بھائی کرنل مبشر کے ہاں مقیم تھے مجھے ملنے کے لیے مری آئے تو حسینہ معین اور عبدالقادر جونیجو نے خاص طور پر میرے ابا جی کی شاندار اور مہربان شخصیت سے متاثر ہو کر مجھ سے درخواست کی کہ ہم آپ کے والدین کے ساتھ ایک تصویر کھنچوانا چاہتے ہیں۔ اس دوران شعیب منصور اور مرحوم حمید کاشمیری بھی اس گروپ فوٹو میں شامل ہو گئے۔ پی ٹی وی میں ان دنوں دو نثار ہوا کرتے تھے۔ ایک محمد نثار حسین جو ایم این ایچ کہلاتے تھے اور یہ وہی تھے جنہوں نے مجھے ایک اداکار کے طور پر اپنے ایک ڈرامے میں کاسٹ کر کے متعارف کروایا اور دوسرے خواجہ نثار حسین تھے، جو کے این ایچ کہلاتے تھے۔ نہایت خوش شکل اور خوش لباس، ٹی وی کے پہلے ڈرامے کے پروڈیوسر، ایک پکے لاہورئیے جو ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہو جانے کے باوجود بسنت کے موقع پر پتنگیں اڑانے کے لیے خصوصی طور پر لاہور پہنچ جاتے تھے۔ خواجہ نثار بھی مری کے اس سیمینار میں مدعوتھے۔ ایک دھند آلود شام میں چائے سُرکتے مجھ سے کہنے لگے ’’پی ٹی وی پر ہم لوگ شام کے علاوہ صبح کی نشریات کے آغاز کے امکانات کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اس کے مرکزی میزبان کے چناؤ کے لیے تمام سٹیشنوں پر خصوصی آڈیشن لیے جائیں گے۔ میری خواہش ہے آپ بھی آڈیشن ضرور دیں‘‘۔۔۔ دو ہفتے بعد صبح کی نشریات کے آڈیشن ریکارڈ ہوئے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک معروف میزبان نے ایک اخباری انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بھلامیرے علاوہ پاکستان میں اور کون ہے جو ان نشریات کو سنبھال سکتا ہے۔۔۔ میرا چناؤ ہو چکا ہے۔۔۔ قصہ مختصر میرا آڈیشن ہیڈ کواٹر میں بہترین قرار دیا گیا اور صبح کی نشریات ’’صبح بخیر‘‘ کے آغاز کے لیے لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ اس کے پہلے پروڈیوسر خالد محمود زیدی تھے جو اس سے پیشتر میرا پنجابی سیریل ’’چانن تے دریا‘‘ پروڈیوس کر چکے تھے۔ بریگیڈیئر ٹی ایم کے چھوٹے بھائی تھے۔ ٹی ایم ایک پیرا شوٹ جمپ کے دوران پیرا شوٹ نہ کھلنے سے گوجرانوالہ کے قریب شہید ہو گئے تھے۔ نشریات کا شیڈول بے حد جان لیوا تھا۔ ہر صبح چار بجے بیدار ہو کر تیار ہوتا، ناشتہ کرتا اور پھر ٹیلی ویژن سٹیشن کی جانب پیدل روانہ ہو جاتا۔ اس دوران اکثر ٹی وی کی گاڑی میرے ساتھ چلتی جاتی اور اس میں اکثر ان زمانوں میں گمنام افضل ریمبو میری دیکھ بھال کے لیے بیٹھا ہوتا۔ پورے سات بجے میں آن ایئر جاتا۔۔۔ نشریات نو بجے اختتام کو پہنچتیں۔۔۔ واپس ہوسٹل جا کر آرام کرتا، دوپہر کے کھانے کے بعد پھر ٹی وی سٹیشن، اگلے روز کے پروگراموں کو دیکھتا، سکرپٹ کے لیے نوٹس تیار کرتا، پھر واپس کمرے میں آکر سکرپٹ لکھتا اور رات کا کھانا کھا کر ساڑھے نو بجے سو جاتا۔۔۔ چنانچہ شبینہ حرکات بے حد محدود ہو گئیں۔۔۔ ویک اینڈ پر اپنے بال بچوں سے ملنے لاہور آجاتا۔
ایک شب میں حسب معمول تقریباً دس بجے نیم خوابیدہ کیفیت میں ایک اونگھ میں جا چکا تھا جب ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہ اٹھایا کہ میں اپنی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن پھر فون بار بار آنے لگا چنانچہ میں نے تنگ آ کر اٹھا لیا، دوسری جانب خواجہ نثار تھے جو صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے۔ کہنے لگے ’’آپ سو رہے ہیں؟‘‘ میں نے بیزار ہو کر کہا ’’ہاں۔۔۔ لیکن اب نہیں سو رہا‘‘ کہنے لگے ’’آپ نے نو بجے کی خبریں نہیں سنیں؟‘‘
’’نہیں، میرے پاس تو ٹیلی ویژن نہیں ہے۔۔۔ کیا کوئی خاص خبر ہے؟‘‘ خواجہ نثار کھانس کر بولے ’’ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے قریب کریش کر گیا ہے اور وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا۔۔۔ کل صبح نشریات کے آغاز میں آپ پہلے شخص ہوں گے جو آن ایئر جائیں گے اور ضیاء الحق کی ہلاکت کی تفصیلی خبر دیں گے تو کچھ تیاری کر لیجیے۔ بے حد اہم ٹرانسمیشن ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہو گی‘‘۔
ضیاء الحق اور میرے درمیان جو کچھ بھی تھا بہر صورت محبت یا پسندیدگی نہ تھی۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔۔۔ چنانچہ اس کی ہلاکت کی خبر سن کر میں ایک غیر جانبدار سناٹے میں چلا گیا۔ اسلام آباد میں چند بار اس کی بیٹی زین سے ملاقات ہوئی اور وہ ایک پیاری اور محبت کرنے والی بچی تھی۔ صبح کی نشریات کی شیدائی تھی۔ ایک بار اس نے مجھے اپنی سالگرہ پر بھی مدعو کیا اور میں صرف اس لیے نہ جا سکا کہ ان دنوں میں لاہور میں تھا۔ مجھے اس لمحے صرف زین کا خیال آیا کہ اس کا باپ مر گیا ہے، وہ ایک اپاہج بچی کیا محسوس کرے گی۔۔۔ جیسے مجھے بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر کا خیال آیا تھا۔
’’نثار۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اگلے چند روز کے لیے میری بجائے کسی ایسے میزبان کی ڈیوٹی لگا دی جائے جو موقع کی مناسبت سے رنج و الم میں ڈوبی ہوئی نشریات کرے‘‘ لیکن نثار نے کہا کہ یکدم میری غیر موجودگی شکوک کو جنم دے گی۔ اس پر میں نے صرف یہ درخواست کی کہ جو کچھ کہنا ہے، اعلان کرنا ہے مجھے لکھ کر دے دیجیے گا میں پڑھ دوں گا۔
اگلی صبح نشریات کو کچھ اس طرح ترتیب دیاگیا کہ تازہ ترین خبریں اورصورت حال۔۔۔ پھر میرے اعلان۔ پھر ایک نعت رسول مقبولؐ اور پھرقاری عبدالرحمن صاحب قرأت کرتے تھے۔ میں اُن کی پرسوز قرأت کا دیرینہ مداح تھا چنانچہ اگلے دو روز اُن کی رفاقت میں گزرے۔ درمیان میں جب وقفہ ہوتا تو مجھے لطیفے سنانے لگتے اور کیمرہ آن ہوتے ہی بے حد سنجیدہ ہو جاتے۔ مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ یہ ضیاء الحق کی ہلاکت کا دوسرا دن تھا یا تیسرا جب نشریات کے دوران مجھے ایک چِٹ بھیجی گئی جس پر لکھا تھا کہ ابھی ابھی کابینہ یا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ضیاء الحق شہید ہیں چنانچہ آئندہ اُن کے لیے ہلاک ہو گئے، جاں بحق ہو گئے وغیرہ کی بجائے شہید ہو گئے، کہا جائے۔۔۔ چنانچہ ازاں بعد حکومتی فیصلے کے مطابق وہ شہید قرار دیے گئے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ ضیاء الحق کا جنازہ بہت بڑا تھا اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ بوقت مرگ کرسئ صدارت پر رونق افروز تھے۔ جنازے کی تفصیلات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں کہ براہ راست نشریات کے میزبان کیسے اشک بار ہوتے تھے اور کیسے انہوں نے فرط جذبات سے مغلوب ہو کر وہ بیان دیا جو تاریخ میں سنہری حرفوں میں لکھا گیا کہ کاش آج ضیاء الحق خود دیکھ سکتے کہ اُن کے جنازے میں کتنی دنیا آئی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ضیاء الحق کی دو تین برسیاں کتنی دھوم دھام سے منائی گئیں یہاں تک کہ ایک میں میاں نواز شریف نے بھی شرکت کی لیکن اس کے بعد ویرانی چھا گئی یہاں تک کہ اُن کے فرزند بھی شاید اُن کی برسی بھول جاتے۔ کہ اُن کی وراثت میں جتنا فائدہ اٹھانا تھا اٹھایا جا چکا۔ پچھلی عید پر ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں پاکستان کی مختلف ادبی، قلمی اور سیاسی شخصیات کی قبریں دکھائی گئیں کہ عید کے موقع پر وہاں کتنے لوگ فاتحہ پڑھنے آئے۔ سب سے زیادہ اجاڑ ضیاء الحق کا مدفن تھا۔۔۔ قبر پر سوکھے ہوئے پھول پڑے تھے اور ایک رکھوالا شکایت کر رہا تھا کہ لوگ ضیاء الحق کو بھول گئے ہیں۔۔۔ بہت کم لوگ فاتحہ پڑھنے آتے ہیں۔۔۔ ’مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے! ‘….

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker