کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

بابا گورو نانک کی قبر اور سمادھی ۔۔ مستنصر حسین تارڑ

گور دوارہ کرتار پور کی موجودہ محل نما عمارت 1921ء میں پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ نے تعمیر کروائی۔ اس مقام پر ظاہر ہے 1921ء سے پیشتر بھی کوئی یادگاری عمارت تو ہو گی جسے ڈھا دیا گیا۔ وہ قدیم گوردوارہ طرز تعمیر میں کس شکل کا تھا اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ اب یہ جو مہاراجہ بھوپندر سنگھ ہوا کرتے تھے تو مت پوچھیے کہ کیسے بھوپندر ہوا کرتے تھے۔ ان کے کارناموں کا سرسری تذکر بھی قلم کے لیے شرمندگی کا باعث ہو گا۔ ویسے انہی بھوپندر سنگھ کے فرزند ارجمند جو مشرقی پنجاب میں صاحب اقتدار رہے وہ بھی ابا جی سے کچھ کم نہ نکلے۔ ایک پاکستانی صحافی خاتون کو واقعی لے اڑے یعنی وہ ان کے ہیلی کاپٹر میں اکثر سو رہتی تھی نام کیا لوں، دہائی ہے پاکستان کی رسوائی ہے۔
مجھ سے پہلے میرے افسانے اسی گلی میں جا چکے تھے چنانچہ یہاں کے انچارج ایک نوخیز سکھ سردار مدن سنگھ نام کے سٹاف کے دیگر عملے کے ہمراہ ہمارے استقبال میں بچھ بچھ گئے۔ ان کے ہمراہ سندھ سے آیا ہوا ایک یاتری سردار ساگر سنگھ تھا۔ یہ سندھ ساگر کی مانند تو نہ تھا ذرا گول مٹول سا ساگر تھا۔ دیگر گوردواروں کی مانند یہاں بھی دیواروں پر بابا گورو نانک کے اقوال درج تھے ایسے کہ وہ کسی بھی مسلمان درویش کے بھی ہو سکتے تھے۔
من جیتے جگ جیت، جو انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔ وہ ساری دنیا کو جیت لیتا ہے۔اے نانک اللہ تعالیٰ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کتنا بڑا ہے۔
تو سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے اور تو ہی ہر جگہ عبادت کے لائق ہے سلام اس کو جو ہر رنگ میں موجود ہے۔ گناہوں کو معاف کرنے والا۔ خدا کی حمدو ثنا سننے سے ہمارے دکھ پریشانیاں اور گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔ توہی سب کو مارنے اور پالنے والا ہے تو ہی مکمل بخشش کرنے والا ہے تو ہر شے میں موجود ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کی بات جانتا ہے اے نانک اللہ تعالیٰ کی بندگی کے بغیر زندگی بیکار ہے۔
اے انسان اس عارضی دنیا کا غرور نہ کر، اس کی کچھ حیثیت نہیں یہ محض ایک خواب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے انسان کے سب کام سنور جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرے انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر اختیار رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ کی کوئی ذات پات نہیں، وہی عقل و علم والا ہے۔
گورو نانک کی موت کے بعد اگر مسلمانوں نے دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان تھے تو وہ حق پر تھے کہ ان کے مذہبی استدلال کی بنیاد توحید تھی اور میں پہلے بھی کہیں تفصیلی شواہد لکھ چکا ہوں کہ واحدانیت پر جتنا مکمل ایمان سکھ مذہب میں ہے اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ ان کے گوردواروں میں کوئی بت تو کیا کوئی تصویر، کوئی نقش کوئی تصویر نہیں ملتی یہاں تک کہ بابا نانک کی شبیہ بھی نہیں ہو گی۔ انہوں نے ہند کے بُت کدے میں سے سب بتوں کو نکال باہر کیا اور صرف ایک واحد اللہ پر ایمان لائے۔ وہ اگر جھکتے اور متھا ٹیکتے ہیں تو نانک کے سامنے نہیں بلکہ گرنتھ صاحب کی کتاب کے سامنے جسے وہ خدا کا کلام قرار دیتے ہیں اور گرنتھ صاحب میں جہاں نانک اور کبیر کے سوا دیگر صوفیا کرام کا کلام ہے وہاں سب سے زیادہ مقدس ان کے نزدیک بابا فرید شکر گنج کا کلام ہے اور یہ کلام کب کا ضائع ہو چکا ہوتا اگر گرنتھ میں محفوظ نہ ہوتا۔
اٹھ فریدا ستیا، صبح نماز گزار
اٹھ فریدا ستیا جھاڑو دے مسیت
توں ستا رب جاگدا، تیری ڈاہڈے نال پریت
تمام گوردواروں میں صرف گرنتھ صاحب ایک سجے ہوئے تھڑے پر کھلی ہوتی ہے اور اسے رات دس بجے ان کے بیڈ روم میں لے جا کر اس کے پلنگ پر سلایا جاتا ہے اور سویرے سویرے جگا کر واپس اس کے مقام پر رکھ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں گرنتھ صاحب کے بیڈ روم میں ایئر کنڈیشنر آن کیے جاتے ہیں اور سردیوں میں بجلی کے ہیٹر جلائے جاتے ہیں اب یہ ”بندوبست“ ہمیں تو شاید مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں بھلا ایک کتاب کو گرمی کیسے لگ سکتی ہے۔ سردی میں اسے نمونیہ تو نہیں ہو جائے گا اگر ہیٹر نہ جلائے جائیں لیکن اس طرز عمل کا ان کے ہاں ایک جواب ہے۔ ایک توجیہہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ خدا کا کلام ہے اور اس کا کلام بے جان نہیں ہوتا۔ زندہ ہوتا ہے اس لیے ہم اسے موسموں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ویسے ہر مذہب میں کچھ ایسے عقیدے ہوتے ہیں جن پر دوسرے مذہبوں والے مسکراتے ہیں۔ میں سکھ مذہب سے بہت واقفیت نہیں رکھتا البتہ گورونانک کی حیات سے کچھ کچھ شناسا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ نانک باطنی طور پر ایک کلمہ گو تھے۔ وہ میرے پیغمبرؐ کے پیرو کار تھے روایت کے مطابق وہ حج کے لیے بھی گئے انہوں نے میرے رسولؐ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہند کے بت کدے میں ہزاروں برسوں سے پرستش کیے جانے والے سب جھوٹے خداؤں کو پاش پاش کر کے، صرف ایک اللہ کا نعرہ توحید بلند کیا۔
بابا نانک نے میرے پیغمبر سے عاجزی اور انکساری سیکھی۔ غریبوں اور یتیموں سے محبت سیکھی۔ اسلام میں ثواب کے جو احکام ہیں ان میں لوگوں کو کھانا کھلانا اور لنگر کا اہتمام کرنا ہے جو نانک نے بھی مستعار لیا۔ جتنے بھی کرم نانک پر ہوئے وہ سب میرے آقاؐ کی طفیل تھے تو پھر سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان یہ عداوتیں اور قتل و غارت کی داستانیں کہاں سے آ گئیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے سب سے مقدس مقام دربار صاحب امرتسر کی بنیاد رکھنے کے لیے پہلی اینٹ جوڑنے کے لیے ہمارے میاں میر صاحب کا چناؤ کیا اور میاں میر صاحب سکھ گورو حضرات کے بھی معتقد تھے۔ وہ جو دشمنیاں اور نفرتیں تھیں وہ سب کی سب سیاسی نوعیت کی تھیں۔
گوردوارے کے کھلے صحن میں ریشمی لبادوں میں ڈھکی ہوئی تقریبا چوکور ایک قبر سی تھی ایک چھت نہیں، عارضی سائبان کے سائے میں ایک پژمردہ سی بیل تھی جو اس سائبان سے لپٹی ہوئی تھی اور ہرے رنگ کے ایک بورڈ پر یہ عبارت اس مقام کی نشاندہی کرتی تھی
”اول اللہ نور اپایا قدرت کے سب بندے
اک نور تے سب جگ اُچیا کون بھلے کو مندے“
یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں پر بابا گورو ناک دیو جی مہاراج کے پھول اورچادر کی تدفین کی گئی ہے۔
عجب سادگی تھی کہ نہ کوئی شاداری نہ قبر پر کوئی طلائی گنبد اور نہ ہی سونے چاندی کی چادریں اور نہ ہی بابا نانک کے پیروکاروں نے وہاں کوئی سجدہ کیا یہاں تک کہ بوسہ بھی نہ دیا کہ وہ صرف گرنتھ صاحب کے سامنے جھکتے اور اسے چومتے تھے۔
اگر میں نے نانک کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی تو کیا کچھ برا کیا۔ گورودوارے کی مرکزی عمارت کے پہلے دروازے میں سے جھک کر داخل ہوئے تو وہاں بابا نانک کی سمادھی تھی جہاں ان کے ہندو پیروکاروں نے ان کے پھولوں کو نذرآتش کیا یہ مقام بھی اگرچہ بناوٹی پھولوں اور گل دستوں سے سجا ہوا تھا پر یہاں بھی کوئی شاندار اور عالی شان سجاوٹیں نہ تھیں۔
سردار مدن سنگھ مجھے آگاہ کرتاچلا جاتا تھا اگرچہ میں بھی آگاہ پہلے سے تھا۔ بابا نانک اپنے بال بچوں سمیت یہاں منتقل ہوئے اور اپنی حیات کے آخری اٹھارہ برس یہاں بسرکیے۔ وہ کھیتی باڑی بھی کرتے تھے یہاں سے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر وہ روزانہ ڈیرہ کرتے تھے۔ اپنے پیرو کاروں اور مریدوں سے ہمکلام ہوتے تھے جب ملک تقسیم ہوا تو کرتار پور پاکستان میں آ گیا اور وہ نانک کا ڈیرہ، ”ڈیرہ بابا نانک“ ہندوستان میں چلا گیا۔
مدن سنگھ نے اشارہ کیا جب ہم گوردوارے کی چھت پر کھڑے تھے اور آس پاس تاحد نظر کھیتوں کی ہریاول پھیلی ہوئی تھی۔ ”تارڑ صاحب وہاں ڈیرہ بابا نانک کے قصبے میں انہوں نے ایک مچان تعمیر کر رکھا ہے اور وہاں دور بین نصب ہیں۔ وہاں پر دوپہر لوگ جمع ہوتے ہیں دوربینوں کی مدد سے گوردوارہ کرتار پور کو نظر میں فوکس کرتے ہیں اور روتے ہیں، عبادت کرتے گرنتھ صاحب کا ورد کرتے ہیں۔“
ہم میں سے کسی نے کہا تقسیم کرنے والے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بے دریغ ایک لکیر کھینچ دی۔ کیا برا تھا اگر ڈیرہ بابا نانک کو بھی پاکستان میں شامل کر لیا جاتا یا پھر کچھ حرج تھا کہ کرتار پور بھی ادھر چلا جاتا۔
ہم بہت حیرت میں ہوتے کہ کرتار پور گوردوارے کی یاترا کرنے والے بے شمار لوگ تھے۔ چلے آتے تھے اپنے خاندانوں سمیت اور مدن سنگھ کا کہنا تھا کہ ان میں بیشتر مسلمان ہیں۔ کچھ سندھ کے ہندو بھی جو بابا نانک کے ماننے والے ہیں اور کچھ عیسائی بھی ہیں۔ اوقاف کی جانب سے یہاں متعین کردہ اہلکاروں میں پانچ ہندو، پانچ عیسائی، تین سکھ اور تین مسلمان ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی کا جو مظاہرہ میں نے کرتار پور میں دیکھا اس نے میرے دل کو خوش کر دیا۔ میں نے شکر گڑھ سے آئے ہوئے ایک شخص سے پوچھا اور وہ مجھ سے لپٹ لپٹ کر اصرار کر رہا تھا کہ میرے ساتھ شکر گڑھ جائے، میں نے پوچھا کہ آپ مسلمان ہیں تو یہاں کیوں آئے ہیں تو اس نے کہا بابا جی بھی تو مسلمان تھے وہاں ایک مسلمان الیکٹریشن سے ملاقات ہوئی کہنے لگا مجھے بہت ناز ہے کہ میں بابا نانک کے آستانے کو روشن رکھتا ہوں۔
ہم نے وہاں کڑاہ پرشاد یعنی حلوہ چکھا اور پھر مدن سنگھ کے اصرار پر لنگر کے دال چاول ایک آدھ لقمہ کھائے اور وہ بہت ذائقے والے تھے۔ شہر نارووال کے ایک ریستوران میں نعیم کے دوست شکور صاحب نے ہمارے لیے بہت اہتمام کر رکھا تھا۔
ہماری کوچ۔ رات کی تاریکی میں شاہدرہ کے داخلے پر پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی۔ رضیہ غنڈوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ تنویر خواجہ اپنی نشست پر براجمان نماز ادا کر رہا تھا۔
”ُاٹھ فریدا ستیا، صبح نماز گزار“

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker