کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

زرد چینی شہزادیوں کی لاہور میں بہار: ہزار داستان / مستنصر حسین تارڑ

کیا ان دنوں اہل لاہور میں سے کسی نے غور کیا ہے۔ آس پاس نگاہ کی ہے کہ ہر سو ایک زرد قیامت آئی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان پر بھی عمل نہیں کرتے کہ غور کرو‘ فلاں شے میں تمہارے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ نہ جی اہل لاہور اور غور ۔ توبہ ۔ توبہ اپنے بارے میں خود ہی المشہور کر رکھا ہے کہ ہم زندہ دلان ہیں‘ ہاں اگر غور کرتے ہیں تو نہاری‘ سری پائے ہریسہ اور بونگ وغیرہ پر کرتے ہیں جنہیں کھا کھا کر ان کے دماغوں میں بھس بھر گیاہے(جی ہاں آج میرے اندر کا ’’پت پینڈو‘‘ جاگ گیا ہے اور میں شہر والوں کے خلاف صف آرا ہو گیا ہوں) صرف لاہوریوں کے دماغوں میں ہی نہیں بلکہ ان کے نااہل لیڈروں کے دماغ میں بھی صرف ایک ٹیپ مسلسل چل رہی ہے جو فریاد کرتی چلی جاتی ہے کہ مجھے کیوں نکالا ‘ مجھے کیوں نکالا۔

بہرحال اے اہل لاہور دفع کیجیے کہ آپ کے آس پاس ان گرم سلگتے موسموں میں باغوں‘ گلیوں نہر کناروں اور پارکوں وغیرہ میں ایک زرد قیامت آئی ہوئی ہے۔ اس قیامت کی صورت چین کے منگ شاہی خاندان کی نازک ملوک زرد زرد شہزادیوں ایسی ہے۔ شہر لاہور میں چینی شہزادیاں ہر سو زرد آگ لگاتی ہیں یعنی ہر باغ میں‘ نہر کنارے‘ شاہراہوں کے آس پاس ‘ پارکوں میں اور خصوصی طور پر ماڈل ٹائون پارک میں تو یہ زرد شہزادیاں اتنے جوبن پر ہیں کہ ان کی جانب ایک نظر کرو تو وہ تمہیں اپنا اسیر کر لیں۔ اپنے زرد رنگ میں یوں رنگ دیں کہ جیسے یہ بسنت بہار ہو۔ صرف ایک فرق کے ساتھ کہ بسنت ہمیشہ خوشگوار اور بدلتے موسموں میں آتی ہے۔ جب سرسوں کے کھیت پیلے پڑ جاتے ہیں تب آتی ہے جب کہ ان چینی شہزادیوں کی زرد کہکشاں صرف تب لاہور میں اترتی ہے جب مئی جون کے مہینے تندور ہوتے ہیں۔ گرمی کے پگھلتے ہوئے تیر ہر سرسبز بوٹے کو چھید ڈالتے ہیں۔ کہیں بھی کوئی ایک پھول نہیں کھلتا اور تب املتاس کے پھول کھلتے ہیں۔ چین کی زردشہزادیاں لاہور پر یلغار کر دیتی ہیں۔

املتاس کی زرد آگ جنگل کی آگ کی مانند پھیل جاتی ہے اور مجھے دکھ ہوتا ہے کہ بہت کم لوگ غور کرتے ہیں کہ ان کے ارد گرد ان کے شہر میں زرد رنگ کی چینی شہزادیاں لاہور کو ایک کاروان سرائے جان کر بس کچھ دیر کے لیے مہمان ہوتی ہیں اور پھر شتابی ہی رخصت پر آجائے گی اور املتاس کے درختوں کے ہاتھ خالی ہو جائیں گے۔ میں صدق دل سے گواہی دیتا ہوں کہ میں نے دنیا کے بہت سے شہر بہار میں دیکھے ہیں۔ جب ہالینڈ میں ٹیولب کے کھیت رنگین ہوتے ہیں انگلستان کے جھیلوں کے ضلع میں نہ صرف ڈھلوانوں پر پھول کھلتے ہیں بلکہ ولیم ورڈز ورتھ کی شاعری میں افق تک افق نرگس کے پھول سجتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ ورڈز ورتھ کے مکان’’ڈوکاٹج‘‘ کو دیکھنے کے بعد مقامی کلیسائیں اس کی قبر پر تقریباً ’’فاتحہ‘‘ پڑھنے کے بعد ہم وہاں گئے، کہاں گئے؟ جہاں ورڈز ورتھ نے بے انت ’’ڈیفوڈلز‘‘ جھومتے دیکھے تھے اور یقین کیجیے جھیل کنارے سوائے کیچڑ کے اور کچھ نہ تھا۔ بتایا گیا کہ ان زمانوں میں یہاں ڈیفوڈلز کھلا کرتے تھے۔ تصور کی آمیزش کر کے اس شاعر فطرت کے نرگس کے پھول دیکھے۔

اے اہل لاہور ہمیں تصور کی آمیزش کی کچھ حاجت نہیں‘ ذرا غور کیجیے ان دنوں باغوں میں بہاروں میں املتاس کے شجروں میں ایک زرد آگ لگی ہوئی ہے۔ ان کی شاخوں سے زرد پھولوں کے گچھے یوں لٹکتے‘ ہوا میں جھومتے ہیں جیسے کسی چینی شاہی قصر میں لالٹنیں۔ ذرا غور کیجیے ان کے شگوفے ٹپ ٹپ گھاس میں زرد ہیروں کی مانند گرتے ہیں۔ اگر غور کیا تو شاید صرف ڈاکٹر انیس اور ڈاکٹر نسیم نے کیا۔ وہ ایک سویر غائب ہو گئے واپس آئے تو پوچھا گیا کہ کہاں چلے گئے تھے۔ کہنے لگے’’تارڑ صاحب‘املتاس صرف ماڈل ٹائون پارک میں ہی تو نہیں۔ یہ شہر کے بہت سے دیگر پارکوں میں بھی تو جوبن پر آئے ہوتے ہیں تو ہم ان کے دیدار کے لیے بھٹک بھٹک کر آئے ہیں۔

بہت برس پیشتر میں نے انہی املتاسی موسموں میں ایک منظر دیکھا تھا‘ ہیر بیوہ ہو گئی تھی۔ صاحباں کا مرزا بچھڑ گیا تھا اور بانو قدسیہ کا رانجھا اشفاق مر گیا تھا تو بانوں کبھی کبھار ماڈل ٹائون پارک میں سیر کے لیے آ جاتیں وہ جدائی کے سوگ میں قدرے جھلی ہو گئی تھیں۔ رانجھے کے خیال میں کھوئی رہتی تھیں تو ایک سویر وہ پارک کے ایک راستے پر سر جھکائے چلی جا رہی تھیں اور یہ وہی موسم تھے جب املتاس کے پیڑوں پر لالٹنیں جھولتی تھیں۔ ذرا سی ہوا چلتی کہیں سے کوئی ایک جھونکا سرگوشیاں کرتا آتا تو اس کے زور سے املتاس کے کچھ پھول شاخوں سے جدا ہو کر چکراتے ہوئے گرتے۔ جیسے کسی بچے کی چھوڑی ہوئی’’بھنبھیری‘‘ ذرا بلند ہوتی ہے اور پھر گھومتی ‘ چکراتی گرنے لگتی ہے تو املتاس کے ایک پھول کی بھنبھیری چکراتی ہوئی گری اور اس لمحے اس شجر کے تلے بانو آپا تھیں اور وہ ان کے سفید بالوں پر اتری اور ٹھہر گئی۔ یہ منظر میرے ذہن کے کینوس پر نقش ہو گیا۔ ایک سفید بالوں والی رنجیدہ عورت اور اس کے بالوں میں املتاس کا زرد پھول سجا ہوا اور وہ نہیں آگاہ کہ ایک پھول اس کے بالوں میں گھونسلا بنا کر ٹھہر گیا ہے۔

میں نے اس منظر کو اپنے ایک کالم میں تصویر کیا اور کچھ عرصے بعد بانو آپا کا ایک بہت مہربان خط آیا۔ شکائت بہت کی کہ مستنصر تم نے کیوں خبر نہ کی۔ مجھے تو بہت لوگوں نے بتایا کہ تم نے میرے بارے میں املتاس کے پھولوں کے حوالے سے ایک کالم لکھا ہے۔ تو میں نے فون پر معذرت کی کہ بانو آپا یہ املتاسی کالم میں نے آپ کے لیے تو نہیں‘ اپنے لیے لکھا تھا بلکہ چاہتا تھا کہ آپ کو خبر نہ ہو۔ ویسے میں کالم لکھ کر خبر کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ان دنوں بانو قدسیہ کا بیٹا اسیر بہت باقاعدگی سے اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتا سویرے سویرے ماڈل ٹائون پارک میں سیر کرتا ہے اور مجھے اس کی صورت میں بانو آپا دکھائی دیتی ہیں۔ اسیر نے جس طور اپنی ماں کا ساتھ دیا سب کچھ اس کے لیے ترک کر دیا۔ اس کی مثال کم کم ہی ملتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب ایک بارش بھری رات میں ‘ میں دانا باد سے لوٹ رہا تھا۔ مرزا اور صاحباں کے گائوں سے باہر ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لوٹ رہا تھا بلکہ مرزا کی گھوڑی بکی کی قبر کو دیکھ کر لاہور واپس آ رہا تھا تو اس بارش بھری رات میں کوچ کے ریڈیو پر بانو آپا کی موت کی خبر نشر ہوئی اور میں گھر جانے کی بجائے ماڈل ٹائون میں اتر گیا۔ برستی بارش میں ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے بانو آپا کو یاد کرتا رہا۔ اگلے روز انہیں اشفاق صاحب کے پہلو میں ایک گہری قبر میں دفن کیا اور مجھے یاد ہے کہ لحد کی گہرائی میں بانو آپا ایک بچے کی مانند ٹانگیں سکیڑے پڑی تھیں اور ہم ان پر مٹی ڈال رہے تھے۔ مجھے شائبہ سا ہوا کہ کفن کے اندر ان کے سفید بالوں میں ابھی تک املتاس کا ایک پھول سجا ہوا ہے اور وہ بھی بانو آپا کے ہمراہ دفن ہو گیا۔

ایسا ہرگز نہیں کہ املتاس کے زرد پھول صرف سوگواری کی علامت ہیں۔ وہ ہمیشہ۔ وہ چینی شہزادیاں۔ زرد اوڑھنیاں اوڑھے ہوئے پیلے گھونگھٹ مجھ پر ڈالے ہوئے مجھے ڈھارس دیتے ہیں کہ تمہارا تو یہی خیال تھا کہ شائد اس بار تم املتاس کی زرد بہار نہ دیکھ سکو۔ بہت جی چکے اب نہ جیو۔ کم از کم ایک چینی شہزادی کو تم دوبارہ نہ دیکھ سکو۔ عمر کی نقدی تمام ہونے کو ہے تو ان سلگتے اور تندور ہوتے موسموں میں جب میں ماڈل ٹائون پارک میں سویرے سویرے سیر کے لیے جاتا ہوں تو املتاس کے زرد پھولوں کے انبار مجھے اپنی آغوش میں لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم وعدہ نہیں کرتے لیکن ہم دوبارہ ملیں گے۔ تم اپنے محبوب رسول اللہ ؐ کی اونٹنی قصویٰ کے پیچھے پیچھے چلتے رہو اور پھر دیکھا کہ بے آب و گیاہ ویرانوں اور بیاباں صحرائوں میں بھی املتاس کے زرد پھول کھلتے چلے جائیں گے۔ اگر تم غور کرو تو۔ شہر لاہور میں ان دنوں ایک زرد قیامت اتری ہوئی ہے املتاس کے پھول جوبن پر ہیں اگر اہل لاہور غور کریں تو! آس پاس زرد چینی شہزادیاں اتری ہوئی ہیں۔ زرد زرد۔ املتاس کے رنگوں میں زرد زرد اگر تم غور کرو تو۔ ذرا سی ہوا کے چلنے سے املتاس کے زرد خوشوں سے جدا ہو کر ایک پھول ایک بھنبھیری کی مانند چکراتا اب میرے سفید بالوں پر اتر کر اٹک گیا ہے۔ اگر تم غور کرو تو۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker