تجزیےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا تجزیہ : سرائیکی خطہ تحریک طالبان پاکستان کی جنم بھومی

ندیم شاہ کی تحقیقی کاوش کا اجمالی جائزہ

برادرم ندیم شاہ نے سرائیکی خطے میں انتہاء پسندی کے موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب مجھے پندرہ نومبر کو عطا کی تھی ۔ میں نے ایک نظر ورق گردانی کے بعد یہ کتاب اس نیت سے ایک جانب رکھ دی کہ یہ سرسری مطالعے والی کتاب نہیں‌ ہے ۔
گزشتہ ہفتے جب تحریک طالبان پاکستان نے ایک ماہ کی جنگ بندی ختم کرنے کے بعد پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کیے تو مجھے اس کتاب کے فوری مطالعے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس میں کچھ اعداد و شمار اور معلومات ایسی ہیں کہ جو آج کی صورت حال کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوئیں ۔
ندیم شاہ صاحب کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ندیم کشمیری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ کشمیری اس لیے کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ سری نگر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔ان کے بھائی سید سیف الدین اب بھی سری نگر میں مقیم ہیں ۔ سیف الدین سری نگر میں جج کے عہدے پر فائز تھے لیکن جب وہاں آزادی کی تحریک نے شدت اختیار کی تو انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ اب وہ وہاں کی کچہری میں سینیئر قانون دان کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
زیر نظر کتاب میں ندیم شاہ صاحب نے جنوبی پنجاب میں انتہا پسندی کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔ قارئین محترم ہم عمومی طور پر یہ کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب ایک امن پسند خطہ ہے اور ہمارا دہشت گردی یا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب حقائق کی چھان بین کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب مفروضے ہیں اور یہ سب دعوے شاید ہم خود کو امن پسند ظاہر کرنے کے لئے اور اپنے خطے کی نیک نامی کے لیے کرتے ہیں ۔ ندیم شاہ صاحب نے بھی یہ تحقیقی کام (Saraiki Region Roots Of Radicalization ) شروع تو اسی لیے کیا تھا کہ وہ اس خطے کو امن پسند ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن جب انہوں نے کام کا آغاز کیا اور ایک غیر جانبدار صحافی کے طور پر چیزوں کو کھوجنا شروع کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ معاملات اس کے برعکس ہیں اور حالات ویسے نہیں جیسے بتائے جاتے ہیں ۔
ندیم شاہ نے اپنی اس کتاب میں مختلف مدارس ، مذہبی رہنماؤں ، ان کے باہمی روابط ، ایجنسیوں اور بین الاقوامی قوتوں کے کردار کا تفصیل کے ساتھ احاطہ کیا ہے ۔ کتاب میں ان آپریشنز کی بھی تفصیل ہے جو مختلف اوقات میں‌دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے ۔ ان میں آپریشن ردالفساد اور ضرب آہن قابل ذکر ہیں ۔
جامعہ خیر المدارس ملتان ، دارالعلوم مدینہ بہاولپور اور الرشید ٹرسٹ کا تفصیلی تعارف اس کتاب میں موجود ہے اور اس کے ساتھ ہی انتہا پسندی کے فروغ میں ان اداروں کے کردار کو بھی بھر پور انداز میں زیر بحث لایا گیا ۔ مختلف قوموں اور مختلف برادریوں اور گروپوں نے اس حوالے سے جو کردار ہے وہ بھی کتاب میں بیان کیا گیا ہے خاص طور پر راجپوت ارائیں‌ اور سید اس انتہا پسندی کے پھیلاؤ میں بالترتیب پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر کیا کردار ادا کر رہے ہیں ؟ شاہ صاحب نے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور دلائل اور حوالوں کے ساتھ ان کے اس کردار کو ثابت کیا ہے ۔ سرائیکی خطے میں لشکر جھنگوی ، جماعت الفارو ق ، لشکر خراسان تحریک طالبان جیسے عسکری گروپ بھی سرگرم ہیں اور یہاں سے انہیں مالی اور افرادی قوت بھی فراہم کی جاتی ۔ جہاد الاسلامی امجد فاروقی گروپ اور سلفی نیٹ ورک کے نام بھی اس حوالے سے قابل ذکر ہیں ۔۔ ندیم شاہ کے بقول تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد بھی اسی علاقے میں رکھی گئی اور کم و بیس سات عسکری گروپوں کا ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے ساتھ تعلق تھا ۔ انہوں نے لکھا ہے 2016 میں تحریک طالبان پاکستان کے لیے بہاول پور، کبیروالا، ڈیرہ غازی خان اور لیہ سے بھرتیاں کی گیئں۔
اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اعدادوشمار دیے گئے ہیں مختلف مدارس کے مہتتم حضرات کے انٹرویوز اور دیگر تفصیلات بھی اس کتاب میں شامل ہیں ۔
ندیم شاہ صاحب نے دارالعلوم مدینہ بہاولپور سے انتہا پسندی کی جڑیں تلاش کی ہیں خاص طور پر حرکت الجہاد اسلامی ، جیش محمد ، القاعدہ اور ایسی ہی بہت سی تنظیموں کی سپلائی لائین اسی مدرسے میں ہے اس دارالعلوم کو زیادہ شہرت مولانا اظہر مسعود سے حاصل ہوئی جنہیں بھارتی مسافر طیارے کے ہائی جیکروں کے مطالبے پر بھارتی جیل سے رہائی ملی ۔ رہائی کے بعد سے وہ یہاں مقیم ہیں اور بظاہر نظر بند ہونے کے باوجود متحرک ہیں ۔
حاصل کلام یہ کہ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے جن الزامات کا سامنا ہے وہ ختم ہوں اور دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں کارروائی ہو تو انہیں ریاست کا اثاثہ قرار دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی ۔ دہشت گردی کے تدارک کے لیے اگر سنجیدہ کوشش کی جائے تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے ۔ ورنہ ہمیں دنیا دہشت گرد بھی کہے گی اور ہمیں فیٹف کی گرے لسٹ سے بھی نہیں نکالا جائے گا ۔
ندیم شاہ کی یہ کتاب ایک حوالے کی دستاویز ہے ۔ کتاب کا پیش لفظ آئی اے رحمان نے بہت تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ آئی اے رحمان کے بھانجے راشد رحمان بھی ملتان میں دہشت گردی کا شکار ہوئے اور انہوں نے نشانہ بننے سے چند روز قبل ندیم شاہ کو بتایا تھا کہ میں دہشت گردوں کے نشانے پر ہوں اور اگر مجھے قتل کیا گیا تو فلاں فلاں وکیل اس کا ذمہ دار ہو گا ، ندیم شاہ نے دی نیوز میں یہ خبر بھی دی قاتلوں کے نام بھی لکھے لیکن قاتل پکڑے جاتے تو خاک نشین کا خون رزق خاک کیسے ہوتا ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker