اختصارئےلکھاریناصر محمود شیخ

حافظ بمقابلہ ریواڑی..ہردکان اعتماد کا نشان؟۔۔ناصر محمودشیخ

ریواڑی والے ملتان میں جیسے سوھن حلوے کی صنعت پر حافظ نام کی حکمرانی نظر آتی ہے۔اورچوک فوارہ جائیں تو دو سو سے زیادہ دکانوں پر حافظ کا سوھن حلوے کا بورڈ نظر آتا ہے۔ ہر حافظ نے اپنے نام کے ساتھ ٹریڈ مارک بھی کم وبیش ایک ہی لکھا ہوا ہے۔اورسب اپنے حلوے کودوسرے حفاظ کرام کے حلوؤں سے بہتر اور لذیز قرار دیتے ہیں۔ہمارا چونکہ اس بات پر یقین ہے کہ حفاظ کرام جھوٹ نہیں بولتےاس لیے ہم سب کی بات پر یقین کرتے ہیں اورباری باری سب کی دکان سے حلوہ خرید کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ خدانخواستہ ان کا حلوہ لذیذ تونہیں۔
اسی طرح ملتان میں مٹھائی کی صنعت پرریواڑی والوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ اب تو ریواڑی چنے، ریواڑی سموسے اور ریواڑی دہی بھلے بھی میدان میں آچکے ہیں ۔مٹھائی کی آڑ میں اپنا سکہ جما رہے ہیں۔ ریواڑی دہلی سے چند کلو میٹر دور واقع ہے ۔قیام پاکستان کے بعدوہاں کے بہت سے افراد ہجرت کرکے اس لئے ملتان آئے کہ یہ ان کے پیر ومرشد حضرت غوث بہاوالحق کا شہر ہے ۔انکی اکثریت کو موجودہ رشید آباد (جو اس وقت شہری حدود سے باہر تھا)میں رہائشی مکانات الاٹ کئے گئے۔ الاٹ کرنے والے بیوروکریٹ کا نام محمد رشید تھا۔ اس بستی کا نام ان کی محبت اور دیانتداری کی وجہ سے رشیدآباد رکھ دیا گیا۔ملتان میں ریواڑی والوں کا لباس سفید شلوار سوٹ، سفید ٹوپی ہے ۔مذہبی رجحان ان کی پہچان ہے۔ اپنی آمدن کا بڑا حصہ مدرسوں اور تبلیغ دین پر خرچ کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی رسومات خوبصورت ہیں ۔ہر نکاح مسجد میں ہوتا ہے۔ بارات والے بیٹی والوں کے گھر سے کھانا نہیں کھاتے ۔بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں سے حصہ شادی سے پہلے ادا کرد یتے ہیں ۔اپنی منصوعات میں صحت صفائی کے اصولوں کا خیال رکھتے ہیں اور انہی وجوہات کی بناءپر ان کا کاروباردن دگنی رات چوگنی ترقی کررہاہے۔ خامی صرف ایک ہے کہ دہی بھلے اور سموسے تو انہوں نے بنا لیے لیکن شوگر فری مٹھائی نہیں بناسکے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker