کالملکھاریناصر ملک

مدیرزدہ ادیب، فیس بک اور ظفر اقبال کی لٹھ : شہرِ خیال / ناصر ملک

ماضیءِ قریب میں اخبارات کے ادبی صفحوں، ادبی مجلوں، ڈائجسٹوں اور ہفتہ وار میگزینوں کے مدیر اردو ادب میں خاصا اثر رکھتے تھے۔ یہ بھی متاثرین کی طرف سے واویلا بلند ہوا تھا کہ ناکام ادیب اپنے آپ کو ادبی دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے مدیر بن جاتا ہے۔ ادبی محافل اور مشاعروں میں ان ادیب کم مدیران کو بڑی پذیرائی ملا کرتی تھی کیونکہ محفل میں شریک ہر ادیب اور شاعر اگلے دن کے اخبارات، اگلے ہفتے کے میگزین اور اگلے ماہ کے شمارے میں اپنا نام اور کلام دیکھنے کا اسی طرح شیدائی ہوتا تھا جس طرح امریکی سائنس دان چاند پر پہنچنے کے شائق تھے۔
اس جملہ داخلی و خارجی اختیارات کے حامل مدیر کے مزاج پر موقوف ہوا کرتا تھا کہ وہ بھیجے گئے مضمون یا کلام کو اخبار کی زینت بنائے یا بسم اللہ پڑھ کر اپنی ردی کی ٹوکری کا پھولا ہوا پیٹ بھر دے۔ ان مدیران میں کہیں کہیں کیا، بکثرت پڑھے لکھے اور یارانِ اردو مدیر بھی پائے جاتے تھے جو نہ صرف تحریر کی اصلاح کر دیا کرتے تھے بلکہ نہ شائع ہونے والی تحریروں سے اردو ادب کی جان بھی ہمیشہ کے لیے چھڑا دیا کرتے تھے۔بجا طور پر مجھ سمیت کئی لکھاریوں کو ان مدیروں نے لکھنا سکھایا اور عوامی طلب سے قدم قدم پر آگاہ کیا۔
فیس بک کے آتے ہی ان مدیر زدہ ادیبوں اور شاعروں کا زنگ آلود لوہا کہیں پیتل تانبا بن گیا تو کہیں چاندی۔ فیس بک پر جہان بھر کی رنگینیاں تو موجود ہیں اور چوبیس گھنٹے کی خود اشاعتی سہولت بھی ہے مگر تحریر کو لائقِ اشاعت یا نالائقِ اشاعت قرار دینے کی خوبی موجود نہیں ہے۔یہاں ایسی ردی کی ٹوکری بھی نہیں رکھی گئی جو اردو ادب کیلئے سوہانِ روح بننے والی تحریروں اور کلامِ بے محابا سے حال اور مستقبل کو محفوظ رکھ سکے۔ اب بھلا فیس مارک زکربرگ کو کیا پڑی کہ وہ اردو ادب کی اصلاح کراتا پھرے اورادیبوں کی مخلصانہ خدمت کیلئے ہزاروں مدیران بھرتی کرے لاکھوں جدی پشتی لڑائیاں مول لے۔
مذکورہ بالا مدیروں سے دم دبا کر بھاگا ہوا شاعر یا ادیب اپنی چند تحریریں فیس بک پر ازخود شائع (پوسٹ)کرنے پر عجیب نوع کے نشے میں چور ہو جاتا ہے اور اسے ”نیوندرا ٹائپ“ لائیکس اور کمنٹس ادب و فن کے نوکدار بانس پر اتنا بلند ٹانک دیتے ہیں کہ وہ اپنا مجموعہ کلام تبصرے کیلئے ظفر اقبال کو بھیج دیتا ہے۔پھر وہ گردن میں عمودی سریا ڈال کر اپنے ارد گرد یہ بیان بھی جاری کر دیتا ہے کہ” اب دیکھتے ہیں کہ ظفر اقبال کیسے غلطیاں نکالتا ہے؟“ یعنی وہ اپنی دانست میں ظفر اقبال کو اپنے ہنر کے بے محابا پہاڑ تلے کھڑا کر دیتا ہیں۔غضب خدا کا ابھی ہونا باقی ہوتا ہے جب ظفر اقبال کی لٹھ اس کی واہ واہ کی رسیلی آوازوں کی عادی پسلیوں کے تھوڑا نیچے اپنے نقش چھوڑتی ہے تو پھرفیس بک کے باضابطہ دانش وروں میں آ کر درد ناک فریادیں بلند کرتا ہے اور ظفر اقبال کو”بڈھیایاہوا“ ناقد اور ”سٹھیایاہو“ا شاعر کہتا ہے۔ یہ دکھ سننے والوں میں جو ظفر اقبال کی لٹھ سے ذاتی طور پر شناسا ہوتا ہے، وہ اپنا ”ساڑ“ نکالتا ہے اور جو ابھی ذاتی شناسائی کے مرحلے تک نہیں پہنچا ہوتا، وہ شاعر سے پوچھتا ہے کہ ”اس ناقدرے کو تم نے کتاب بھیجی ہی کیوں تھی؟“
ہمارے درخشاں و ضوفشاں عہدِ موجود کا ایک ”دم کتا“ہوا ناول نگار، جسے اردو ادب کا آخری ناول نگار بھی کہا جا سکتا ہے، ہر روز ایک فوٹو لگاتا ہے جس میں موصوف کا کوئی جاننے والا اس کا ناول ”جوں کا توں“کھول کر دیکھ رہا ہوتا ہے۔یہ کیپشن بھی دیا جاتا ہے کہ ”میرا ناول جوں کا توں گھر گھر میں پڑھا جا رہا ہے۔“ہر روز ملنے والی اتنی فقید المثال کامیابی دیکھ کر کسی کو اس پر رشک آیا تو کسی کو ترس۔ پھر گھر گھر پڑھے جانے والے اس ناول کے خالق نے فیس بک پر خالص ادبی انداز میں یہ دہائی بھی دے ڈالی کہ ”میرے ناول کا انتساب، خالقِ کائنات کے نام، کو مس تابکارانرجی نے چوری کر کے اپنے ناول میں لگا لیا ہے۔“سرقے کی اس عظیم واردات پر مجھ سمیت سیکڑوں ادب زدگان ورطہءِ حیرت میں مبتلا ہو گئے کہ بھلا انتساب بھی چوری ہو سکتا ہے؟ اسے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ بضد رہا کہ دیکھیں، اصل انتساب اور چوری شدہ انتساب میں کتنی مماثلت ہے؟ اب اگر یہ واقعہ کسی اخبار یا مجلہ کے مدیر کے ساتھ پیش آتا تو وہ ظفر اقبال والی لٹھ لے کر ضرور اس ناول نگار کے پنڈ موضع کھجیاں والا میں پہنچ چکا ہوتا اور اردو ادب کی ساکھ بچانے کا عملی تحرک کر چکا ہوتا۔
ہمارے ایک یارِ دگر ”فساد وارد“ کو شاعروں کے کلام سے بے وزن شعر چھانٹنے اور ان پر استادی رعب جمانے کا بڑا کریز ہے۔ اس کی اپنی شاعری کو حاسدین رات نو بجے والا خبرنامہ قرار دیتے ہیں۔فساد وارد اگر اس کو اپنے لیے اعزاز کی بات سمجھتا ہے تو یہ اس کا حسنِ ظن ہے۔ خدا خدا کر کے اس کا ایک شعری مجموعہ ”میری برفی میں باقر خوانی ہے“ کے نام سے جنم پذیر ہوا تو پتہ چلا کہ مجموعے کے عنوان ہی کسی کے مجموعے سے ”اچکا“ ہوا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنی ہاتھوں ہاتھ اور پیروں پیر بکنے والی کتاب کا ”دھڑادھڑ ایڈیشن“ عنوان اور سرورق بدل کر لانے کا ارادہ رکھتاہے۔ یقینا یہ اردو ادب میں روایت ساز قدم ہو گا۔
ہم بھی عجیب رپھڑی اور فسادی مزاج کے قاری ہیں۔ فیس بک پر جب کوئی شاعر اپنے کوزہ گری والے شعر کے ساتھ کمہار اور چاک کی دھندلی سی تصویر لگاتا ہے تو ہمیں بے ساختہ کم پرانے زمانے کے ناکام ادیب کم مدیر یاد آ جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شاعر ریتلے موضوع والے شعر پر ساحلی ریت کا گھروندہ، محبت والے شعر کے ساتھ پان پتے والا سرخ تیر یافتہ دل، زلفوں کی چھاﺅں کیلئے برگ آملہ کی چھوٹے قد اور لمبے بالوں والی لڑکی، عارفانہ اور صوفیانہ کلام کے ساتھ کوئی نشئی یا پاﺅڈری،عشق و وصال والے شعر کے ساتھ کوئی مبہم مگر لمبی ٹوپی والا رقاص، ہجر والے شعر کے ساتھ سیگرٹ کے دھوئیں اور غریبانہ و انقلابانہ کلام کے ساتھ بلیک اینڈ وائیٹ بھوکا بچہ لگا دیتے ہیں تو ایک چھناکے سے ان کے حقیقی ادبی شعور اور اشاعتی سطح کا پتہ چل جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کل کلاں عہدِ روشن کے غالب اور میر کے انتخاب میں نسبتاً آسانی ہو۔
بہرحال ارتقائے جہاں نے مدیر کا کردار عارضی طور پر دھندلایا ضرور ہے مگر اس کے مقام اور اس کے کردار کو مجرمانہ انداز میں جھٹلا یانہیں جا سکتا اور اس کردار کی افادیت جلد ہی ادب کے طالب علموں پر کھلنے والی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker