اختصارئےلکھاریناصر محمود لالہ

ناصر محمود لالہ کا اختصاریہ : بدد یانت ایلیٹ کے چنگل میں پھنسا پیارا پاکستان

جیسے ہی ماہ اگست کا آغازہوتاہے۔قوم کے معمار اور ہماری نوجوان نسل خوب ایک دم تروتازہ ذہن سے 14اگست کو بھرپور انداز سے منانے کیلئے اپنی تیاریاں عید کی شکل میں بدل دیتی ہے۔چہروں پر پرچم بنائے سائیکل سے لیکر بڑی بڑی گاڑیوں پر قومی پرچم لہرا کر ایک تحریک بیدار کردیتے ہیں۔گھروں کو، شہرو ں کو، محلوں کو گلی کوچوں کو پرچم اور جھنڈیوں سے سجا کر پھولے نہیں سماتے۔یہاں تک کے 14اگست کو شایان شان بنا کر پوری قوم وطن دشمن قوتوں کو پیغام دیتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں۔ کوئی شک نہیں پوری قوم ایک جذبہ حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیںاور پوری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ”اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں” اور اس جذبے کو دشمن کی میلی آنکھ سے بچانے کیلئے ہمیں بطور قوم ایک ہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے قومی لیڈر بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور ہمار ے مفکر پاکستا ن عظیم علمی ،ادبی، فکری شخصیت حضرت ڈاکٹر محمد علامہ اقبال رحمتہ علیہ کے خواب کی تعبیر والے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم پاکستان خان لیاقت علی خان کی ولولہ انگیز قیادت اور باکردار سحر انگیز شخصیات تھیںجو اپنے حسب نسب کے حوالے سے کسی بھی رئیس زادے سے کم نہ تھے مگر دنیا چھوڑتے وقت سب کچھ وطن عزیز پر قربان کردیا۔نہ جائیدادیں بنائیں، نہ محل نما گھر بنائے بلکہ دنیا سے جاتے جاتے قوم کوایمان،اتحاد،یقین محکم اور پاکستان دے گئے۔ اب یہ انمول پاکستان کی ہر طرح سے حفاظت ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے ذمہ تھی۔
آج جن حالات سے پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر عد م تحفظ کا شکار ہے پھر بھی ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے جری جوانوں کو جن کی وطن پرستی پر نچھاور ہونے والی جانوں کا نذرانہ شہادتوں کی شکل میں تھمنے ہی نہیں پا رہااور پرچم سے لپٹے ہوئے یہ سپوت تابوت کی شکل میں لحد میں اتارنے تک نعرہ تکبیر اللہ اکبرکے نعرے اور سیلوٹوں کی سلامیو ں کا نہ رکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پاکستان کو آزاد ہونے سے لیکرآج تک جن جن قربانیوں کے عوض وجود میں آیااور جب بھی اس ملک کے لوگوں نے اجتماعی جدوجہد کی مگر افسوس ہمار ی ایلیٹ کلاس نے کہاکہ پرچم کا احترام کرو اور خود قومی خزانے کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔نئی نسل کی کوئی تربیت تک نہیں کی۔بدعنوانی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور ہم آج بھی دنیاکو قوموں کے مقابلے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی حکمت عملی سے فیض یاب نہ ہوسکے۔ہمیں جذباتی نہیں حقیقت کا دامن تھامنا ہوگاکیونکہ ہمارے نبی پاکﷺ کی ہی حکمت عملی کا نام سائنس ہے۔ ہمیں بطور قوم پوری دنیا کے سامنے روشناس کرانے کیلئے پاکستان کا نام، قائد کے فرمودات کو اپنی نسلو ںمیں اجاگر کرکے اس پر عمل پیرا ہوکرایک حقیقی اور سچا پاکستانی ہونے پر فخرکرناہوگا۔
74سال سے ہمارا معاشرہ اور ہم بددیانت ایلیٹ، خودساختہ اشرافیہ کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں ہماری آزادی اور ہماری ترقی و سلامتی ان کے ہاتھوں میں گروی ہے۔ان سامراجی قوتوں سے ہی نجات کا نام جشن آزادی ہے جو ہم بطور قوم پرتپاک طریقے شایان شان جشن آزادی مناتے ہیں۔قوم کو 74واں جشن آزاد ی مبارک ہو۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker