ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آخری مرحلے میں اے گروپ سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور دوسرے گروپ سے انگلینڈ سیمی فائنل ہار گئے ہیں جبکہ دونوں گروپوں کی دوسرے نمبر پر آنیوالی ٹیمیں آئی سی سی ٹی ٹوٹی کا فائنل کھیلیں گی۔۔آئی سی سی سی 2021 کا فائنل کھیل کے میدان کی حد تک تو بہت اہم ہے۔۔مگر ایشیاء سے تعلق رکھنے والے شائقین کرکٹ کیلئے انتہائی مایوس کن بھی ہے اور اس میں ہماری یعنی ایشیا ء والوں کی دچسپی تو ختم ہو گئی ہے ۔۔ روایتی دشمن کو ہرانے کے بعد تو ہم یہ سوچ چکے تھے کہ فائنل تک قومی ٹیم کی رسائی اور جیت یقینی ہے۔۔مگر ایسا ہو نہ سکا۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قومی ٹیم لیگ میچز میں تو ٹارگٹ حاصل کرتی آئی لیکن جب پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے پہلا سیمی فائنل جیتا تو قومی ٹیم سمیت چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے اپنا بیان داغ دیا کہ ہمیں پریشر لینے کی ضرورت نہیں ہمارا ویننگ کومبینیشن ہے ہمیں اسکو جاری رکھنا ہے۔۔بشرطیکہ دوسری اننگز میں بالنگ کرنی پڑے اور گراؤنڈ میں نمی کی صورت حال کو مدنظر رکھنا ہو ۔۔۔۔دوسری اہم بات ہمارے ملک کے وزیراعظم چاہے وہ کوئی بھی ہو خواہ اسکا کرکٹ سے تعلق واسطہ تھا ہے یا نہیں ایک بیان ضرور دیتے ہیں کہ وہ میچ دیکھنے ضرور جائینگے۔۔ماضی میں ہم ورلڈ کپ کے میچز میں بھارت کے ہاتھوں شکست خوردہ ہو کر لوٹے مگر اس بار روایتی حریف کو ہرانے کے باوجود بھی ٹائٹل نام کیئے بغیر وا پس لوٹنا پڑا۔۔ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ پر قومی ٹیم کا انتخاب کس نے کیا تھا صاف ظاہر ہے چیئرمین پی سی بی نے۔۔اور چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کو لانے والا کون ہے۔۔صاف ظاہر ہے 1992 کے ورلڈ کپ کا کپتان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان ۔۔رمیز راجہ وزیراعظم پاکستان کے بحثیت دوست چیئرمین پی سی بی تو متعین ہوگئے۔۔مگر انہوں نے نہ تو خود ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلی اور نہ ہی وزیراعظم نے۔۔دونوں سلیکڈنے تو ون ڈے کرکٹ کھیلی ہے۔۔اوریہی وجہ ہے کہ سیمی فائنل میں بھی ہمیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ ایک ون ڈے میچ کی طرح دیکھی۔۔اور انتہائی افسوس اس بات پر کہ ہار کے باوجود بھی ٹیم کمبینشین کو سراہا جا رہا ہے۔۔چیئرمین پی سی بی تو ماضی میں ایک ہار پر ہٹا دیا جاتا تھا۔۔اب تو ان پر کوئی بات تو دور کوئی بھی سابق کرکٹر اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔جب آپکی تیاری ہی نہیں فرسٹ اننگز میں بیٹنگ کرنیکی ہے تو آپ ایک فارمیٹ میں ایک ہی کمبینشین کے ساتھ کیسے گراونڈ میں اتریں گی۔۔
ہفتہ, اپریل 18, 2026
تازہ خبریں:
- نوجوان صحافی اظہار عباسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے
- ساحر بگا کے ترانے اور بے خبری کا جشن ( مختار صدیقی کی باتیں ) : وجاہت مسعود کا کالم
- نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر ٹرمپ کے وفد کے ساتھ واپس کیوں نہیں گئیں ؟ نصرت جاوید کا کالم
- ایک بریکنگ نیوز کی کہانی : حامد میر کا کالم
- مذاکرات کا دوسرا دور : ہوشمندی اور لچک کی ضرورت سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوبارہ مذاکرات ہوئے تو پاکستان میں ہی ہوں گے : وائٹ ہاؤس
- ایران نے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا
- بات دل میں کہاں سے آتی ہے : ( کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی ) وجاہت مسعود کا کالم
- ڈونلڈ ٹرمپ: نوبل امن انعام کا خواہاں مگر امن دشمن ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دو خطوط اور جنگ کا بیانیہ : معصومہ شیرازی کا کالم

