ادبکالملکھارینوازش علی ندیم

میں نے بھی ایسے لفظ لکھے ہیں۔۔ (20 فروری ، شاہیا صاحب کی برسی ) ۔۔ نوازش علی ندیم

لہو لہو دل سے کیا رقم کِیا جائے ۔ ریت آنکھوں میں اتنی نمی کہاں سے لائیں کہ رفتگاں کے شایانِ شان ہو۔ کیا یہی زندگی ہے کہ نبضیں ڈولتی رہیں، دھڑکنیں بے ربط ہوتی رہیں ۔ پہلے ہم نے اطہر ناسک کی جُدائی کا ماتم کیا پھر شاہیا صاحب چلے گئے ۔ شاہیا صاحب کی برسی پر یادیں ہیں کہ اُمڈتی چلی آ رہی ہیں لیکن لفظ ہیں کہ گرفت میں نہیں آ رہے ۔ نجم الاصغر شاہیا کو ہم سے جُدا ہوئے سات سال ہو گئے ہیں لیکن کون سا دن ہے جب انہیں یاد نہ کیا گیا ہو۔ انہیں کون بتائے گا کہ ان کے جانے سے ہماری محفلوں میں کیسا سونا پن آ گیا ہے۔ انسان کو اگر صبر کی قوت ودیعت نہ کی جاتی تو شاید سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا۔نجم الاصغر شاہیا جو دوستوں کے لیے صرف شاہیا صاحب تھے۔ نظم اورغزل کے بیک وقت قادرالکلام شاعر، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شاعر دونوں اصناف میں اظہار کی یکساں قدرت رکھتا ہو لیکن شاہیا صاحب واحد استثناء ہیں کہ انہوں نے جدید غزل میں بھی اتنی ہی خوبصورتی سے شعر کہے جتنا وہ اپنی نظموں میں نظر آتے ہیں۔ شاہیا صاحب اگرچہ خود یہ چاہتے تھے کہ ان کی شناخت بطور نظم گو شاعر کے ہو لیکن قاری کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ انہیں غزل گو تسلیم کیا جائے یا نظم کا بڑا شاعر ۔ نظم کے حوالے سے ادب میں اتنے بڑے نام موجود ہیں کہ ان کے سامنے کسی کا چراغ جلنا مشکل نظر آتا ہے لیکن اگر دیانتداری سے جائزہ لیا جائے اور بڑے ناموں سے مرعوب ہوئے بغیر صرف شاعری کے حوالے سے دیکھا جائے تو شاہیا صاحب نہ صرف اردو کے ایک بہت بڑے نظم گو کے طور پر سامنے آتے ہیں بلکہ نقاش فطرت کے طور پر ان کی ایک عالمی شناخت بنتی ہے ۔ ”زندگی سے ڈرتے ہو“ ایک ایسی نظم ہے جو ن م راشد کی ایک بڑی نظم کی موجودگی میں کہی گئی لیکن دونوں نظموں کو پڑھنے کے بعد کوئی ادب کا قاری حتمی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ راشد کی نظم بڑی ہے یا شاہیا صاحب کی ”زینیا‘‘ پر بھی دونوں شعراء نے نظمیں کہی ہیں لیکن یہاں بھی شاہیا صاحب کا بے پناہ تخلیقی وفور اظہار کا ایک منفرد راستہ اختیار کرتا ہے۔مجید امجد اور ن م راشد کے ہوتے ہوئے اردو نظم میں انور سدید جیسے نقاد سے اپنا اعتراف کرا لینا شاہیا صاحب کے کمال فن کی دلیل ہے۔ لفظ اورخیال کی آمیزش نے اظہار کے جتنے وسیلوں کو اپنا مسکن بنایا ہے ان میں شاعری سب سے خوبصورت اور موثر ذریعہ ہے ۔غزل گو شعراء کی ایک کثیر تعداد ہر عہد میں موجود رہی ہے لیکن روایت سے منسلک رہتے ہوئے جدید عصری تقاضوں کو لفظوں میں ڈھالنا ایک ایسا کٹھن مرحلہ ہے جہاں آ کر شاعر یا تو پروپیگنڈہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا یا ابہام اور علامت میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔شاہیا صاحب نے غزل میں بھی اپنی انفرادیت عمر بھر برقرار رکھی
گیت گائے کوئی لڑکی تو ہوں طائر حیراں
طائروں کی تو سب اقسام میں نر بولتے ہیں
شاہیا صاحب نے فطرت سے اپنی محبت کو نظموں میں سمو دیا ہے۔ بلند وبالا پہاڑ، دریا ، برفباری کے موسم میں روح پر اترنے والی کیفیات، جھیلوں، تالابوں، چناروں اور پرندوں نے ان کی شاعری کو اپنا آئینہ بنایا ہے۔ ”نتھیا گلی کی ایک رات“، ”لینڈ سلائیڈنگ“ اور ”دامن کوہ میں آبشار دیکھ کر“ ایسی نظمیں ہیں جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ معروض کے حوالے سے داخلی دنیا کا اظہار شاہیا صاحب کا ایسا وصف ہے جو انہیں نظم گو شعراء میں ممتاز کرتا ہے۔ ”فراز کوہ پر اک ڈاک بنگلہ ہے“ اس کی ایک بہت خوبصورت مثال ہے۔ شاہیا صاحب کا تعلق اگرچہ جھنگ سے تھا لیکن جب وہ ملتان آئے تو یہاں کی ادبی فضاء اور محبتوں نے انہیں یوں گرفت میں لیا کہ انہوں نے اپنی زندگی اسی شہر کے نام کر دی اور اسی مٹی کو اوڑھ کرسو گئے۔ شاہیا صاحب ملتان میں ہونے والی ہر قابل ذکر تقریب میں شامل ہوئے۔ شاہیا صاحب کو جب تک بیماری نے بالکل مجبور نہیں کر دیا وہ باقاعدگی سے ایک چائے خانے میں اور تقاریب میں آتے رہے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے رہے۔نوجوان شعراء کو مطالعے کی ترغیب دیتے اور فنی ریاضت کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔ وہ نہ صرف دوسروں کے بلکہ اپنی شاعری کے بھی کڑے محتسب تھے۔ وہ نظم یا غزل کہنے کے بعد مسلسل اس میں ردوبدل کرتے رہتے۔ وہ بلاشبہ ایک ایسے فنکار تھے جو تکمیل فن کے لئے اپنی آنکھیں رتجگوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ شاہیا صاحب نے ہمیشہ مقدار پر معیار کو ترجیح دی ۔ ایک طویل عرصہ شاعری سے دور رہنے کے بعد جب انہوں نے دوبارہ شاعری شروع کی تو کلاسیکی ادب کے وسیع مطالعے ،گہرے مشاہدے ،سیاحت ،سفر اور احساس کی شدت نے ان کی شاعری کا رخ متعین کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ انہوں نے صرف دو شعری مجموعے ”دوزخ میں پہلی بارش“ اور ”نیند میں چلتی ہوا“ دیئے ہیں لیکن موضوعات کے تنوع ، مشاہدے کی گہرائی ، تخیل کی فراوانی اور منفرد طرز اظہار نے ان دو کتابوں کو اہل نظر کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ بنا دیا ہے۔ شاہیا صاحب کی ایک نظم پڑھئے اور دیکھئے اس تخلیق کار کے لفظوں میں کتنی تاثیر ہے۔
”الماری کا قبرستان“
لکڑی کے تختوں پہ کتابیں
اس تربیت سے چنی ہوئی ہیں
یوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں
جیسے قبرستان میں قبریں
جلدوں والی ساری کتابیں پکی قبریں
غیر مجلد کچی قبریں
کچھ تازہ، کچھ بہت پرانی
کچھ بےحد بوسیدہ شکستہ
یہ مرقد ہیں ان لوگوں کے
موت کے بعد بھی جو زندہ ہیں
ہر اک قبر پہ صاحب قبر کا نام لکھا ہے
ہر اک لوح پہ نام کے ساتھ دوام لکھا ہے
ایک بیاض ہے میری بھی اس الماری میں
جس میں میں نے اپنا سارا کلام لکھا ہے
پھر جب اک دن
میں بھی اپنے لکھے لفظوں کی
چادر اوڑھ کے سو جاﺅں گا
دفن کتاب میں ہو جاﺅں گا
مجھ کو یقیں ہے
میں بھی اپنی قبر میں صدیوں زندہ رہوں گا
میں نے بھی ایسے لفظ لکھے ہیں،مر نہ سکوں گا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

1 thought on “میں نے بھی ایسے لفظ لکھے ہیں۔۔ (20 فروری ، شاہیا صاحب کی برسی ) ۔۔ نوازش علی ندیم”

  1. الماری کا قبرستاں

    یہ نظم پڑھتے ہی ایک عجیب سی فیلنگ سے دوچار ہوا ہوں بہت عمدہ علامتی نظم ہے اور ایک حقیقت پر مبنی نظم ہے اس نظم میں جو بیان ہوا یقین کریں ایسے ہی سوچ اور ایسا ہی کرب کتابوں کے بارے میں رکھتا ہوں جب بھی کسی لیبریری میں جاتا ہوں دھوڑ سے بھری کتابوں کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کے وہ لوگ کیا لوگ تھے جو ان کتابوں کو پڑھتے تھے ایسی کتابیں لکھتے تھے __یہ نظم بھی اسی بات کا نوحہ ہے کے کتابیں لوگوں نے کیسے خوبصورت انداز سے اپنی الماری میں رکھ رکھی ہیں یہاں انہوں نے نظم کو قبروں سے تشبیہ دی کے قبریں جیسے ایک دوسرے سے ملی ہوتی ہیں اور ایک قبرستاں بھرا ہوتا ہے ایسے ہی الماری بھی آپ کی بھری ہوئی ہے یہاں قبر سے علامت اس لیے بھی دی کے جب مردہ قبر میں چلا گیا تو اس کا بائیکاٹ ہو جاتا ہے دنیا سے تو آپ نے بھی کتابوں کو الماری میں رکھ کر ان کو مردہ کر دیا ان سے اپنا تعلق استوار نہیں کیا ۔۔۔آگے وہ ان کتابوں کے مصنف کے بارے میں لکھتے ہیں کے یہ مرقد یہ آثار یہ نشانیاں ان لوگوں کی ہیں جو مر کر بھی زندہ ہیں جیسے ارسطو افلاطوں وغیرہ ابھی ہزار سالوں سے زندہ ہیں تو وہ ان کتابوں کی وجہ سے ہیں ورنہ کتنے لوگ چلے گے نام و نشان تک موجود نہیں تو کتابیں لکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پیشکش بہت عمدہ ہے اپنے خیال کو لفظوں کا جامہ پہنانا اور اپنی سوچ کا اظہار کرنا اور ایک عمدہ کارکردگی دیکھانا شائد میرے نزدیک اس سے مشکل کام کوئی نہیں یہ تو اس فنکار کا کام ہے جس نے اتنی اعلی پیشکش کی اور خصوصاً جب کتاب کی اہمیت بتانے کے بعد انہوں نے بتایا کے میں بھی اسی سوچ پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں کے مر گو جانا ہے لیکن زندہ رہو گا یہاں شاعر اس دنیا سے اپنا رشتہ مر کر بھی نہیں ختم۔کرنا چاہتا ہے شاعر کو زندگی سے اتنا پیار ہے کے وہ یہ سمجھتا ہے کے میں مر تو جاو گا لیکن یہ کتاب لکھ جاو گا جو مجھے مرنے کے بعد زندہ رکھے گی___________مجموعی طور پر انہوں نے اس بات پر نظم کا عنوان درج کیا کے الماری کا قبرستاں نہ بنایا جائے کچھ اس میں پڑے مردوں کو پھرولا جائے اور غورفکر کیا جائے اپنے اسلاف سے رشتہ بنایا جائے ان کی محنت کو پھل دیا جائے ___جہاں تک ہو سکے مطالعہ کی عادت بنائی جائے کیونکہ یہ عہد وہ عہد ہے جو کام کرنے میں محتاج اور سوچنے سے عاری ہے یہاں سہل پسندی کو پسند کیا جاتا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ جس نے بھی پایا مر کر پایا __آگر آپ کچھ بننے کا خواب یکھتے ہو اور مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتے ہو تو یہ نظم آپ۔کو اس بات کا سبق دے رہی ہے کہ میاں کچھ کر جاو کچھ کر جاو__________خاکسار کے دو چار ٹوٹے پھوٹے الفاظ قبول اور غلطیوں کی معافی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker