سرائیکی وسیبلکھاری

انڈوں اور سنڈوں سے اقتدار کو طول نہیں ملے گا : این ایس ایف

خانیوال : نیشنل سٹوڈنٹس فیدریشن پاکستان کے زیرِ اہتمام خانیوال میں سالانہ ضلعی کنونشن منعقد کیا گیا۔ جِس میں خانیوال کی چاروں تحصیلوں کے عہدیداران کے علاوہ طلبہ کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔کنونشن سے این ایس ایف پاکستان کے ضلعی رہنماؤں علی رضا گُجر، مہر عرفان گاہگ، سبحانی گُجر، چوہدری عظیم، اویس اعوانی، چوہدری احسان الحق، اسدا اقبال نوہانہ، شہباز چوہدری، محمد خان بلوچ ، ملک حمزہ اعوان، رانا محمد مزمل، شانی راجپوُت اور دیگر نے خِطاب کیا۔علی رضا گجر نے اپنے خِطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان میں بائیں بازو کے ہر ترقی پسند کو واچ لِسٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا وہ تمام بلوچی عوام جو حکومت سے اپنے بنیادی حقوق مانگتے ہیں، غذا کا حق مانگتے ہیں، مفت تعلیم کا حق مانگتے ہیں، روزگار کا سوال اُٹھاتے ہیں، پینے کو صاف پانی مانگتے ہیں کیا وہ سب لوگ غدار ہیں؟؟؟ آج بلوچوں کے مسائل پر گفتگو کرنا بھی جرم بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے مہران تک اور خیبر سے مکران تک این ایس ایف پاکستان ہی وہ طلبہ تنظیم ہے جو ملکی وحدت کےلئے سینہ سپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقات خواہ وہ وردی میں ہوں یا شیروانی میں ملک کے عوام کو صوبوں اور ذبانوں میں تقسیم کرنا بند کر دیں۔ کنونشن سے خِطاب کرتے ہوئے سبحانی گجر نے کہا کہ بس اب بہت ہو گئی۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے ایوانِ بالا سے قرارداد منظور کروائی کہ طلبہ یونین بحال کی جائیں۔ اس سے پہلے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے فلور آف دی ہاؤس سے ایگزیکٹو آرڈر دیا کہ ججوں کو بحال کیا جائے اور طلبہ یونین سے پابندی اُٹھائی جائے۔ جج تو بحال ہو گئے مگر کیا وجہ ہے اب تک طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ این ایس ایف پاکستان کا ہر جوان جانتا ہے کہ پاکستان کیا بلکہ تمام دنیا کی بقا ایک غیر طبقاتی سماج میں ہے۔ ایک ایسا سماج جِس میں ہوا، پانی فصلوں ۔۔۔۔ غرضیکہ ہر چیز پر ہر کِسی کا حق ہو اور بقائے انسانی کی پاکستان میں بنیاد یہ ہے کہ تعلیم تعلیمی ادارے سرکاری تحویل میں لئے جائیں ایچیسن میں پڑھنے والے اور ٹاٹ اسکول میں پڑھنے والے کو ایک ہی معیار کی تعلیم ملے۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول سے پڑھ کر آنے والے طلبہ اور سرکاری اسکولوں سے پڑھ کر آنے والے طلبہ کی ذہنی استعداد میں کوئی فرق نہ ہو۔ مگر ان حکمران طبقات کو پاکستان کی بقا سے زیادہ اپنی کرسی کی فکر رہتی ہے۔
کونشن سے خطاب کے دوران مہر عرفان گھاہگ نے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں اور حکمران ان کو انڈوں اور مرغیوں پر مبنی معاشی ترقی کے خواب دِکھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوب خان نے بھی پولٹری فارمنگ اور کیٹل فارمنگ کے بہلاوے دیئے تھے۔ تو کیا عوام کی عمومی معاشی حالت میں کوئی تبدیلی آئی؟انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکمران ایوب خان کا انجام یاد رکھیں۔ اس آمر کو بھی این ایس ایف پاکستان نے ہی گھر بھیجا تھا۔شانی راجپوت نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ حکمران کِس غلط فہمی میں جی رہے ہیں؟ یہ سرمایہ داری کو جمہوریت بتاتے ہوئے یہ بھوُل جاتے ہیں کہ معاملہ سول یا عسکری حکومت کا تو سِرے سے ہے ہی نہیں۔ معاملہ تو یہ ہے کہ کیا ایوانوں میں مزدور اور کسان طبقے کے لوگ بیٹھے ہیں یا نہیں۔ حکمران جان لیں کہ عوام کو اچھی طرح علم ہے کہ ایوانوں میں بیٹھ کر انڈوں اور سنڈوں کی معیشت کے بہلاوے دینے والے وہی بدترین سرمایہ دار ہیں جو کبھی فوج کی گود میں براہِ راست بیٹھ کر اور کبھی جعلی انتخابات کے ذریعے پارٹیاں بدل بدل کر عوام کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پہلے طلبہ یونین کے انتخابات کرواؤ، بلدیاتی انتخابات کرواؤ اور پھِر دیکھو کہ کروڑوں اور اربوں کے انتخاباتی کھیل کے ذریعے کِس طرح سے سامراجی اجازت لے کر اس کے پروردہ سرمایہ دار ایوان تک پہنچتے ہیں۔ این ایس ایف پاکستان کے مرکزی صدر ساحر آذاد پلیجو ہیں اور تنظیم عظیم انقلابی رہنما ڈاکٹر رشید حسن خان کے بتائے ہوئے ’جمہوری مرکزیئت‘ کے ضابطے پر قائم ہے۔ این ایس ایف کی تاریخ میں ایسے بہت سے آئے اور آج تاریخ کے کوُڑے دان میں اوندھے پڑے ہیں۔ ہم جب چاہیں ان کا محاسبہ کر سکتے ہیں مگر انقلابی جدوجہد میں ایسے معمولی لوگوں اور ان کے معامملات پر توجہ دینے کا وقت ہی کہاں ملتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker