اہم خبریں

460 ارب کی پیشکش قبول : نیب کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی طرف سے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی ہے اور قومی احتساب بیورو کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس کو معاہدے کی خلاف ورزی سے مشروط کردیا ہے۔اس سے پہلے سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی طرف سے 450 ارب روپے کی پیشکش مسترد کرچکی ہے اور عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ پیشکش پر دوبارہ غور کرے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس کی سماعت کی۔اس تین رکنی عمل درآمد بینچ نے جب عدالتی کارروائی کا آغاز کیا تو عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا کہ ان کے موکل نے عدالت کی طرف سے دی گئی تجویز پر کیا فیصلہ کیا ہے جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاون مقدمات ختم کرنے کی مد میں 460 ارب روپے دینے کو تیار ہے ۔بینچ میں موجود جج صاحبان نے آپس میں مشاورت کے بعد یہ پیشکش قبول کرلی ۔سپریم کورٹ کی طرف سے یہ پیشکش قبول کیے جانے کے بعد یہ طے پایا کہ بحریہ ٹاؤن یہ رقم سات سال میں ادا کرے گا۔عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اس سال 27 اگست تک 25 ارب روپے ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر جمع کروائے گی جبکہ ستمبر میں تقریبًا ڈھائی ارب روپے ماہانہ کے حساب سے جمع کروانے ہوں گے۔پہلے چار سال تک ڈھائی ارب روپے جمع کروانے کے بعد باقی تین سالوں کے دوران باقی ماندہ رقم چار فیصد مارک اپ کے ساتھ جمع کروانا ہوگی۔عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ مسلسل دو اقساط کی عدام ادائیگی پر بحریہ ٹاؤن کراچی نادہندہ تصور کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ ان کے ملکیتی پارکس، سنیما اور دیگر اثاثوں کو عدالت کے پاس گروی رکھوائے گی۔عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹاؤن کے نام منتقل کردی جائے گی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker