اہم خبریں

ٹیکساس: ایل پاسو کے وال مارٹ میں فائرنگ سے 20 افراد ہلاک

ٹیکساس: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں ایک شاپنگ مارٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 20 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو گئے ہیں۔ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اس واقعے کو ’ریاست کی تاریخ کے مہلک ترین دنوں میں سے ایک’ قرار دیا ہے۔قتلِ عام کا یہ واقعہ سیلو وسٹا مال کے قریب وال مارٹ سٹور میں پیش آیا جو امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے چند میل دور ہے۔حکام نے ایک 21 سالہ شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ واحد مسلح شخص ہے۔امریکی میڈیا میں اس شخص کی شناخت 21 سالہ پیٹرک کروسئس کے نام سے ہوئی ہے جسے ڈیلس کے قریبی شہر ایلن کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔ یہ شہر ایل پاسو سے 1046 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج اور امریکی میڈیا میں نشر کیے جانے والے مناظر میں ایک خودکار بندوق پکڑے شخص کو گہرے رنگ کی ٹی شرٹ اور آنکھوں پر چشمے پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پولیس اور ایف بی آئی اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا ایک آن لائن فورم پر پوسٹ کیا گیا سفید فام قوم پرست خیالات پر مبنی ‘منشور’ اسی حملہ آور کی جانب سے پوسٹ کیا گیا ہے۔اس دستاویز میں تحریر ہے کہ اس حملے کا ہدف مقامی ہسپانوی برادری ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی’ قرار دیا ہے۔


انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں آج کے اس نفرت انگیز واقعے کی مذمت میں اس ملک کے ہر شہری کے ساتھ کھڑا ہوں۔ معصوم لوگوں کے قتل کی کوئی وجہ اور کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔’اس وقت تک حملے کے متاثرین کے نام جاری نہیں کیے گئے ہیں مگر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق میکسیکو کے صدر مینوئل لوپیز اوبرادور نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں میکسیکو کے تین شہری شامل ہیں۔یہ حملہ کیلی فورنیا فوڈ فیسٹیول میں ایک ٹین ایج مسلح شخص کے حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں پیش آیا ہے۔ٹیکساس میں ہونے والے اس واقعے کو امریکہ کی حالیہ تاریخ کا آٹھواں مہلک ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ ’ہم بحیثیت ریاست ان متاثرین اور ان کے کنبے کے افراد کی حمایت میں متحد ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا ہمیں آج ایک کام کرنا چاہیے، ایک کام کل اور اس کے بعد ہر روز، ہمیں متحد ہونا چاہیے۔ایل پاسو پولیس کے سربراہ گریگ ایلن نے بتایا کہ ایک فعال شوٹر کی موجودگی کی اطلاعات مقامی وقت کے مطابق 10:39 بجے موصول ہوئیں اور قانون نافذ کرنے والے افسران چھ منٹ کے اندر جائے وقوع پر پہنچ چکے تھے۔حملے کے وقت وال مارٹ سامان خریدنے والے خریداروں سے بھرا ہوا تھا۔21 سالہ حملہ آور شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس حملے پر گرفتار کیا جانے والا واحد شخص ہے اور اسے پکڑنے کے لیے افسروں نے اپنے ہتھیاروں سے فائر نہیں کیے تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق وال مارٹ کے ملازمین اور عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ وال مارٹ میں افراتفری مچ گئی۔ خریدار اور ملازمین جان بچانے کی کوشش میں بھاگ رہے تھے۔ایلن نے صورتحال کو ‘خوفناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین مختلف عمروں کے ہیں۔ایل پاسو کے محکمہ پولیس کی جانب سے خون کی عطیات کی بھی اپیل کی گئی ہے۔کیانا لونگ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ وال مارٹ میں موجود تھیں جب انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی


۔خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘لوگ افراتفری کا شکار تھے اور قاتل کی موجودگی کا بتاتے ہوئے بھاگ رہے تھے۔ لوگ فرش کے قریب ہو کر بھاگ رہے تھے اور فرش پر گر رہے تھے۔ ‘لونگ نے مزید بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر دیگر خریداروں کے ساتھ پناہ لینے سے قبل سٹاک کے کمرے سے بھاگ کر گزرے تھے۔ایک اور عینی شاہد گلینڈن اوکلے نے سی این این کو بتایا کہ وہ ایک قریبی شاپنگ مال میں ایک سپورٹس کے سامان کی دکان میں تھے جب ایک بچہ بھاگتا ہوا اندر آیا ‘اور ہمیں بتایا کہ وال مارٹ کے اندر ایک شوٹر ہے۔’اوکلے نے بتایا کہ کسی نے بھی بچے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا مگر چند منٹ بعد ہی انھیں دو گولیوں کی آواز سنائی دی۔وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے صرف اس وقت وہاں سے بچوں کو باہر نکالنے کے بارے میں سوچا۔’امریکہ میں فائرنگ کے اس تازہ ترین واقعے کے بعد جہاں ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں اسلحے پر کنٹرول کے مطالبات بھی از سرِ نو دہرائے جا رہے ہیں۔وال مارٹ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’وہ اس المناک واقعات پر صدمے میں ہیں‘ اور ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘ایل پاسو کے میئر ڈی مارگو نے سی این این کو بتایا ’یہ ایک المیہ ہے جس کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ ایل پاسو میں ہو گا۔‘ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بیٹو او آرکی نے لاس ویگاس میں اپنی انتخابی مہم روک دی ہے اور وہ اپنے آبائی شہر ایل پاسو واپس چلے گئے ہیں۔اس سے قبل محنت کشوں کے ایک فورم پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس قتلِ عام سے یہ فریب ختم ہوگیا ہے کہ امریکہ میں اسلحے سے متعلق اصلاحات ‘خود بخود ہوجائیں گی۔’دیگر ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں نے بھی اس قتلِ عام کی مذمت کرتے ہوئے گن کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔نیو جرسی کے سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ لگتا ہے کہ امریکہ ‘اس تصور کو قبول کر چکا ہے کہ یہ [فائرنگ کے واقعات] معمول بنے رہیں گے۔’مگر دوسری جانب ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے کہا ہے کہ گن کنٹرول شاید اس حملے کو نہ روک پاتا۔انھوں نے کہا کہ اگر ایک ‘جنونی’ مسلح شخص ایسا کوئی حملہ کر دیتا ہے تو یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار وہاں اسے روکنے کے لیے موجود ہوں۔سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘سب سے بہترین طریقہ خود کا دفاع کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔’
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker