اہم خبریں

مدت ملازمت توسیع کیس: کل تک حل نکالیں ورنہ ہم اپنی ڈیوٹی پوری کریں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس میں سپریم کورٹ نے حکومت کو کل تک کوئی حل نکالنے کی مہلت دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جب کہ اٹارنی جنرل پاکستان اور آرمی چیف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم دلائل دیے۔ سماعت کے آغاز سے پہلے بیرسٹر فروغ نسیم نے کمرہ عدالت میں وکالت نامہ جمع کروایا جب کہ سماعت کے دوران عدالت نے دو مرتبہ وقفہ بھی لیا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا حکومت کل تک حل نکلے ورنہ ہم ڈیوٹی پوری کریں گے . انہوں نی کہا کہ ملک کے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کا معاملہ انتہائی اہم ہے، ماضی میں جرنیل خود کو توسیع دیتے رہے اور اب یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا ہے تو اسے قانون کے مطابق ہی دیکھا جائے گا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ میں برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاقی کابینہ نے اس سلسلے میں آرٹیکل 255 میں منگل کو جو ترمیم کی ہے وہ آرمی چیف سے متعلق نہیں بلکہ فوجی افسران سے متعلق ہے۔ اس توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے بعد ایکسٹینشن کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے جنرل باجوہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ برّی فوج کے سربراہ کی تقرری کی مدت کا معاملہ انتہائی اہم ہے مگر اس میں آئین خاموش ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدید ہے۔ اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’پانچ، چھ جرنیل خود کو توسیع دیتے رہے، 10، 10 سال تک توسیع لی گئی لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں، تاہم آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے۔‘
خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت ملازمت تین سال ہوتی ہے۔ اس پر بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آرمی چیف کی مدت تین سال کہاں مقرر کی گئی ہے۔ جواب میں اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل 57 سال کی عمر میں چار سال کی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہوتے ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل کے علاوہ کہیں بھی مدت کا تعین نہیں کیا گیا اور بعض لیفٹیننٹ جنرلز کو تعیناتی کے بعد چار برس کی مدت نہیں ملتی۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کی مجاز اتھارٹی کون ہے، صدر یا وزیراعظم۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس اس کا اختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت یہ تعیناتی ہوتی ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ آرٹیکل 243 آرمی چیف کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق ہے اس میں مدتِ ملازمت میں توسیع کی کہیں بات نہیں کی گئی ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ فوج میں جنرل بہت سارے ہوتے ہیں لیکن آرمی چیف صرف ایک بنتا ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی ریٹائرڈ افسر کو بھی فوج کا سربراہ بنایا گیا جس کا اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ قانون میں اور آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے جس پر عدالت نے پوچھا اگر ایسا نہیں ہے تو ان کی تین برس کی تقرری کا نوٹیفیکیشن کیوں جاری کیا گیا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا رسمی طور پر لکھا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق صرف جنگ کی حالت میں آرمی چیف فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت آرمی چیف فوج کی کارروائیوں سے متعلق وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے۔ اس سے قبل سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذرائع ابلاغ پر چلنے والی یہ خبر درست نہیں کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے اور یہ کہ عدالت اب بھی درخواست گزار ریاض حنیف راہی کی درخواست ہی سن رہی ہے۔ خیال رہے کہ درخواست گزار کی جانب سے منگل کو اپنی درخواست واپس لینے کے بارے میں ہاتھ سے تحریر شدہ ایک اور درخواست سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی تاہم عدالت نے ان کی غیرموجودگی کی وجہ سے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بدھ کو چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات طے ہے منگل کو سماعت کے دوران جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی انھیں تسلیم کر لیا گیا اور اسی لیے حکومت نے انھیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کا موقف تھا کہ حکومت کی جانب سے منگل کی شام کیے جانے والے اقدامات کا مطلب خامیاں تسلیم کرنا نہیں تھا۔ ’حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی۔‘ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کےمطابق فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ کابینہ کے صرف 11 ارکان نے توسیع کی حمایت کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر بھی درست نہیں۔
خیال رہے کہ منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے مدتِ ملازمت میں توسیع کے حکم نامے کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد حکومت نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے آرمی ایکٹ کی شق 255 میں ترمیم کرنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی نئی سمری منظور کی تھی۔ اسی اجلاس کے بعد وزیر تعلیم شفقت محمود نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ‘وفاقی کابینہ نے ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کرتے ہوئے ‘مدت ملازمت میں توسیع’ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مدت ملازمت میں توسیع وزیراعظم کی صوابدید ہے، وہ صدر کو ایڈوائس جاری کر سکتے ہیں۔’
وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے کابینہ کے صرف گیارہ اراکین کی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کے حوالے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا رولز آف بزنس کی شق 19 کے مطابق جو وزیر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے ہیں اسے بھی قانون کی نظر میں ’ہاں‘ تصور کیا جاتا ہے۔ شہزاد اکبر نے کابینہ کے اراکین کی رائے کے حوالےسے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اراکین کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے چوبیس گھنٹے دیے گئے تھے اور اگلے روز 19 اراکان اس فیصلے کے حق میں رائے دے چکے تھے جس کا دستاویزی ثبوت بدھ کے روز عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ان کی رائے میں فوجی افسر کی ریٹائرمنٹ کو ’روکنے‘ کا عمل ’مدت ملازمت میں توسیع‘ تصور ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا حکومت نے مزید وضاحت کےلیے آرمی ریگولیشنز میں ترمیم کر دی ہے اور کابینہ کا نیا فیصلہ ترمیم شدہ رولز کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اسی پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیرِ قانون فروغ نسیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر برّی فوج کے سربراہ کا مقدمہ لڑیں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے بیرسٹر فروغ نسیم کے استعفے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بطور وفاقی وزیر عدالت میں پیش ہونے کے مجاز نہیں تھے لہٰذا انھوں نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ فروغ نسیم مقدمے کے اختتام پر، اگر وزیر اعظم چاہیں، تو دوبارہ کابینہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker