اہم خبریں

امریکی اڈوں پر فائر کئےگئے میزائل مسافر طیارے کو جا لگے ؟ : ایران کا بلیک باکس دینے سے انکار

لندن :امریکی ذرائع ابلاغ پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بدھ کو تہران کے ہوائی اڈے سے پرواز کرنے کے تھوڑی دیر بعد گر کر تباہ ہونے والا یوکرین کا مسافر بردار طیارہ ایران نے غلطی سے مار گرایا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان کے خیال میں یوکرین کی بین الاقوامی فضائی کمپنی کا بوئنگ 737-800 طیارہ میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل تہران کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اڑنے والا یوکرین کا بوئنگ 800 -737 مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس میں جہاز میں مسافروں اور عملے سمیت 176 افراد سوار تھے۔طیارہ اڑان بھرنے کے آٹھ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار عملے اور مسافروں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ پایا۔
یوکرین نے ابتدا میں کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کہیں طیارہ کوئی میزائل لگنے سے تو تباہ نہیں ہوا لیکن ایرانی حکام نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔
یوکرین کی فضائی کمپنی کا طیارہ ایران کی طرف سے عراق میں دو امریکی اڈوں پر میزائل داغے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی تباہ ہوا تھا۔
سی بی ایس امریکی خفیہ اداروں کے اعلی اہلکاروں کے حوالے سے خبر دے رہا ہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں پہلے دو سرخ شعلے جو میزائلوں کے چلائے جانے کے تھے نظر آئے اور اس کے بعد ایک سرخ شعلہ دکھائی دیا جو کہ طیارے کے تباہ ہونے کا تھا۔
دریں اثنا امریکی جریدہ نیوز ویک نے پینٹاگن اور اعلیٰ خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ عراقی خفیہ اہلکار بھی یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ یوکرین کا جہاز روسی ساخت کے ’تور‘ میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اس بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔
ایران کا یوکرینی طیارے کا بلیک باکس دینے سے انکار
ایران نے تہران میں تباہ ہونے والے یوکرین کے طیارے کا بلیک باکس طیارہ بنانے والی بوئنگ کمپنی یا امریکہ کو دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ہوائی بازی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران تحقیقات کی سربراہی کرنے کا حق رکھتا ہے۔لیکن اس میں طیارہ بنانے والی کمپنی بھی شامل ہوتی ہے اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ممالک کے ماہرین بلیک باکس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ یوکرین کا طیارہ ایک ایسے وقت میں تہران کی حدود میں گر کر تباہ ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری تھی اور اس سے کچھ ہی لمحے پہلے ایران نے عراق میں موجود دو امریکی اڈوں کو میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی میں چھپنے والی خبر میں ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ علی عابد زادے نے کہا ہے کہ ’ہم بلیک باکس کو مینوفیکچرر اور امریکہ کو نہیں دیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کی تحقیقات ایران کا ہوائی بازی کا ادارہ کرے گا لیکن یوکرین بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔مسٹر عابد زادے نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کونسا ملک بلیک باکس کے کاک پٹ کے وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا جائزہ لے گا۔
بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ پھر بھی ضرورت پڑے پر معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔ جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان تحقیقات میں کردار ادا کرنے کی توقع کر رہا ہے اور اس نے تکنیکی معاونت کی بھی پیشکش کی ہے۔
اس سے قبل یوکرین کے وزیر خارجہ ویدیم پریسٹاکیو نے کہا ہے کہ جہاز میں 82 ایرانی، 63 کنیڈین، جہاز کے عملے سمیت 11 یوکرینی، سویڈن کے دس، افغانستان کے چار، جبکہ برطانیہ اور جرمنی کے تین تین شہری سوار تھے۔
ایران کے فوجی حکام نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ جو یوکرین کے طیارے کے بارے میں گردش کر رہی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایرانی فوج کے ترجمان کے حوالے سے لکھا کہ انھوں نے ان ‘افواہوں’ کو کہ یوکرین کے جہاز کی تباہی تہران میں کسی چیز کے ٹکرانے سے ہوئی کو امریکہ کی جانب سے استعمال ہونے والا نفسیاتی جنگ کا حربہ قرار دیا۔
انھوں نے ان افواہوں کو مکمل طور پر غلط اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
یہ طیارہ یوکرین کی قومی فضائی کمپنی کا تھا اور تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو جا رہا تھا۔
پروازوں کا جائزہ لینے والی ویب سائٹس کے مطابق یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائنز کا بوئنگ 737 طیارہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 6.12 پر روانہ ہوا تھا اور محض آٹھ منٹ کے بعد گر گیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران میں یوکرین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی بنا پر پیش آیا ہے اور اس کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔حادثے کے بعد تہران میں موجود یوکرینی سفارت خانے نے یوکرین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے ’ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز انجن میں تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا۔ اس وقت کسی دہشتگرد حملے کے امکان کو رد کر دیا گیا ہے۔‘تاہم بعد میں انھوں نے وہ بیان تبدیل کر دیا اور کہا کہ حادثے کی وجوہات کے بارے میں باضابطہ تحقیقات سے پہلے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker