اہم خبریں

ملکہ نے ہیری اور میگھن کو شاہی القابات کے استعمال سے روک دیا

لندن : برطانیہ میں بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن آئندہ شاہی خطابات استعمال نہیں کر سکیں گے جبکہ شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے ملنے والے عوامی فنڈز اب انھیں نہیں دیے جائیں گے۔
شہزادہ ہیری اور میگھن اب باضابطہ طور پر ملکہ برطانیہ کی نمائندگی بھی نہیں کر سکیں گے۔ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس (شہزادہ ہیری اور میگھن) کا کہنا ہے کہ وہ فروگمور کاٹیج کی تزین و آرائش اور بحالی کے لیے ٹیکس دہندگان کی فنڈز سے اٹھنے والے 24 لاکھ پاؤنڈز کی رقم بھی واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فروگمور مستقبل میں ان کا گھر رہے گا۔
بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا اطلاق رواں برس موسم بہار سے ہو گا۔ یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے جب شاہی جوڑے نے رواں ماہ یہ اعلان کیا کہ وہ ’سینیئر رائلز‘ کے عہدوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور اس کے بعد گذشتہ پیر کو اس شاہی جوڑے کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے شاہی خاندان کے سینیئر اراکین میں بات چیت ہوئی۔
ملکہ برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کئی ماہ کی بات چیت اور حالیہ گفتگو‘ کے بعد وہ (ملکہ) بہت ’خوش ہیں کہ ہم نے مل کر اپنے پوتے اور ان کے خاندان کے لیے ایک تعمیری اور معاون راستہ تلاش کر لیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہیری، میگھن اور آرچی میرے خاندان کے محبوب رکن رہیں گے۔میں ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہوں جس کا سامنا انھوں نے گذشتہ دو برس کے دوران شدید چھان بین کے نتیجے میں کیا ہے، میں ان کی مزید آزادانہ زندگی گزارنے کی خواہش کی حمایت کرتی ہوں۔‘
’میں ملک بھر میں، دولت مشترکہ کے ممالک میں اور اس سے بھی آگے ان کے جذبے کے ساتھ کیے گئے کام پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر جس طرح میگھن بہت جلدی اس (شاہی) خاندان کا حصہ بنیں ہیں اس پر مجھے فخر ہے۔‘
’میرے پورے خاندان کو امید ہے کہ آج ہونے والا معاہدہ ان کو اپنی آئندہ پرسکون اور خوشگوار زندگی کی ابتدا کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔‘
بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ شاہی جوڑا نے اس بات کو سمجھا کہ انھیں سرکاری فوجی تقرریوں سمیت شاہی فرائض سے دستبرداری اختیار کی ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب وہ مستقبل میں شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے عوامی فنڈز حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘
’چونکہ وہ اب باضابطہ طور پر ملکہ کی نمائندگی نہیں کریں گے، سسیکسیز (ہیری اور میگھن) نے واضح کیا ہے کہ وہ جو بھی کریں گے وہ ملکہ برطانیہ کی اقدار کے تسلسل میں ہو گا۔‘
’چونکہ (ہیری اور میگھن) شاہی خاندان کے فعال ممبران نہیں رہے ہیں اس لیے وہ شاہی خطابات کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔‘
بکنگھم پیلیس نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس شاہی جوڑے کی سکیورٹی کے معاملات آئندہ کس نوعیت کے ہوں گے۔
بکنگھم پیلیس اور ملکہ برطانیہ کے یہ بیانات اس بات کا اظہار ہیں کہ اس حوالے سے ہونے والی گفت و شنید مکمل ہو چکی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز پر شاہی جوڑے نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی بقیہ زندگی برطانیہ اور شمالی امریکہ میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں وہ اپنا ’نیا پراگریسیو کردار‘ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
گذشتہ برس شاہی جوڑے نے ان مشکلات کا تذکرہ کیا تھا جن کا سامنا انھیں حالیہ مہینوں میں شاہی خاندان کا رکن ہونے کی باعث میڈیا کی بہت زیادہ توجہ کی وجہ سے ہوا تھا۔
ڈیوک آف سسیکس نے اس اندیشے میں اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ ’انھیں طاقتور قوتوں‘ کا شکار ہو جائیں گی جن کی وجہ سے ان کی والدہ کی موت واقع ہوئی تھی۔

منگل کو میگھن نے وینکور میں ایک ایسے خیراتی ادارے کا دورہ کیا جو ایسی نوعمر لڑکیوں کی مدد کرتی ہے جو غربت کا شکار ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker