اہم خبریں

لال مسجد پر مولوی عبدالعزیز نے پھر قبضہ کر لیا : اسلام آباد میں کشیدگی

اسلام آباد :دارالحکومت اسلام آباد میں محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام لال مسجد پر ایک مرتبہ پھر مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے قبضہ کر لیا ہے اور موجودہ حکومت سے جہاد کشمیر شروع کرنے اور شریعت کے نافذ کا مطالبہ کیا ہے۔
مولانا عبدالعزیز جو اس مسجد کے خطیب بھی رہ چکے ہیں ان کی طرف سے تین مطالبات کیے گئے ہیں جن میں مسجد سے متصل سرکاری زمین پر بنائے گئے مدرسے کو بھی از سر نو تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے یہ مدرسہ فوجی آپریشن کے دوران یہ کہہ کر مسمار کر دیا تھا کہ یہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تین مطالبات کے پورے ہونے تک انتظامیہ یا حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مسجد کے لیے ان کے والد اور بھائی نے قربانیاں دی ہیں اور حکومت ان کو یہاں سے بے دخل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ اور ایسی مساجد ہیں جہاں خطیب ریٹائرڈ ہوئے مگر اس کے باوجود نئے خطیب تعینات نہیں کیے گئے تو ایسے میں انھیں زبردستی ہٹا کر لال مسجد میں نئے خطیب کی تقرری میں اتنی عجلت کیوں برتی گئی ہے۔
مولانا عبدالعزیز نے گذشتہ جمعے کا خطبہ دیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ ان سے مسجد کا قبضہ واپس لینے کے لیے انتظامیہ نے ان سے مذاکرات شروع کیے تاہم ابھی تک تعطل کی صورت حال برقرار ہے۔
تھانہ آبپارہ کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ دو دن سے لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی پر مامور ہیں۔
مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات پولیس ان کے لیے کھانا لے کر آنے والوں کو بھی روک لیتی ہے، تاہم پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ یہ تنازع انھیں خطابت سے ہٹانے کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق اس مسجد کا نظم و نسق ان سے بہتر کوئی نہیں چلا سکتا۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے لال مسجد تنازع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ مولانا عبدالعزیر اس آپریشن میں خواتین کا برقعہ اوڑھ کر فرار ہو گئے تھے، جبکہ ان کی والدہ اور بھائی اس آپریشن میں ہلاک ہو گئے تھے۔
چار سال قبل مولانا عبدالعزیز نے دو مختلف مقدمات سے ضمانت ملنے کے بعد سنہ 2016 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے سے متعلق بیان دیا تھا۔
عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمنائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2007 میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن کرنے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت دیگر تمام کرداروں کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔
جن دو مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت منظور کی گئی ان میں سول سوسائٹی کے کارکن کو دھمکیاں دینے کے علاوہ مذہبی منافرت اور حکومت کے خلاف شرانگیز تقاریر کرنے کے مقدمات شامل تھے۔
تھانہ آبپارہ کے انچارج نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں مقدمات میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں اگر اُنہیں گرفتار کیا جاتا تو اس سے وفاقی دارالحکومت میں امن عامہ کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker