اہم خبریں

آسیہ بی بی کے لئے فرانس کی شہریت : توہین مذہب میں گرفتار ملزموں کی مدد کرنے کا اعلان

پیرس : پاکستان ميں کئی برس تک توہين مذہب کے الزام ميں قيد رہنے والی مسيحی خاتون آسيہ بی بی کو فرانس کی جانب سے اعزازی شہريت دے دی گئی ہے۔ آسیہ بی بی کو منگل 25فروری کے روز فرانس کی اعزازی شہریت دی گئی۔اس سلسلے ميں انہيں پيرس کی ميئر اينے ہڈالگو کی جانب سے ايک سرٹيفکيٹ ديا گيا۔ فرانس کی حکومت نے آسيہ بی بی کے ليے اعزازی شہريت کا اعلان 2014 میں کيا تھا تاہم عملی طور پر يہ اس ہفتے ممکن ہوا۔
آسیہ بی بی پر جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں ان کے گاؤں کی بعض خواتین نے توہین مذہب کا الزام لگایاجس پر بعد ازاں ان کے خلاف مقدمہ درج کر ليا گیا۔ مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹرائل کورٹ نے انہیں نومبر 2010 میں توہین مذہب کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی تھی۔ البتہ 2019ء میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بينچ نے آسيہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے زيريں عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے انہيں رہا کرنے کا حکم جاری کيا۔ رہائی کے فوری بعد آسیہ بی بی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔مسیحی خاتون آسیہ بی بی نے فرانس میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی تھی۔ اپنی درخواست میں آسیہ بی بی نے کہا تھا کہ وہ فرانس ميں رہنے کی خواہشمند ہیں۔ ان کے بقول فرانس وہ ملک ہے جس نے اُنہیں نئی زندگی دی۔ گزشتہ روز فرانس کے ‘آر ٹی ایل‘ ریڈیو سٹيشن پر ايک انٹرویو کے دوران آسیہ بی بی نے کہا کہ فرانس میں رہنا ان کی دلی خواہشات میں سے ایک ہے۔ بی بی اپنی کتاب کی تشہیر کے سلسلے میں ان دنوں فرانس ميں ہیں۔ ان کی کتاب گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی۔ فرانسیسی زبان میں چھپنے والی ان کی کتاب کا انگریزی عنوان ‘Finally free’ ہے۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ رواں برس ستمبر میں شائع ہو گا۔ کتاب کی مصنفہ این ازبیلا ٹولیٹ ہیں۔فرانسیسی این ازبیلا ٹولیٹ نے آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے مہم چلائی تھی۔آسیہ بی بی نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا میں بھی بہت خوش ہیں لیکن وہ این ٹولیٹ کے ساتھ مل کر پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات پر قيد دیگر افراد کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔ ”این ازبیلا میرے لیے ایک فرشتے کی حيثيت رکھتی ہیں۔‘‘
بی بی سی کے مطابق پاکستان میں توہینِ مذہب کے جھوٹے الزام میں آٹھ برس تک قید رہنے کے بعد بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم سے اپیل کرتی ہیں کہ ملک میں توہینِ مذہب کے مقدمات کی جامع تحقیقات ہونی چاہییں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بےگناہ کو سزا نہ ملے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بی بی سی کی مشعل حسین کو دیے گئے انٹرویو میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا ’جب بھی ایسا کچھ ہو، اس کی جامع تحقیقات ہونی چاہییں۔ کسی بےگناہ کو بلاوجہ سزا نہیں ملنی چاہیے اور وہ بےگناہ لوگ جو جیلوں میں ہیں انھیں رہائی ملنی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’توہینِ مذہب کے معاملے میں الزام لگانے والوں اور جس پر الزام لگا ہو دونوں سے مناسب پوچھ گچھ ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے تفتیشی عمل میں بہت سے مسائل ہیں اور یہ بتانا بھی مشکل ہوتا ہے کہ کون کس سے ملا ہوا ہے اس لیے یقینی بنانا ضروری ہے کہ سچ جانا جائے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker