کھیل

شکست کے بعد ویرات کوہلی بد اخلاق، کیوی صحافی پر برس پڑے

کرائسٹ چرچ:بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی اپنی پرفارمنس کے ساتھ ایک پہچان اور اپنے رویہ کے حوالے سے دوسری شناخت رکھتے ہیں.گراونڈ میں جارحانە موڈ،اشتعال انگیز حرکات کی وجہ سے اکثر تنقید کی زد میں ہوتے ہیں انکا ریکارڈ یەبھی چلا آرہا ہے کہ ان سے شکست ہضم نہیں ہوتی چنانچہ گراؤنڈ میں بچا کچا غصہ یہ میچ کے فوری بعد کی پریس کانفرنس میں اتارتے ہیں ۔ایسا ہی ایک نظارہ کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کی شکست کے بعد انٹر نیشنل میڈیا کی ہیڈ لائنز بنا.بھارتی ٹیم جو کہ عالمی نمبر ون پوزیشن پر موجود ہے۔2 ٹیسٹ میچ میں وائٹ واش شکست معمولی بات نہیں تھی.اوپر سے 4 اننگز میں صرف 38 رنز ویرات کوہلی کیلئے کسی دوہرے صدمے سے کم نہیں تھے،چنانچہ میچ کے بعد کوہلی ایک حقیقی سوال پر آپے سے باہر ہوگئے.نیوزی لینڈ کے مقامی صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیوی کپتان کین ولیمسن کے آؤٹ ہونے پر انھوں نے جو اشارے کئے، زبان چلائی اور پھر باہر کا راستہ دکھایا کیا وہ درست عمل تھا؟کوہلی اس پر برہم ہوگئے اور یوں جواب دیا“تم کیا سوچتے ہو، اسکا جواب میں تم سے مانگتا ہوں.(بھارتی کپتان کا چہرہ اس موقع پر سرخ پڑ چکا تھا).تم کو اسکا مکمل جواب چاہیئے تو اپنے سوال کو ذرا بہتر اور مکمل کرو، تم یہاں آدھے سوال اور آدھی تفصیل کے ساتھ مت آؤ،اگر تم اس کو ایک تنازع بنانا چاہتے ہو تو یہ اسکا پلیٹ فارم نہیں ہے.میں نے میچ ریفری مدوگالے سے بات کرلی انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا تو معاملہ ختم ہوچکا. ”نیوزی لینڈ کے مقامی صحافی کا اتنا تلخ و تیز جواب سن کر چہرہ لٹک گیا.آئی سی سی قوانین کے مطابق کسی بھی کرکٹر کی جانب سے ایسا رویہ کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہےلیکن چونکہ یہ طاقتور کرکٹ ملک کے کپتان کا معاملہ تھا تو میچ ریفری کے لئے بھی شاید نوٹس کے ضمن میں نہیں آتا ہوگا اور شاید کپتان ویرات کوہلی کا اس طرح بولنا بھی بد اخلاقی میں شمار نہیں ہوتا ہوگا.
(عمران عثمانی)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker