اہم خبریں

لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ روکنے کی درخواست مسترد کر دی

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر رواں ماہ ہونے والی عورت مارچ کو روکنے کے خلاف دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ قانون اور آئین کے تحت عورت مارچ کو نہیں روکا جا سکتا۔
وکیل اظہر صدیق کے ذریعے منیر احمد نامی شخص کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے منگل کے روز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مامون الرشید شیخ نے کہا کہ ’آئینِ پاکستان میں ہر شحض کو انجمن سازی کی آزادی حاصل ہے۔‘
عدالت نے پولیس کو عورت مارچ کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عورت مارچ کے منتظمین کو بھی ’بداخلاقی اور نفرت انگیزی سے باز‘ رہنے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’عورت مارچ ایک ریاست مخالف خفیہ ایجنڈا تھا جس کا مقصد بدامنی اور بداخلاقی پھیلانا تھا۔‘
وکیل اظہر صدیق نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ مارچ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے حالیہ قانون اور پنجاب ریڈ زون ایکٹ کو لاگو کرنے کے لیے حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں۔
تاہم ان کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنے کے بعد عدالت نے نشاندہی کی تھی کہ آئین کے تحت عورت مارچ کے انعقاد کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس اور انتظامیہ سے جواب مانگا تھا کہ وہ مارچ کو سکیورٹی کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔
منگل کے روز جب سماعت کا آغاز ہوا تو پولیس کی طرف سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے جواب داخل کروایا، جس کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو عورت مارچ کو ‘فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات‘ جاری کر دی گئیں تھیں۔
پولیس کی جانب سے جہاں ایک طرف سکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی وہیں پولیس نے ’دہشت گردی کے ممکنہ خطرے‘ کا اظہار بھی کیا۔ پولیس کی طرف سے عدالت میں داخل جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ ضلعی انتطامیہ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی ملاقات میں عورت مارچ کے منتظمین کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گذشتہ برس کے عورت مارچ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کئی مذہبی اور سماجی گروپوں نے پولیس کو درخواستیں دے رکھی ہیں۔
’ان درخواستوں میں انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ عورت مارچ کی اجازت دینے سے پہلے مارچ کے لیے ضابطہ اخلاق کا تعین کریں۔ تاہم عورت مارچ کے منتظمین کی طرف سے مارچ کے شرکا کے حوالے سے کوئی ضمانت دینے سے گریز کیا گیا ہے۔‘
پولیس نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں یقین دہانی کروائی کہ عورت مارچ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی، ’تاہم مارچ کے شرکا کو چاہیے کہ وہ کسی قسم کے متنازع اقدام سے گریز کریں تا کہ مارچ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

( بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker