اہم خبریں

میر شکیل الرحمٰن 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور: احتساب عدالت نے جنگ و جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کا 11 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 24 مارچ تک نیب کی تحویل میں دے دیا۔نیب کی ٹیم میر شکیل الرحمان کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت لے کر پہنچی اور اس موقع پر عدالت کے اطراف بھی سیکیورٹی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
میرشکیل الرحمان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے پاور آف اٹارنی جمع کرائی۔بیر سٹر اعتزاز احسن نے میر شکیل الرحمان سے ملاقات کی اجازت مانگی جس پر عدالت نے ملاقات کی اجازت دے دی۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔
وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پر عدالت میں میر شکیل الرحمان کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ نیب نے میرشکیل الرحمان کو کوئی نوٹس نہیں دیا، نیب کے پاس ان کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں، نیب کے چیئرمین نے وارنٹ گرفتاری پردستخط کیے، ہمیں ابھی تک وارنٹ گرفتاری نہیں دیا گیا۔
اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ 34 سال بعد میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا جو بدنیتی ثابت کرتا ہے، انہوں نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی، زمین تیسرے بندے سے قانون کے مطابق خریدی گئی، میرے موکل کی زمین میں کسی بھی قسم کی دو نمبری نہیں ہے، میرے موکل کا نام میر شکیل الرحمان ہے اس وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا۔
میر شکیل الرحمان کے وکیل نے مزید کہا کہ کچھ لوگ میرے موکل پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے، بزنس مین کو طلب کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، خلاف قانون کارروائی نیب کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔
اعتزاز احسن کا عدالت میں کہنا تھا کہ نیب نے 28 فروری کو طلبی کا نوٹس دیا، نیب نے جب طلب کیا وہ پیش ہوئے، میر شکیل الرحمان نے کس طرح قانون کی خلاف ورزی کی؟ 12 مارچ کو وہ دوبارہ نیب کے سامنے پیش ہوئے، نیب نے کوئی بات نہیں پوچھی بس کہا چیئرمین نیب کا حکم ہے،آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے، میر شکیل الرحمان کہیں نہیں جارہے، نیب نے ان کا موقف نہیں سنا اور گرفتار کرلیا، شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے اسی طرح گرفتار کیا تھا، گزشتہ روز میر شکیل الرحمان نیب کے سوالوں کے جواب لیکر گئے تھے۔
اس موقع پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر حافظ اسد اللہ سے سوال کیا کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیوں کیا؟ اس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ دسمبر 2019 میں میر شکیل الرحمان کے خلاف تحقیقات شروع کیں، نوازشریف جب وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ان سے 54 پلاٹ حاصل کیے، میر شکیل الرحمان نے غیر قانونی طریقے سے ایل ڈی اے کے پلاٹ اپنے نام کروائے، یہ ان پلاٹوں سے متعلق ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔
نیب پراسیکیوٹر کے جواب پر میر شکیل الرحمان کے وکیل اعتزاز احسن نے مؤقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ملزم تفتیش میں تعاون کر رہا ہو تو اُس کی گرفتاری نہیں بنتی ،اس لیے میرے موکل کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا اور اگر گرفتاری غیر قانونی ہو تو عدالت رہا کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ یہ ایک منفرد کیس ہے جس میں نیب نے مجوزہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا، نیب کو ریمانڈ نہیں ملنا چاہیے، اس میں جوڈیشل ریمانڈ بھی نہیں ملنا چاہیے، جج صاحب آپ کو اختیار ہے، آپ میر شکیل الرحمان کو رہا کر سکتے ہیں اور آج انہیں رہا ہونا چاہیے۔
بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کا 11 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 24 مارچ تک نیب کی تحویل میں دے دیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں میر شکیل الرحمان نے کہا کہ میں نے نیب کو کہا میں لکھ کر جواب لایا ہوں، بتا دیں کون کون سی چیز چاہیے، مجھ سے مزید سوالات پوچھے گئے، میں نے ان کے بھی مکمل جوابات دے دیے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ گیا میری پوری بات نہیں سنی گئی، نیب نے مجھے مکمل سنا ہی نہیں، انہوں نے ریکارڈنگ کی ہوئی ہے، کاش نیب وہ ریکارڈنگ میڈیا کو دے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب نے 34 برس قبل مبینہ طور پر حکومتی عہدے دار سے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدنے کے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کوحراست میں لیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker