اہم خبریں

کورونا سے ہلاکتیں جاری ، متاثرین کی تعداد 467 وزیر اعظم نے پاک افغان سرحد کھول دی

اسلام آباد : ملک میں تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ نہ رک سکا اور وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں پہلی ہلاکت سامنے آئی ہے جبکہ پنجاب میں مزید نئے کیسز آنے سے ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد467 ہوگئی ہے۔ مذکورہ مریض کراچی کا رہائشی تھا اور اسے مختلف بیماریاں بھی لاحق تھیں تاہم مریض کی کوئی سفری تاریخ موجود نہیں تھی۔
اس حوالے سے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بذریعہ ویڈیو پیغام تصدیق کی کہ سندھ میں ایک 77 سالہ شخص کی کورونا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک نجی ہسپتال میں ایک موت ہوئی ہے اور 77 سالہ مریض کو مزید بیماریاں بھی لاحق تھیں۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا تھا کہ مریض کو کینسر، ذیابیطس اور فشار خون (بلڈ پریشر) کی شکایت بھی تھی جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بہت ناساز تھی، لہٰذا جب انہیں کورونا وائرس ہوا تو ان کی موت اس سے واقع ہوگئی۔علاوہ ازیں محکمہ صحت سندھ کی میڈیا کور آرڈینٹر میران یوسف کا کہنا تھا کہ مریض کراچی کا رہائشی تھا اور ان کی کوئی سفری یا رابطے کی تفصیلات نہیں ملیں۔علاوہ ازیں انہوں نے صوبے میں مریضوں کی تعداد میں تصحیح کی اور گزشتہ روز بتائے گئے 245 افراد کی جگہ نئی تعداد 238 بتائی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کچھ ٹیسٹ دو مرتبہ ہونے کی وجہ سے تعداد میں فرق آیا، تاہم اصل تعداد اس وقت 238 ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجود 238 افراد میں سے 87 افراد سکھر کے علاوہ صوبے میں متاثر ہیں، جس میں سے 3 صحت یاب اور ایک ہلاک ہوچکا ہے اور 83 زیر علاج ہیں۔
ادھر وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن سپین بولدک سرحد کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ٹرکوں کو افغانستان جانے کی اجازت دے دی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کورونا وائرس کے پیشِ نظر افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تاہم ان کے پیغام یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا سرحد کھلنے سے عوام کو بھی آمدو رفت کی اجازت ہوگی یا نہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘کورونا وائرس (COVID-19) جیسی عالمی وبا پھوٹنے کے باوجود ہم اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے پوری طرح یکسو اور پرعزم ہیں’۔اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ بحران کی اس کیفیت میں ہم پوری ثابت قدمی کے ساتھ افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
خیال رہے کہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی عالمی وبا ‘کورونا وائرس’ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔اس سلسلے میں 2 مارچ کو افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز سامنے آنے پر پاکستان نے چمن کے مقام پر پاک افغان سرحد 7 روز کے لیے بند کردی تھی۔بعدازاں 13 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا جس میں افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ بھی شامل کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ افغانستان میں اب تک کورونا وائرس سے 22 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے ایک مریض صحتیاب ہوچکا ہے۔دوسری جانب پاکستان میں 453 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے، جن میں سے 4 افراد صحتیاب ہوئے اور 3 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔چین سے پھیلنے والی یہ عالمی وبا دنیا بھر میں 10 ہزار 30 زندگیوں کے چراغ گل کر چکی ہے جبکہ اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 44 ہزارہے ۔
( بشکریہ : ڈان اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker