اہم خبریں

کورونا : اموات بڑھنے لگیں ، پاکستان میں متاثرین تین ہزار : پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن معطل

لاہور: پاکستان میں دن بدن کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اب تک پورے ملک میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3059 ہو چکی ہے۔صوبہ پنجاب وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 1319 کنفرم مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دیگر صوبوں کی بات کی جائے تو سندھ 881، خیبر پختونخوا 372، گلگت بلتستان 206، بلوچستان 189، اسلام آباد 78 جبکہ آزاد کشمیر میں 14 مریض کورونا میں مبتلا ہیں۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 179 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اب تک اس وبا سے اموات کی تعداد 45 ہو چکی ہے۔ 18 مریضوں کی حالت تشویشناک جبکہ 170 مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب کی صورتحال
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 1319 کنفرم مریض ہیں۔ 537 عام شہریوں، 312 زائرین سنٹرز، 347 رائے ونڈ سے منسلک افراد اور 3 قیدیوں میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ڈی جی خان 213، ملتان 91، فیصل آباد 5، رائے ونڈ مرکز 303، منڈی بہاء الدین 3، سرگودھا 13، وہاڑی 13، راولپنڈی 6، ننکانہ 2، گجرات 5 اور رحیم یار خان کے دو شہریوں میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ سینٹرز میں رکھا گیا ہے۔ صوبہ بھر کے 33 اضلاع میں تبلیغی ارکان کے لیے یہ سینٹرز بنائے گئے ہیں۔پنجاب کے 26 اضلاع سے کورونا وائرس کے مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ لاہور میں کورونا وائرس کے 220 کنفرم مریض ہیں۔ تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں۔ متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔
ادھرکراچی ایئر پورٹ پر محکمہ صحت سندھ کے حکام کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے عملے کو زبردستی قرنطینہ میں رکھنے کے معاملے پر بدنظمی کے بعد پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک نے کراچی سے فلائٹ آپریشن معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔دوسری جانب پاکستان ائیر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پی آئی اے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے قومی ایئرلائن کے ممبران پائلٹس کو پروازیں چلانے سے روک دیا ہے۔اتوار کو لندن سے کراچی واپس آنے والی پرواز کے چار پائلٹس کو ایئرپورٹ پر کورونا وائرس کے شبے میں روک لیا گیا تھا۔
پالپا نے فلائٹ آپریشن میں کورونا وائرس کے پیش نظر حفاظتی انتظامات اور ضوابط کی خلاف ورزی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ پی آئی اے نے سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی پابندی نہیں کی۔
جنرل سیکرٹری پالپا کیپٹن ناریجو نے کہا ہے کہ آپریشن شروع کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رضا مندی ظاہر کی تھی مگر انتظامیہ محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے ممبران کی صحت سب سے پہلی ترجیح ہے، لہٰذا پالپا ممبران پائلٹس مزید کسی ڈومیسٹک یا بین الاقوامی فلائٹ آپریشن میں اس وقت تک حصہ نہیں لیں گے جب تک ان کے تحفظات کا ازالہ نہیں ہو جاتا۔
پالپا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ گلگت سے اسلام آباد روانگی سے قبل پرواز میں جراشیم کش سپرے نہیں کیا گیا اور پوچھنے پر انجینئرنگ عملے نے پائلٹس کو بتایا کہ جراثیم کش ادویات کی قلت ہے جس پر پائلٹس نے ڈی بریف نوٹ تحریر کر دیا۔
کیپٹین ناریجو کے بقول سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ائیرلائن کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ جہاز میں مسافروں کے سوار ہونے سے قبل سپرے ضروری ہے لیکن پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے ہدایت نامہ نظر انداز کیا گیا۔
جنرل سیکرٹری پالپا کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا جانے والی پرواز میں بھی 40 فیصد مسافروں کو ماسک فراہم نہیں کیے گئے، کپتان کی نشاندہی پر ماسک جہاز میں پہنچائے گئے جس کے باعث جہاز 34 منٹ تاخیر سے روانہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہدایت نامے کے مطابق بغیر ماسک کے مسافر جہاز میں پہنچ نہیں سکتا جبکہ کینیڈا جانے والی پرواز پر مسافروں کی سکریننگ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئی۔ یہ تمام تحفظات پرواز کے پائلٹ نے اپنے ڈی بریف نوٹ میں بھی لکھے ہیں۔
علاوہ ازیں پالپا نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کے عملے کو حفاظتی ماسک اور گلوز کم تعداد اور گھٹیا معیار کے فراہم کیے گئے ہیں، ساتھ ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مطالبہ بھی کیا کہ پی آئی اے کی پروازوں میں کووڈ 19 سے متعلقہ ہدایت نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی تحقیقات کروائی جائیں۔قومی ایئر لائن کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کی خصوصی پرواز اسلام آباد سے لندن گئی اور وہاں سے خالی جہاز واپس کراچی آیا، کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اصول پر عملدرآمد کرتے ہوئے جہاز کے ساتھ ڈبل عملہ گیا تھا جس میں سے کیبن کریو نہ جہاز سے اترا نہ کسی سے رابطے میں آیا۔
عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق اگر یہ تمام حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں تو پھر ہوائی عملے کو قرنطینہ میں نہیں رکھا جاتا بلکہ ان کا صرف ٹیسٹ ہوتا ہے اور انہیں گھر میں آئسولیشن میں رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

پی آئی اے کے مطابق اس کے عملے کو ہدایت نامے کے برعکس قرنطینہ میں رکھا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

اس حوالے سے ایئرپورٹ پر حکام کو پرواز کے پہنچنے سے تین گھنٹے پہلے آگاہ کر دیا جاتا ہے، تاہم پی آئی اے ترجمان کے مطابق ان تمام وضح کردہ ضابطوں کے باوجود جب پی آئی اے کی خصوصی پرواز کراچی پہنچی تو محمکہ صحت سندھ کے حکام نے زبردستی ہوائی عملے کو قرنطینہ مرکز جانے کے لیے کہا جس پر پی آئی اے کے عملے اور محکمہ صحت سندھ کے حکام میں بدمزگی ہو گئی۔
عبداللہ حفیظ کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے حکومت پاکستان کی مقرر کردہ ہدایات پر تمام ایئرپورٹس پر سختی سے عمل پیرا ہے جس میں جہاز کو ڈس انفیکشن کرنے سے لے کر عملے کی صحت و سلامتی کی احتیاطی تدابیر شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر پیش آنے والا واقعہ حکومت پاکستان کی ہدایات کے منافی ہے۔
’خالی جہاز لندن سے واپس آنے سے تین گھنٹے قبل تمام حکام کو اطلاع کر دی گئی تھی تاہم ہدایات کے باوجود محکمہ صحت سندھ کے عملے نے کپتانوں کو زبردستی قرنطینہ کرنے پر اصرار کیا۔‘
قومی ائیرلائن کے ترجمان نے بتایا کہ ہدایات کے منافی سلوک پر پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
عبداللہ حفیظ نے واضح کیا کہ جب تک ایئرپورٹس پر حکومت پاکستان کی وضح کردہ ہدایات میں ہم آہنگی نہیں آتی سی ای او پی آئی اے نے کراچی سے فضائی آپریشن معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
کراچی ایئرپورٹ سے پی آئی اے کا 11 اپریل تک جاری خصوصی آپریشن معطل ہونے کی صورت میں ٹورونٹو، لندن اور کوالا لمپور کے لیے شیڈول خصوصی پروازیں تعطل کا شکار ہوں گی۔
سی ای او ارشد ملک کا کہنا ہے کہ ’پی آئی اے کا فضائی عملہ قومی ہیروز ہیں جو خطرات کے باوجود بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پی آئی اے نے اپنے ان ہیروز کی ہر ممکنہ حفاظت کو یقینی بنایا ہوا ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرتی۔‘
عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ فضائی عملے میں کورونا وائرس کی موجودگی کی اطلاعات گمراہ کن ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔ اس وقت فضائی عملہ پی آئی اے کے ہوٹل میں آئسولیشن میں ہے اور ٹیسٹ کے نتائج کا منتظر ہے۔
اس حوالے سے محمکہ صحت سندھ کا مؤقف جاننے کے لیے ترجمان سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ترجمان کی جانب سے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے اعداد و شمار بھی سنیچر سے جاری نہیں کیے گئے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker