اہم خبریں

سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت شریف خاندان کے ارکان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کو قومی احتساب بیورو کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔حدیبیہ ملز ریفرنس وہ مقدمہ ہے جس کا ذکر پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اور پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دو ماہ کی تحقیقات کے دوران بارہا سنا گیا تھا۔یہ ریفرنس مشرف دور میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرینس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔سنہ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔رواں برس ستمبر میں قومی احتساب بیورو نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔نیب حکام کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز کے علاوہ شمیم اختر اور صبیحہ شہباز کو بھی فریق بنایا گیا۔اس اپیل میں نیب حکام کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حقائق کو دیکھے بغیر فیصلے دیے۔اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔نیب نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ مقررہ وقت میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے سے متعلق قانونی قدغن کو بھی ختم کیا جائے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker