اہم خبریں

گالی اور گولی کا سماج نا منظور : لاہور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

لاہور : توہینِ مذہب قوانین کی آڑ میں ایف آئی اے کے بد ترین تشدد کا نِشانہ بننے والے ساجِد مسیح اور پِطرس مسیح کے ساتھ اِظہارِ یکجہتی اور ملک میں تیزی سے پھیلتی مذہبی منافرت کے خِلاف برٹش پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن، کرسچن ٹا ئمز، وائس آف دی مینا ریٹیز اور پیپلز ڈیموکریٹِک فرنٹ نے ہفتہ کے روز پریس کلب لاہور کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین سے خِطاب کرتے ہوئے این ایس ایف ۔ پاکِستان کے سابِق صدر صابِرعلی حیدر نے کہا کہ پاکِستان میں مذہب کے نام پر تفریق پیدا کرنے والے سامراج کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ مذہب کے نام پر محنت کش عوام کو تقسیم کر دیا جائے تاکہ وہ عوامی جمہوری انقلاب کے لیئے اِکٹھے جدوجہد نہ کرسکیں۔ مگر یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے جِس میں ساجد مسیح اور پطرس مسیح جیسے مزدوروں کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی مظالم سے گھبرا کر خود کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے جبکہ گالی، گولی اور مذہبی منافرت کا کاروبار کرنے والوں کو ایک ایک ہزار روپیہ دے کر گھروں کو رخصت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہولی کے دِن ہمارے پاکستانی ہندو بھایئوں کے لیئے عام تعطیل کیوں نہیں۔ کیا وہ پاکستانی نہیں ؟؟ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہندومیریج ایکٹ بنا کر اور ہماری ایک دلت بہن کرشنا کماری کو سینیٹ کی رکنیت دی گئی ۔ وہ پی ڈی ایف کے انقلابی پرچم تلے متحد ہوں گے۔ مسیحی، مسلمان، ہندو، سِکھ اور احمدی وغیرہ کی تفریق اپنی آنے والی نسل کی خوشحالی کے لیئے ختم کرنی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ساجد مسیح کی اصل شناخت ایک مسیحی ہونا نہیں بلکہ ایک مزدور ہونا ہے۔ انہوں نے مظاہرین سے سوال کِیا کہ آج تک کتنے امیر مسیحیوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا جو ساجد مسیح کے ساتھ ہوا، کتنے کامران مائیکلوں کو جلتے ہوئے بھٹے میں زندہ پھینکا گیا؟؟ سو مسئلہ مذہبی شناخت نہیں، بلکہ اصل مسئلہ طبقاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تمام مزدور، کسان اور طلبہ کو انقلاب کے لیئے متحد ہونا پڑے گا۔ اِس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ ہم ہندو، مسلمان، سکھ اور مسیحی بعد میں ہیں، پہلے ہم مزدور ہیں، کسان ہیں، ترقی پسند طلبہ ہیں۔ سامراجی سازش کے تحت جو ہمارے ذہنوں میں مذہبیئت ٹھونسی جا رہی ہے، اس سے انکار کرنا ہوگا۔ آیئے آج سے ہم متحد ہوکر عوامی جمہوری انقلاب کے لیئے کوشش کریں تاکہ کل کو ہمارے کسی بچے کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو ساجد مسیح کے ساتھ ہوا، جو ہماری بیٹی زینب کے ساتھ ہوا یا جو سلوک شہید مشعال خان کے ساتھ ہوا۔مظاہرے سے مہوش بھٹی اور دیگر نے بھی خِطاب کیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker