اسلام آباد : ملک میں گیارہویں انتخابات کے لئے صبح 8بجے سے بغیر کسی تعطل کے جاری رہنے والی پولنگ کاعمل مقررہ وقت شام چھ بجے ختم ہوگیا۔جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوچکا ہے، عوام نے قومی اسمبلی کی 270اور صوبائی اسمبلی کی 570نشستوں کے لئے ووٹنگ میں حصہ لیا۔پولنگ میں 10کروڑ 59لاکھ سے زائد ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کا موقع ملا ۔تاہم پولنگ کے دوران کوئٹہ میں خود کش حملہ ہوا جس میں دو درجن سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دیگر شہروں سے بھی تشدد کے کچھ واقعات رپورٹ ہوئے ۔لاڑکانہ کے حلقہ این اے 200 میں اسکول کے قریب کریکر دھماکے میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں میں تصادم کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔منڈی بہاوالدین کے حلقے میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر 8 پولنگ ایجنٹس کو گرفتار کرلیا گیا ۔ صوابی کے حلقے پی کے 47 نواں کلی میں اے این پی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں فائرنگ ہوئی ، پی ٹی آئی کارکن جان کی بازی ہار گیا جبکہ دیگر 2افراد زخمی ہوئے ۔سانگھڑ کے این اے 2016 کے اسٹیشن یامین ہنکور میں جے ڈی اے اور پی پی کارکنوں کے درمیان فائرنگ ہوئی ،دونوں جماعتوں کے 12افراد زخمی ہوئے ۔لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کے کیمپ پر کریکر حملے میں 3افراد زخمی ہوئے تو لاہور کے حلقے این اے 123 میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کارکن الجھ پڑے،دوسری طرف ان دو جماعتوں میں ملتان کے علاقے شمس آباد میں جھگڑا ہوا ہے ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

