سرائیکی وسیبلکھاری

شمیم عارف قریشی سپرد خاک : خطے کے محکوم عوام کی توانا آواز خاموش ہو گئی

ملتان : معروف شاعر، ادیب ، دانش ور ، انگریزی ادب کے استاد پروفیسر شمیم عارف قریشی کو اتوار کے روز ان کے آبائی علاقے موضع بکھری ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ ایمرسن کالج گراؤنڈ میں اد ا کی گئی جس میں ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں اور شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ پروفیسر شمیم عارف قریشی کی عمر 62 سال تھی اور وہ دو سال قبل ڈائریکٹر کالجز ملتان کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ وہ عمر بھر شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے ۔ شمیم عارف قریشی گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج کے پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ انہوں نے تعلیم و تدریس اور ادب کے علاوہ سرائیکی ثقافتی ااور قومی تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ وہ سرائیکی لوک سانجھ کے بانی ممبران میں تھے ۔ سرائیکی مرثیہ و تہذیب ، جدید سرائیکی شاعری خصوصاً نظم پر ان کی تحریروں اور کافیوں پر مشتمل اکلوتا مجموعہ ” نیل کتھا “کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ وادی سندھ کی تہذیب و ثقافت ان کا پسندیدہ موضوع رہا ۔ ان کے والد غلام محمد خاکستر بھی سرائیکی شاعر تھے ۔ ملتان کے علمی و ادبی حلقوں نے ان کی وفات کو خطے کے محروم عوام کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے کہ وہ ایک توانا آواز سے محروم ہو گئے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker