اہم خبریں

نظام میں اصلاحات اور کرپشن کے خلاف جنگ کروں گا : وزیراعظم کا قوم سے خطاب

اسلام آباد : اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نےملک میں اصلاحات پر مبنی نیا نظام لانے کا اعلان کیاہے اور بیرونی قرضے کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سادگی اپنائیں گے، 2 ملازم اور 2گاڑیاں رکھیں گے ، وزیراعظم ہاؤ س میں یونیورسٹی بنائیں گے،قوم تیار ہوجائے کرپٹ افراد بچیں گے یا ملک بچےگا۔پاکستان کے 22ویں وزیراعظم عمران خان کا قوم سے پہلا خطاب 1 گھنٹہ 9 منٹ طویل تھا ،جس میں انہوں نے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کےلئے اپنا منصوبہ عمل پیش کیا ،ان کا کہناتھاکہ کرپٹ مافیا کے خلاف آپریشن،ملک کی لوٹی دولت واپس لانے اور محکمہ جاتی سطح پر کفایت شعاری اپنانے کےلئے ٹاسک فورسز بنانے،بلدیاتی نظام میں اصلاحات،پنجاب پولیس میں بہتری، صاف پانی اور درخت لگانےکا اعلان کیا ہے۔ان کا کہناتھاکہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائیں گے جو خرچے کم کرنے کے طریقوں پر کام کرے گی، یہ پیسا بچا کر عوام پر خرچ کریں گے،منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر بھیجا گیا پیسا واپس لانے کےلئے بھی ٹاسک فورس بنائیں گے،ایف آئی کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے والوں کو پکڑیں گے،ایس ای سی پی کوٹھیک کریں گے ،جب کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو یہ بہت شور مچائیں گے،کرپشن ختم کرنے کے لیے پورا زور لگائیں گے،نیب کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ سربراہ قرضے لیتے رہیں ، کوئی ملک ایسے ترقی نہیں کر سکتا ،ہمیں اپنے پیر پر کھڑے ہونا ہے،20 کروڑ عوام میں8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں ،امیر لوگ ٹیکس نہیں دیتے ،ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے اس کے بعد عوام کو اعتماد دیں گے کہ آپ کے ٹیکس کی حفاظت کررہے ہیں۔وزیراعظم نے ملک میں انصاف کا نظام ٹھیک کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ عدلیہ میں جو سالوں کیس چلتے ہیں ،عام آدمی کے مسائل ہیں،کیسز اتنے لمبے چلتے ہیں کہ لوگ مرجاتے ہیں، چیف جسٹس سے ہونے والی ملاقات میں اس پر بات کروں گاکہ ایسا نظام لایا جائےکہ فیصلہ ایک سال میں آجائے،چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ بیوہ خواتین کے مقدمات ترجیح بنیاد پر سنے جائیں۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں خیبرپختونخوا کے طرز پر پولیس کا نظام ٹھیک کریں گے،پنجاب کی کابینہ میں ناصر درانی کو اس حوالے سے رول دیں گے،سندھ حکومت سے بھی اس حوالے سے تعاون کریں گے۔ان کا کہناتھاکہ اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں گے،ملک میں سرمایہ کاری لے کر آئیں گے،اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مواقع پیدا کریں گے،وہ پیسا پاکستان لے کر آئیں،تعلیم کا نظام ٹھیک کریں گے،سرکاری اسکولوں کو بہتر کریں گے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہمارے یہاں صاحبان ا قتدار ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز ہندوستان میں رہے،65کروڑ روپے وزیر اعظم کے بیرونی دوروں پر خرچ کیا جاتا ہے،وزیر اعظم ہاوس،1100 کنا ل پر ہے، دوسری طرف ہماری آدھی آبادی2 وقت کی روٹی نہیں کھا سکتی، ہمیں تباہی سے بچنے کے لیے سوچ اور طریقے بدلنے پڑیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی ممالک سے لیا گیا قرضہ ہے ، قرضے اُتارنے کے لیے ہمیں قرضے لینے پڑ رہے ہیں،آج ہمارا بیرونی قرضہ 95 ارب ڈالرز ہوگیا ہے،دنیا بھر میں سب سے زیادہ5 سال کے بچے ہمارے یہاں مرتے ہیں،سب سے زیادہ خواتین زچگی کے وقت انتقال کرجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم بنانا وقت کی ضرورت ہے ،5سال میں 50 لاکھ نئے اور سستے گھر بنائیں گے،صرف اس ایک منصوبے سے 50 صنعتیں چل پڑیں گی،جنوبی پنجاب کو صوبہ بننا چاہیے،کرپٹ مافیا سے مری ذاتی دشمنی نہیں، جو ملک کا پیسہ لوٹے گا اسے نہیں چھوڑوں گا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں 22سالہ جدوجہد کے دوران ساتھ دینے والے کارکنوں کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ لوگ ان کارکنوں کو ٹانگہ پارٹی کا ساتھ دینے کا طعنہ دیتے تھے،قریبی ساتھیوں میں احسن رشید اور سلونی بخاری آج بہت یاد آرہے ہیں، سیاست کو کبھی کرئیر یا پروفیشن نہیں سمجھا،سیاست میں اس لیے آیا کہ پاکستان کو ویسا ملک بنائیں جیسا اسے ہونا چاہیے،قائد اعظم اوراقبال کا پاکستان چاہتا ہوں۔ان کا کہناتھاکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے مشکل مالی حالات نہیں تھے،پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو قرضہ 60ارب روپے تھا جو کہ 2013 میں بڑھ کر 15 ہزار ارب اور اب یہ 28 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے،اس قرض کا سود ادا کرنے کے لئے بھی ہمیں قرضہ لینا پڑرہا ہے،یہ قرضے کا پیسا کہاں خرچ ہوا ،قوم کو بتاؤ ں گا۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ہم ان پانچ ملکوں میں سے ہیں، جہاں گندا پانی پینے سے بچوں کی اموات ہوتی ہیں،ہم ان 5 ممالک میں سے ہیں جہاں خوراک نہ ملنے پر عورتوں کی صحت متاثر ہوتی ہے،کم غذایت کی وجہ سے بچے شدید بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤ س میں 33 بلٹ پروف گاڑیوں کے علاوہ 80گاڑیاں ہیں،وہاں 524 ملازمین کام کرتے ہیں ، میں ان میں سے 2 ملازم اور 2 گاڑیاں اپنے استعمال میں رکھوں گا اور باقی گاڑیاں نیلام کی جائیں گی ،1100 کینال پر محیط وزیراعظم ہاؤ س کے کروڑوں کے اخراجات ہیں، وہاں ہم یونیورسٹی بنائیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار کا طرز زندگی انگریز دور جیسا ہے،ڈی سی ،کمشنر، گورنر بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں،اگر ملک اسی طرح چلتا رہا تو قوم ترقی نہیں کرے گی،ہمیں سوچ اور رہن سہن بدلنا ہوگا،ہمیں دل میں رحم پیدا کرنا ہوگا،45 فیصد بچوں کو صحیح غذا نہیں ملتی،آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں،خود کو بدلنے کیلئے سب سے پہلے قانون کی بالادستی ضروری ہے۔عمران خان نے اپنے خطاب میں خلفا راشدین کے دور کی کئی مثالیں پیش کیں اور کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصول مغرب نے اپنالئے ہیں،ملک کے سربراہ کو صادق اور امین ہوناچاہیے،خلفا راشدین خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کرتے تھے،یہاں لوگ اقتدار میں آتے ہی پیسا بنانے کیلئے ہیں،مدینہ کی ریاست نے یہ تصور دیا کہ کوئی اقتدار میں آکر پیسانہیں بناسکتا،میں جب تک حکومت میں ہوں کسی بھی نوعیت کا کاروبار نہیں کروں گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج سوا2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،یہ ہے ہمارا حال،میں نے ساری زندگی میں ایک چیز سیکھی ہے مقابلہ کرنا،اپنے گھر میں رہنا چاہتا تھا، صرف سیکیورٹی کے باعث اپنے گھر میں نہیں رہ رہا،گورنر ہاؤسز میں کوئی گورنر نہیں رہے گا،تمام گورنر ہاؤسز اور وزیر اعلیٰ ہاؤسز میں سادگی اختیار کریں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker