کراچی : عید کی چھٹیوں کے بعد سوموارکے روز پاکستان میں تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی جس کے بعدآئندہ ہفتے ڈالرکی قیمت میں غیر معمولی اضافے کاامکان ہے ۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہے ، پاکستان پرنہ صرف یہ کہ بیرونی قرضوں کادباﺅبڑھ جائے گابلکہ ڈالرکی قیمت بڑھنے سے اندرون ملک بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ماہرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے برسراقتدارآنے کے باوجودابھی تک کسی واضح اقتصادی پالیسی کااعلان نہیں کیا۔جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کاتوازن بگڑتاجارہاہے اورزرمبادلہ کے ذخائرکم ہورہے ہیں ۔سی پیک منصوبے باعث پاکستان کو ہرماہ مہنگی تعمیراتی مشینری کی درآمدپربھاری اخراجات کرناپڑتے ہیں اوراس کے نتیجے میں ڈالرکی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔پاکستان کی درآمدات میں اضافہ اوربرآمدات میں کمی بھی اقتصادی بحران کاباعث ہے ۔یہ تجارتی عدم توازن اٹھارہ ارب روپے تک پہنچ چکاہے ۔پاکستان میں تجارتی خسارہ اس برس جی ڈی پی کے 4.8فیصدتک پہنچ جائے گا۔حکومت کو اس وقت 27کھرب روپے اداکرناہیں اوریہ ادائیگی بھی ڈالروں میں ہوگی ۔روپے کی قدرمیں مسلسل کمی نہ صرف یہ کہ افراط زرمیں اضافہ کررہی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں قومی بینک کو سودکی شرح میں بھی اضافہ کرناپڑے گا۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کل مارکیٹ کھلنے کے بعد روپے کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ آنے والے دنوں میں ڈالرکو تیزی کے ساتھ پروازکی جانب لے جائے گی ۔
بدھ, فروری 11, 2026
تازہ خبریں:
- نیٹ میٹرنگ ۔۔ امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبست : برملا / نصرت جاوید کا کالم
- ڈاکٹر علی شاذف کا جہان ِحیرت : ظہور چوہان کا اختصاریہ
- پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم
- نیٹ میٹرنگ ختم، بلنگ شروع، سولر صارفین کو یونٹ کی قیمت دینی ہوگی : نیپرا
- اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم
- تہران : انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا
- ناصر ملک ایک ہمہ جہت شاعر و ادیب : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا بلاگ
- گزران: ایک حسّاس روح کی سرگزشت : محمد عمران کا کتاب کالم
- ندیم الرحمان : خدا کا دوست خدا کے حوالے :رضی الدین رضی کا اختصاریہ
- ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ

