کراچی : مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے شہر کی سڑکیں ایک بار پھر تالاب بن گئیں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی۔جمعرات کی صبح کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوا اور مون سون کے تازہ ترین اسپیل نے شہر میں ایک بار پھر جل تھل ایک کر دیا ہے۔
ملیر، قائدآباد، نیشنل ہائی وے، شارع فیصل، لیاری، آئی آئی چند ریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایریا، قیوم آباد، کورنگی، نارتھ کراچی، راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ، حسن اسکوائر، نمائش، گرو مندر، لانڈھی، گلشن حدید، ملیر اور ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں صبح سے ہی تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔موسلا دھار بارش سے شہر کی اہم شاہراہوں پر ایک بار پھر پانی جمع ہوگیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔شہر میں شدید بارش کے باعث حد نگاہ بھی انتہائی کم ہو گئی اور دوپہر کے اوقات میں اندھیرا چھا جانے سے گاڑیوں کی فوگ لائٹس جلاکر سفر کیا جا رہا ہے۔
بارش کے باعث سخی حسن کے قریب نارتھ ناظم آباد کے پہاڑ سے آنے والا پانی آبادی میں داخل ہوگیا جس سے سخی حسن، شادمان، انڈا موڑ اور اطراف کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق بارش شام گئے تک جاری رہ سکتی ہے۔کراچی شہر کے متعدد علاقوں میں منگل کو ہونے والی شدید بارش کے بعد اب تک بحالی کا کام نہیں ہو سکا تھا اور آج کی بارش نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔محکمۂ موسمیات کراچی کے مطابق 27 اگست کی صبح سے دوپہر تک پی اے ایف بیس فیصل اور ناظم آباد کے علاقوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو چکی ہے جبکہ پی اے ایف بیس مسرور کے علاقے میں 98 اور ایئرپورٹ اور اس کے گردونواح میں 80 ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق پی اے ایف بیس فیصل کے علاقے میں اگست کے مہینے میں بارش کا ایک اور نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے اور وہاں 27 اگست کی دوپہر تک کل 485 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔کراچی میں محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ مطابق شام چار بجے تک توقع ہے کہ موسلادھار بارش کا سلسلہ کچھ کم ہو جائے گا مگر ہلکی بارش کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق جمعے کو بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے مگر اس کی شدت آج جتنی نہیں ہو گی۔حکام کے مطابق اس بارش کی وجہ بحیرۂ عرب میں بارشوں کے سسٹم کی موجودگی ہے جسے بلوچستان سے آنے والے ہوا کے کم دباؤ نے تقویت بخشی ہے۔
سردار سرفراز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’یہ سسٹم کمزور ہو رہا تھا مگر بلوچستان سے ایک نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ مل کر بارشوں کا ایک نیا سلسلہ 29 یا 30 اگست کو پھر آ سکتا ہے جس میں کچھ علاقوں میں تیز اور کچھ میں ہلکی بارش متوقع ہے۔‘کراچی پولیس کے مطابق شہر میں بارش کی وجہ سے تقریباً تمام بڑی شاہراہیں بند ہیں جبکہ تقریباً کلفٹن، پنجاب چورنگی، کے پی ٹی، مہران، ناظم آباد، لیاقت آباد اور ڈرگ روڈ سمیت تقریباً تمام ہی انڈر پاسز میں پانی بھر چکا ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ان انڈر پاسز کو بند کر دیا گیا ہے۔بارش اتنی شدید ہے کہ اس سے شہر کا کوئی بھی علاقہ متاثر ہونے بغیر نہیں رہ سکا ہے۔ شاہراہ فیصل سے ملحق نرسری کے علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک عرفان اعوان نے بتایا کہ ’نرسری کے علاقے میں 40 کے قریب گیسٹ ہاؤس ہیں۔ 25 اگست کی بارش کے دوران دو گیسٹ ہاؤس ایسے تھے جہاں بارش کا پانی داخل نہیں ہوا تھا مگر آج کی بارش نے تو وہاں بھی تباہی مچا دی ہے‘۔
فیس بک کمینٹ

