اسلام آباد : پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے منگل کے روز وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کروائی ہے۔ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا۔
نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور جے یو آئی ف کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان اب سے کچھ دیر بعد اس سلسلے میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔اسمبلی رولز کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے تین سے لے کر سات دن کے دوران قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔
قومی اسمبلی کے ایڈیشنل سیکریٹری نے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جمع کروائی گئی ریکوزیشن وصول کی۔حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اس تحریک عدم اعتماد میں دو سو سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک اعتماد کی کامیابی کے لیے 171 ووٹ درکار ہوں گے۔
تحریک عدم اعتماد کے ردعمل میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ ‘ہم اپوزیشن کو عدم اعتماد پیش کرنے پر ویلکم کرتے ہیں اور ان کا مقابلہ کریں گے۔’ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‘سب بونے مل کر زور لگا لیں شکست ایک بار پھر سیاسی بونوں کا مستقبل ہے۔’
گذشتہ بہت عرصے سے اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کی بات کی جا رہی تھی تاہم اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے علاقے میلسی میں عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے لیے تیار ہیں، انھوں نے اپوزیشن سے سوال کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں وہ اُن (اپوزیشن) کے ساتھ جو کچھ کریں گے کیا وہ اس کے لیے تیار بھی ہیں؟
یاد رہے کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی پنجاب میں بھی کچھ اختلافات سامنے آئے تھے جب تحریک انصاف کے پنجاب سے رہنما علیم خان نے کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ چند دنوں میں پی ٹی آئی کے 40 کے قریب ارکان صوبائی و قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کی ہیں اور علیم خان کے مطابق ان اراکین میں سے بیشتر پنجاب حکومت کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

