شاہد راحیل خانکالملکھاری

شاہد راحیل خان کا کالم :کرونا کی ایسی تیسی

بحیثیت قوم ہم تنقید کرنے، دوسروں میں کیڑے نکالنے اور زبان چلانے کے عادی ہو چکے ہیں، خاص طور پر سرکار اور سرکاری اداروں، اہل کاروں پر برستے ہوئے ان کا ”ککھ“ نہیں چھوڑتے مگر اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنی ”منجی تھلے ڈانگ پھیرنے“ کی ہمت نہیں ہوتی یا پھر حد سے بڑھی ہوئی خودپسندی کی وجہ سے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا اور دوسروں کی آنکھ میں بال بھی دیکھ لیتے ہیں۔
یہ صبح صبح میں کیا موضوع لے بیٹھا، مگر صاحب، آج میرا ارادہ اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھنے اور اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا ہے، بھلے قاریئن تو کیا میرے اپنے لواحقین ہی ناراض کیوں نہ ہو جائیں۔ تو صاحب، بات کچھ یوں ہے کہ کرونا کی تیسری لہر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے شکار پر جھپٹ رہی ہے جس سے بچاؤ کی تدابیر حکومت تو مقدور بھر کر رہی ہے مگر ہمارا رویہ کیا ہے وہ میں دوسروں پر تنقید کر کے نہیں اپنی اور اپنے گھر کی مثال دے کر بتاتا ہوں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میرے گھر کی ضروری مرمت اور تزئین و آرائش کا کام ہوتا رہا۔ ایک ہی وقت میں سات آٹھ مستری مزدور کام کرتے رہے، بار بار کہنے کے باوجود مجال ہے جو کسی نے ماسک کی اہمیت پر غور کرتے ہوئے ماسک پہنا ہو۔یا میں نے ماسک نہ پہننے پر کسی کو کام کرنے سے روکا ہو۔ البتہ، میرے اصرار پر جواب آتا ”او سائیں اللہ خیر کریسی“۔ چلیئے صاحب مستری مزدور تو اپنا کام ختم کر کے چلے گئے، اللہ نے خیر کی۔ان کے علاوہ میرے گھر میں ”ماسیاں“ کام کرنے آتی ہیں (ہمارے بچپن، لڑکپن میں ماسی، ماں کا متبادل روپ سمجھی جاتی تھی، آج یہ لفظ گھر میں کام کرنے والی خواتین کے لیئے وقف ہو چکا ہے،کیونکہ ہمارے زمانے کی ماسی، خالہ، چچی، پھوپھو سب ”آنٹی“ ہو چکی ہیں، ان رشتوں کا نام ہی نہیں بدلا، ان رشتوں کی اہمیت و حیثیت بھی ختم نہیں تو کم ضرورہو گئی ہے)، ماسی سے سرائیکی کا ایک محاورہ بھی یاد آ رہا ہے جو ہماری دادی اماں کسی موقع کی مناسبت سے بولا کرتی تھیں ”ماں جئیں ماسی، کندھ ایرے تے آسی“۔یہ محاورہ بھی ماں اور ماسی کے رشتے کی اہمیت کا غماز ہے۔
خیر۔ میں کہہ رہا تھا کہ ماسیاں بھی آتی ہیں اور ان کے ”پک اینڈ ڈراپ“ کے لیئے کسی کے شوہر تو کسی کے بھائی کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ڈرائیور بھی مستقل ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ شام کو پودوں اور پلاٹ کی دیکھ بھال کے لیئے مالی اور اس کا اسسٹنٹ مالی بھی دورہ کرتے ہیں، ان کے علاوہ ایک خاتون ٹیچر بھی بچوں کو پڑھانے آتی ہے۔تو یہ سب وہ لوگ ہیں جن کا مجھ سے اور میرے بچوں سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے اور جن کے سامنے میڈیکل کی زبان میں ہم سب گھر والے”ایکسپوزڈ“ ہیں۔خاتون ٹیچر کا تو مجھے علم نہیں مگر باقی سب لوگ ماسک پہننے اور کرونا کی احتیاطی تدابیر باوجود ہمارے کہنے اور سمجھانے کے اختیار کرنے کی بجائے ”اللہ خیر کریسی“ پر یقین رکھتے ہیں۔ گھر کی مرمت کے بعد میرے بیٹے ڈاکٹر احمد نے پرانا فرنیچر ابھی ٹی وی لاؤنج اور کمروں سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلوایا تھا کہ ماسیوں نے اپنی اپنی پسند کی اشیاء پر نظریں جما لیں۔ ڈاکٹر احمد کو اللہ زندگی دے اپنی ماں جیسے نرم دل کا مالک ہے، کسی کی دل شکنی نہیں کرتا، لہٰذا، ماسیوں کی طرف سے پرانے فرنیچر کی قیمت ادا کرنے کی نیم دلانہ سی پیشکش کو خوش دلی سے رد کرتے ہوئے،انہیں ان کی پسند کی اشیاء لے جانے کی اجازت دے دی۔ایک ماسی کے شوہر نے کل عین افطار کے وقت شاید اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں ڈاکٹر صاحب اجازت نامہ منسوخ نہ کر دیں، کنڈی کھڑکا دی اور بغیر ماسک دندناتے ہوئے گھر میں داخل ہو گیا اور دوسری ماسی کا بیٹا، تین چار ساتھیوں کے ساتھ بمعہ ڈالہ آج صبح سات بجے، بغیر ماسک لگائے، بغیر کسی احتیاط کے ہمارے دروازے پر آن کھڑا ہوا۔میں نے دروازہ کھولا تو موصوف بڑی گرم جوشی سے دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے میری طرف بڑھا، شاید عید سے پہلے ہی گلے ملنا چاہتا تھا۔حالانکہ،کل ہی ہماری فردوس آپا نے کہا ہے کہ عید پر ”نو جپھیاں، نو پپیاں“۔
کرونا بھی شاید ایسے لوگوں سے پرے بھاگتا ہے جو اسے جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کرونا کی ایسی تیسی۔بدلے میں کرونا ان افراد کے پیچھے پڑا رہتا ہے جو ماسک پہن کر اور ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کرونا سے دور بھاگتے ہیں۔جیسے آج میرے بیٹے عدیل خان نے بچوں کے ساتھ کراچی سے ملتان آنا تھا، بھائی کو خوش آمدید کہنے کے لئے ڈاکٹر احمد گزشتہ دو تین دن سے گھر کی سجاوٹ میں مصروف تھا، کہ سجن آون، اکھیں ٹھرن۔مگر کل افطاری سے پہلے فون آگیا کہ عدیل خان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔اور ساتھ ہی یہ خبر بھی کہ میرا بھتیجا یا سر خان جو لاہور میں بزنس کرتا ہے، نے طبیعت خراب ہونے پرکل ہی ملتان آ کر ٹیسٹ کروایا تو رپورٹ مثبت آنے کی وجہ سے گھر میں ہی آئسولیٹ ہو کر بیٹھ گیا ہے۔ قارئین اور احباب سے گزارش ہے کہ ان دونوں نوجوانوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ایسی پریشانی سے محفوظ رکھے۔آمین۔اپنے ارد گرد بلکہ اپنے ہی گھر میں ایسے پریشان کن واقعات کے باوجود مجموعی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ،کرونا کی ایسی تیسی۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker