اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
ملزم کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست ملزم کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔
اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے بدھ کے روز نور مقدم قتل کے مقدمے کی سماعت کی تو اس واقعہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے والے استغاثہ کے گواہ مدثر کا بیان قلمبند ہونے کے بعد اس پر جرح کی گئی۔
سماعت کے دوران ایک موقع پر جب نور مقدم قتل سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کو کمرہ عدالت میں چلانے کی بات آئی تو ملزمان کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ غیر متعقلہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے۔
اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو گھسیٹ کر گھر کے گیٹ سے واپس لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
عدالت نے ملزمان کے وکلا کی اس استدعا کو منظور کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سمیت دیگر غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور بیس منٹ تک قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی اِن کیمرہ ہوئی۔
استغاثہ کے گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سکندر ذوالقرنین نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے لیے درخواست دی گئی تھی لہذا عدالت اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ابھی تک اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اور ذوالقرنین نامی وکیل ریاست کی طرف سے ملزم کو فراہم کیا گیا ہے۔
اس مقدمے کے مدعی اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست پر نہ تو ملزم کے دستخط ہیں اور نہ ہی کسی کو پاور آف اٹارنی دی گئی ہے تو پھر ایسی درخواست کو قابل سماعت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
انھوں نے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر قتل کے اس مقدمے میں عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے کبھی کوئی وکیل اور کبھی کوئی وکیل پیش ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم نے عدالتی کاغذ پر دستخط کیےتھے، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
اس مقدمے کے پبلک پراسیکیوٹر حسن عباس نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے جس وکیل کی طرف سے درخواست دائر کی گئی ہے وہ سٹیٹ کونسل یعنی سرکار کی طرف سے فراہم کیا گیا وکیل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملزم کو نور مقدم قتل کے مقدمے میں جب جائے حادثہ سے گرفتار کیا گیا تھا تو اس کا میڈیکل چیک اپ کروایا گیا تھا، جس میں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ تھا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم اس وقوعہ سے پہلے ایک نجی سکول میں بچوں کی کونسلنگ بھی کرتا رہا ہے اس کے علاوہ وہ اپنے والد اور اس مقدمے کے شریک ملزم ذاکر جعفر کی کمپنی میں ایک عہدے پر بھی فائز رہا ہے۔
پبلک پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ جس گھر میں نور مقدم کا قتل ہوا وہ گھر شریک ملزم ذاکر جعفر کی کمپنی کا برانچ آفس تھا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اس مقدمے کے ٹرائل کے آغاز میں میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کیوں نہیں دی؟ انھوں نے استدعا کی ملزم کے وکیل کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔
ملزم کے وکیل سکندر ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج ہے جس میں انھوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔
دلائل کے بعد عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اس مقدمے میں شامل ملزمان کے وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس مقدمے کی پیروی کرنے پر سوشل میڈیا پر انھیں بُرا بھلا کہا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ انھیں ‘ننگی گالیاں’ بھی دی جا رہی ہیں جس پر مدعی مقدمہ کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔
اس مقدمے کے مدعی شوکت مقدم کا بیان بدھ کے روز بھی ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ ملزمان کے وکلا نے اس مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر ایڈشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں اس مقدے پر فیصلہ کرنے کے لیے چھ ہفتوں کی مذید مہلت دی ہے جس میں سے دو ہفتے پہلے ہی گزر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عدالت اس مقدمے کو جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پندرہ جنوری تک ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت پر نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا بیان قلمبند کیا جائے گا اور اسی روز ان پر ملزمان کے وکلا جرح بھی کریں گے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے تمام ملزمان کو عدالتی کارروائی ختم ہونے سے آدھا گھنہ پہلے عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر سماعت ختم ہونے کے بعد مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کو سخت سکیورٹی میں واپس بخشی خانہ میں لے جایا گیا جہاں سے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

