کالملکھارینوشی گیلانی

احمد ندیم قاسمی سے انتظار حسین تک۔۔ یاد کی حویلی سے/نوشی گیلانی

محترم انتظار حسین رخصت ہوگئے-کتنے دن سے یہ خبر وجود پر ایک سانحہ بن کر طاری ہے ۔ جب ایسی عہد ساز ہستی یوں مُلکِ عدم روانہ ہو جاۓ تو حیرت آمیز سوگ کی سی کیفیت سُن کر دیتی ہے ۔۔ دُکھ کے اظہار کے لیٔے زبان و بیاں کے سارے ہی قرینے روٹھ جایٔیں تو انسان پتھر کا ہی ہو جاۓ گا نا !۔۔ سو ہم بھی بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔ ۔ یاشاید ہمارا تعلق ہی اُس مغلوب قبیلے سے ہے کہ جو خواہ موسمِ ہجر ہو یا وصال ، عالمِ جشن ہو یا ملال ۔ ۔ بس عین اظہار کے لمحوں میں گُنگ ہو جاتا ہے ۔ کتنی ہی بار ذہن کے ہر طاقچے میں ٹٹول ٹٹول کر دیکھا مگر لفظ تو گویا برف جیسی اداسی کی شال لبیٹے پڑے تھے ۔۔ نہ آہ نہ کراہ !!!
اسی سُرمیٔ کیفیت میں ہی دن کو رات کرتے ہوۓ آج جب تخلیقی وجدان میں آنسوؤں کی نمی سُلگنا شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ دستِ غیب نے اذنِ کلام کا نقارہ بجا دیا ہے ۔۔اور اب ہم بھی بساط بھر دُہائی دے سکتے ہیں ۔
یوں تو اس کائنات میں ہر بقا کو فنا ہے ۔۔ اگر انسان کو اس جہانِ فانی میں آنا ہے اُسے لوٹ کر بھی جانا ہے۔ ۔ طے یہی ہے کہ عالمِ ارواح سے ہجرت کرکے آئی ہوئی روحوں کو اچانک ہی کسی روز بدن کا یہ ملبوس اُتار پھینکنا ہے ، مراجعت یا شاید ایک اور لازوال ہجرت کے لیٔے ۔۔ کب، کیوں اور کیسے ؟ اس بھید کی خبر تو خیر کسی کو نہیں ۔ ۔ انتظار حسین صاحب کے جانے کی خبر سُنتے ہی جی بہت اداس ہو گیا ۔۔ کئی سوال آس پاس مچلنے لگے ۔۔ کیا اب ہم اُن کی نیم گلابی مسکراہٹ کو کبھی نہ دیکھ سکیں گے؟ کیا نرم آواز میں تیکھے تیور کی آمیزش سے ان کے حروفِ دانش اب ہمارے گرد روشنی کے دائرے نہیں بنایا کریں گے ۔۔ کیا ادبی مباحث کے ضمن میں، اب ہماری کمزور دلیلوں کے مضبوط جواب کہیں سے نہ آیٔیں گے ؟ پھر ایک بار بہت ویران کر دینے والا خوف محسوس ہوا۔۔ موت میں بھی اک عجب طلسم ہے جو اکیلا کرے نہ کرے خوفزدہ ضرور کر دیتا ہے ۔
وہ وقت یاد آیا جب ہمارے بہت ہی محترم احمد ندیم قاسمی صاحب بھی اسی طرح رخصت ہو ۓ تھے ۔۔ خبر توتھی کہ وہ بیمار ہیں ، دمہ کی تکلیف اُنہیں دم نہیں لینے دے رہی ، اعضا کمزور ہو گیٔے ہیں ، پھر بھی یقین نہیں آتا تھا کہ وہ کیسے جا سکتے ہیں ،کہ وہ ہمارے تھے تو موت سے رشتہ کیسے استوار کرسکتے ہیں ۔۔ بعض اوقات انسان کا یہ دل کمال ہی کردیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اُسے موت کے لیٔے بھی ناقابلِ تسخیر سمجھ لیتا ہے اور مغرور و مسرور رہتا ہے ۔
محترم احمد ندیم قاسمی صاحب ہمارے ادبی مُر شد تھے ۔ ادب کی چوپال میں قدم رکھا تو کم عمری کا سہم ہمراہ تھا۔ اگرچہ تب مشاعرے اداروں جیسی عزت و اہمیت رکھتے تھے پھر بھی شروع شروع میں جب ہم مشاعرہ گاہ میں جاتے تو دوپٹہ اس احتیاط و اہتمام سے لپیٹ لیتے گویا میدانِ جنگ میں ڈھال پہن رکھی ہو۔۔ اسٹیج پرکن اکھیوں سے یہاں وہاں نظر ڈالتے ہوۓ احساس ہوتا کہ سب سے شفیق چہرہ قاسمی صاحب کا ہی ہے ، اور بڑے شدّ و مد کے ساتھ ان کے آس پاس جگہ بنا کر بیٹھ جاتے ، وہ بھی ہمیشہ کی طرح شفقت فرماتے رہے۔ ۔ یوں ہماری نیم شہری و نیم قصباتی سی شخصیت کو عجیب سا اطمینان ملتا کہ گویا نظرِ بد سے محفوظ ہوگیٔے ہیں ۔ گزرتے مہ و سال کے ساتھ قاسمی صاحب سے محبت ایک بھرپور عقیدت میں بدلتی گیٔ ۔
اگرچہ آخری برسوں میں اُن کے عقیدت مندوں کی یہ بے ساختگیاں منصورہ احمد کو بے ضابطگیاں بھی لگتی تھیں۔ منصورہ احمد جو شاعر بھی تھیں مگر انہوں نے اپنی تجاوز پسند طبیعت کے زیرِ اثرخود کو قاسمی صاحب کی “نگران وزیرِ اعظم” کے عہدہ پر فایٔز کر رکھا لیکن شورشِ زمانہ کیسی بھی ہو جذبۂ محبت کو زوال کہاں !
بقول جناب امجد اسلام امجد ،
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش رُوٹھ بھی جاۓ
تو پانی کم نہیں ہوتا
بات جناب انتظار حسین سے چلی اور جناب احمد ندیم قاسمی پر آکر ٹھہر گیٔ ۔۔ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ہے نا کہ یہ بے مثال ہستیاں دایٔرۂ وقت سے رخصت ہوئی ہیں مگر ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔۔ جب تک حرف و معنی کے عبادت گزار زندہ ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے رہیں گے۔
جاتے جاتے چند یادیں انتظار حسین صاحب کے حوالے سے ۔۔ کہ یہ 2014 کی بات ہے جب غیر متوقع طور پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سےمعروف محقق و نقّاد ڈاکٹر نجیب جمال صاحب کا فون آیا جو ان دنوں صدر شعبۂ اردو و اقبالیات کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
’’ نشاط ! تین روزہ عالمی اُردو کانفرنس ہو رہی ہے اور تمہاری یونیورسٹی نے تمہیں پکارا ہے‘‘۔
اتنے مان سے دیٔے گیٔے حکم پر سرِ تسلیم خم کرنے کے سِوا راستہ ہی کیا تھا۔ شجرۂ احترام کھولئے تو یوں بھی ڈاکٹر نجیب جمال صاحب ہمارے ’نانا اُستاد‘ ہیں ، یعنی ہماری عزیز از جاں استاد ڈاکٹر روبینہ رفیق صاحبہ کے باقاعدہ استاد ۔۔ سو فوراً ہی اپنے مجازی خدا سعید خان کو تجویز پیش کی کہ حضور فایٔدہ اُٹھا لیجیٔے ، یہ بیوی کا دل جیتنے کا بہترین موقع ہے، مزید یہ کہ اس مہربانی کے بدلے آپ اپنے اب تک کی شادی شدہ زندگی میں کیئے جانے والے چیدہ چیدہ گناہ بھی معاف کروا سکتے ہیں ، سو فوراً ہمیں پاکستان کا ٹکٹ دلوا دیں۔ انہیں یہ دلایٔل سود مند لگے اور ہم اس یادگار کانفرنس میں شرکت کے لیٔے پرواز کر گئے۔ (ایک وضاحت کرتی چلوں کہ نشاط ہمارا اصل نام ہے) ۔۔
اس کانفرنس کے دوران انتظار حسین صاحب کی رفاقت سے خوب خوب مستفید ہوۓ۔ مقالے سُنے، باتیں کیں ، تصویریں بنایٔیں ، آپا کشور ناہید اور انکی نوک جھونک سے لطف اندوز ہوۓ۔۔ جب وائس چانسلر ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے سرکاری گھر میں چاۓ کا اہتمام کیا تو اس کے وسیع و عریض لان میں دور تک پھیلی ہوئی کیاریوں میں کِھلے پُھولوں کا تعارف اور اسی چار دیواری میں بنے چھوٹے سے چڑیا گھر میں بسنے والے صحرایٔ جانوروں کا دیدارکروایا ۔۔ تو انتظار صاحب کی آنکھوں میں اشتیاق اور ہونٹوں پر چمکتی مسکراہٹ قابلِ دید تھی ۔۔ معصومیت و دانش کا خوبصورت امتزاج۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker