کالملکھارینوشی گیلانی

ادب کی داستانِ سرائے:کا لم کہا نی / نو شی گیلا نی

یوں تو بہت دن سے اچھی خاصی سیاسی اْٹھا پٹخ جاری ہے۔۔ ہم بھی اس میں رتّی بھر اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں لیکن آج اس حوالے سے طبیعت کچھ بے دلی کا شکار ہے۔۔ ایسے میں دل چاہا کہ کیوں نہ آج ادب کے حوالے سے بات کر لی جائے، آخر ہم شاعر بھی ہیں۔۔ باقاعدہ یا بے قاعدہ۔۔۔ !اور یہ بھی ایک طرح کی سیاست ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ہم نے ادب کی داستان سرائے میں قدم رکھا تو سادگی کی حد تک کم عمر تھے۔ ادبی دْنیا کے ہر رْخ کو اپنی سادہ و بے ساختہ سوچ کے آئینے میں دیکھتے نہایت نیک خیالی و دیانتداری سے۔ اصل حقائق کی طرف آنکھ اْٹھا کر دیکھنے کی تو جیسے طلب ہی نہ تھی۔ بس ایک ہی سودا سر میں سمایا ہوا تھا کہ اس خزینہ حرف و معنی میں وہ طاقت ہے جو کائنات کو تسخیر کر سکتی ہے سو ہم بھی کارِ جنوں کر گزریں گے۔ عمر کی ناتجربہ کارآسودگیاں ہم رکاب تھیں سو ہر اچھا شعر کہنے والا اچھا انسان محسوس ہوتا، ہر بھلی بات کہنے والے کا دل بھلا بھلا سا معلوم ہوتا۔ ’’ داد‘‘ کو واقعتاً ’’داد‘‘ سمجھ کر ہی وصول کرتے اور بے داد کو بے داد ہی خیال کرتے تھے۔ شعر و ادب کی اس فضا میں کہیں نرم و گرم سازشوں کی ہمہ جہتی کا شائبہ تک نہ ہوتا۔ کیا عالمِ خوش گمانی تھا، کیا رنگِ سْخن دانی۔ اس راہِ کٹھن و لطیف پر تو اوّل اوّل سفر کے تو آبلے بھی پْھولوں جیسے مہکتے۔ آج بھی اْن کی یاد آئے تو ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگتی ہے اور فضا میں روشنی دائرے بناتی ہے۔ لیکن بْرا ہو اس شعور و آگہی کا کہ جس نے انساں کو ہمیشہ ہی دن میں خواب دیکھنے کی لذّت سے محروم کیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیسے کیسے پردے اْٹّھے ، کیسے کیسے بْت ریزہ ریزہ ہوئے ، کیسی کیسی دلفریب نظموں سے یقین جاتا رہا، کیسی کیسی پہلودارغزلیں معنویت سے خالی ہوتی گئیں۔ حتیٰ کہ وہ مقام بھی آیا کہ وہ کتابیں جو سرہانے رکھ کر سوتے تھے عالمِ وحشت میں انہیں کئی بار نذرِ آتش کرنے کو جی چاہا کیونکہ ان دلکش کتابوں کو تخلیق کرنے والوں کے کردار ان کے برتے ہوئے نظریات سے بالکل مماثلت نہیں رکھتے تھے۔ بالخصوص دبستانِ شاعری میں چند ایسی قدآور شخصیات سے شرفِ ملاقات نصیب ہوا کہ شعر پڑھیں تو جیسے شبنم کے قطروں سے پروئی ہوئی تسبیح ہو اور گفتگو کے جوہر دیکھیں تو گویا دیواروں کو ناخنوں سے کْھرچ رہے ہوں۔ اس وقت روانی طبع تو اصرار کر رہی ہے کہ چند نام بھی لے ہی لیے جائیں لیکن بزرگوں کی رائج کردہ مرّوت و رواداری کی روایت کا سہارا لے کر چپکے سے آگے بڑھ جائیں تو بہتر ہے۔ ہمارا شمار تو یوں بھی اْن خوش نصیبوں میں سے ہے جو ہمیشہ سے بلا تکّلف و بلا توّقف، جا بے جا اختلافات کی زَد میں رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ ہم نے اپنی سر بہ کف قوّتِ اظہار کے باعث خود کو بہ سر و چشم اختلافات کی زَد میں رکھا ہے۔ عمر کے اس حصّے میں گرچہ رشتوں و رابطوں کے سود و زیاں کا بہت حد تک ادراک ہو چکا ہے مگر پھر بھی تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک معصوم مشورہ ضرور دیں گے کہ جب بھی کہیں اچھا شعر پڑھیں یا سْنیں تو اس کے خالق سے ملاقات کے جنون میں مبتلا نہ ہو جائیں بلکہ گریز کے جتنے حیلے بہانے کر سکتے ہیں کرتے رہیں۔۔ یہی بے نیازی آپ کو اندر سے مسحور رکھے گی ورنہ ، یہی نہ ہو اس گداگری میں قلندری کا ہنر بھی جائے شعر کا لطف کشید کرنے میں کسی احتیاط کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی کہ یہ تو بس نشّہ ہی نشّہ ہے کیونکہ خوبی سے لکھا گیا ایک ایک مصرع سو پہلوؤ ں سے انسانی وجدان کو سیراب کرتا ہے اور شب و روز کی سختیوں کو گداز میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لطفِ شاعری تو ہمیشہ سے ہی تلخی ایام پر احساسِ شیریں کا ریشمی آنچل ڈال دیتا ہے۔ لیکن ایک خیال بہر حال رہے کہ اس کے لکھنے والے کو سراہنے میں مری و غیر مری ہر طرح کی احتیاطیں درکار ہیں کہ یہ اس عملِ ستائش کو جوش ہی نہیں ہوش ہی ہوش درکار ہے۔ شاید اس قرینے سے کمالِ فن کا سرْور بہت دیر تک آپ کی روح کی حویلی کے طاقچوں میں محفوظ رہ سکے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ انسان فطرتاً کھوجی ہے ذرا خزانے کا علم ہوا نہیں اور چلا تلاش میں۔۔ شعر شناس کا بھی یہی حال ہوتا ہے ، تخلیق سے متّاثر ہوا نہیں اور شروع ہو گیا اس کے خالق کے شعور، تحت الشعور اور لا شعور کی کھڑکیوں پر دستکیں دینے یہ اور بات ہے کہ اس کاوش میں ہاتھ گدلے ہو جائیں اور انگلیاں پیشانی داغ داغ۔۔ پھر بھلے ہی ماتم کرتے پھریے ، اس شاعری میں عزّتِ سادات بھی گئی فن اور فنکار کے باب میں یہ امرِ تسخیرو تنقید تو بس ڈاکٹر سیّد عبداللہ، ڈاکٹر نیاز فتح پوری اور محبوب اْستاد و نقّاد ڈاکٹر انوار احمد صاحب جیسی طلسماتی شخصیات کو ہی ودیّعت ہوا ہے کہ علم و بصیرت کی اک نگاہ ڈالیں اور محصور کر لیں اور تمام منفی و مثبت قوّتیں بیّعت کرتی چلی جائیں۔ ’’چْھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘ کے مصداق جاتے جاتے رتّی بھر سیاست کی بات۔ قطع نظر اہلِ ایماں کی بحث کے ، یہ آج کل جو سیاست کے اْفق پر چوہدری نثار صورتِ خورشید ڈوبتے اْبھرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی کبھی تو ان پر بہت ترس آتا ہے۔ عجیب مدّبرانہ تذبذب کے ساتھ اس انداز میں کہانیاں سْناتے ہیں کہ نہ انجام کی خبر ہوتی ہے نہ آغاز کی اور خاموشی گفتگو سے بڑھ کر کم اثر۔ ان کا اپنا ’ شریف خاندان‘ ان سے جو سلوک کر رہا ہے وہ کسی طور مناسب نہیں۔ کل تو شہباز شریف المعروف خادمِ اعلی بھی ان کے اعتراضات کو بچپنا قرار دے گئے۔ آئندہ بھی انہیں ٹکٹ کی درخواست سابق نااہل وزیرِ اعظم کی ’سیاسی بیٹی‘ سے کرنا ہوگی جو ان کے لیے آسان بات نہیں۔ اب جبکہ چوہدری نثار کو ’ڈان لیکس‘ جیسی تمامتر وفاؤ ں کے باوجود اس جور و ستم کا سامنا ہے تو اس صورتِ حل پر جانے کیوں مرزا غالب کا ایک شعر یاد آگیا، مَیں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی سْن کے ستم طریف نے مجھ کو اْٹھا دیا کہ یوں
(بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker