Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جون 9, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدر ٹرمپ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • عدلیہ سے مکالمے کی ضرورت : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ
  • کشیر کی کہانی ۔۔ کل کے اتحادی آج کے دہشت گرد : حامد میر کا کالم
  • آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ
  • آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»میں اس میں حصہ ڈالنے کو ہرگز تیار نہیں ۔۔ برملا / نصرت جاوید
کالم

میں اس میں حصہ ڈالنے کو ہرگز تیار نہیں ۔۔ برملا / نصرت جاوید

ایڈیٹرمارچ 19, 20170 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pakistan politics ,columns of nusrat javaid at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

”مسلم اُمہ“ اور ”قومی سلامتی“ کے ہمارے لکھنے والوں میں کئی خود ساختہ ”مامے“ ہیں۔ نسیم حجازی نے اپنے ناولوں کے ذریعے اسلام کی جو ”تاریخ“ لکھی ہے وہ ان میں سے اکثر کو ازبر ہے۔ اس ”تاریخ“ میں سے حوالے ڈھونڈ کر وہ آج کے دور میں ہماری صفوں میں گھسے ”غداروں“ کو مسلسل بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔ حسین حقانی ان دنوں ان کی توجہ کا ضرورت سے زیادہ مرکز بنا ہوا ہے۔ حسین حقانی کی جوانی اگرچہ ”احیائے اسلام“ کو یقینی بنانے کی دعوے دار اسلامی جمعیت طلبہ کے نظم تلے گزری تھی۔ ”اسلامی حکومت“ کے قیام کی جستجو ہی میں شاید وہ غازی جنرل ضیاءالحق شہید کے دور میں ”افغان جہاد“ کی کرامتوں کو عالمی دنیا تک پہنچانے کے لئے پاکستان میں ایک بااثر ہفت روزہ ”فارایسٹرن اکنامک ریویو“ کا نمائندہ مقرر ہوا تھا۔ ضیاءالحق ہوائی حادثے کی نذر ہوئے تو ان کے جنازے میں دھاڑیں مارتے ہوئے رواں تبصرہ بھی کرتا رہا۔ ان کی شہادت کے بعد حسین حقانی کی ذہانت کو پیپلز پارٹی کے امکانات کو کند کرنے کے لئے مرحوم جنرل حمید گل صاحب کی فراست کی بدولت قائم ہوئے ”اسلامی جمہوری اتحاد“ نے بھرپور انداز میں استعمال بھی کیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف صاحب جب 1990ء میں پاکستان کے پہلی بار وزیر اعظم منتخب ہوئے تو ان کی نگاہِ دوربین نے تاڑ لیا کہ حسین حقانی اگر ملک ہی میں موجود رہا تو سویلین حکومتیں بنانے اور انہیں ہٹانے والی مؤثر قوتیں اسے ایک دن ان کے متحرک ”متبادل“ کے طور پر بھی پروموٹ کرسکتی ہیں۔ اپنے ”متبادل“ کے طورپر ابھرنے کی صلاحیت رکھنے والے شہزادوں کو زمانہ قدیم سے ”بادشاہ“ غیر ملکوں میں سفیر متعین کر کے باعزت انداز میں جلاوطن کردیا کرتے تھے۔ نواز شریف نے حسین حقانی کے ساتھ یہی کیا۔ اسے سری لنکا میں، جس کی سنہالی قیادت کو تامل باغیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے Strategic امداد درکار تھی ہمارا سفیر مقرر کر دیا گیا۔ خسین حقانی کو غالباََ یہ ”جلاوطنی“ پسند نہیں آئی تھی۔ وہ بغاوت کے بہانے ڈھونڈتا رہا ہو گا۔ غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی پہلی حکومت کو برطرف کر کے بالآخر اسے یہ موقعہ فراہم کر دیا۔ حسین حقانی فلور کراس کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو کے کیمپ میں آگیا۔ اس کے بعد کی کہانی آپ سب جانتے ہیں۔ یہاں تک لکھنے کے بعد میں برملا یہ اعتراف کرنے پر بھی مجبور ہوں کہ ذاتی طورپر میں حسین حقانی کی چالاکی اور پھرتیوں سے بہت متاثر ہوں۔ہم دونوں ہم عصر ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ بہت بے تکلف بھی رہے ہیں۔ اسے میں ہمیشہ شاعروں کا ”حسین“ کہتا رہا ہوں جو ہردل کو لبھاتا مگر کسی ایک سے بھی وفا نہیں کرتا۔تغافل میں ہمیشہ جرات آزما رہتا ہے۔ حسین حقانی کے ”طریقہ واردات“ کو تھوڑا جانتے ہوئے میں پورے اعتمادکے ساتھ یہ دعویٰ کرنے پر مجبور ہوں کہ اس نے حال ہی میں ”واشنگٹن پوسٹ“ کے لئے جو مضمون لکھا ہے اس کا حتمی Customer اس کی نظر میں ٹرمپ انتظامیہ تھی۔ ٹرمپ کے وائٹ ہاﺅس پہنچ جانے کی وجہ سے حیران ہوا امریکا کا مین سٹریم میڈیا اپنے صدر کو ان دنوں مسلسل رگید رہا ہے۔کہانی یہ پھیلائی جارہی ہے کہ روس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے چند Hackers نے ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں سرگرم افراد کے ذاتی ای میل اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ان میں سے ”چوندی چوندی“باتوں کو برسرعام لایا گیا۔ہیلری کلنٹن کے حامی ان انکشافات سے ہکا بکا رہ گئے۔ٹرمپ ان کی سراسیمگی کا بے دریغ فائدہ اٹھاتے ہوئے بالآخر وائٹ ہاﺅس پہنچ گیا۔ امریکی صدرمنتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے چند افراد کو قومی سلامتی سے متعلق اہم عہدوں پر فائز کرنا چاہا تو واشنگٹن پوسٹ جیسے اخباروں نے دہائی مچادی۔ ان لوگوں پر تواتر سے یہ الزامات لگائے گئے کہ وہ واشنگٹن میں روس کی جانب سے بھیجے سفیر کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہے تھے۔ یہ روابط اس وقت دنیا کے سب سے طاقت ور ملک مانے امریکا کے بے پناہ اختیارات والے صدر کو روسی صدر کے ایک مؤثر آلہ کار کی صورت بھی دے سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں مقیم روسی سفیر کے ساتھ ٹرمپ کیمپ کے روابط کی بنا پر اچھالے سکینڈل کا ٹرمپ انتظامیہ کوئی مناسب جواب نہیں دے پا رہی تھی۔اس کی بوکھلاہٹ کو حسین حقانی کی ذہانت نے فوراََ جان لیا اوربڑی محنت اور اہتمام سے ایک مضمون لکھ کر”واشنگٹن پوسٹ“ میں چھپوا دیا۔اس مضمون کا مرکزی نقطہ صرف اتنا ہے کہ غیر ممالک میں تعیناتی کے دوران سفارت کار میزبان ملک کے اہم لوگوں سے روابط قائم کرنے اور انہیں مضبوط تر بنانے کی تڑپ ہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ ایک حوالے سے ان کا بنیادی فریضہ ہے۔ واشنگٹن میں مقیم روسی سفیر اگر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں تھا تو یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی ٹرمپ کے چند بااعتماد ساتھیوں کے لئے بھی اس سے اچھے روابط قائم کرنا دوررس حوالوں سے امریکا اور روس کے مابین ممکنہ غلط فہمیوں کے تدارک کے لئے ضروری تھا۔ محض اپنے مضمون کے مرکزی پیغام کو توانا بنانے کے لئے حسین حقانی نے اپنے دورِ سفارت کی چند کہانیاں بھی مثال کے طور پر بیان کر دیں۔سچی بات یہ بھی ہے کہ اس نے جو کہانیاں بتائیں وہ کچھ اتنی من گھڑت بھی نہیں تھیں۔ اس کا یہ دعویٰ اگرچہ ہضم نہیں ہوتا کہ اوبامہ انتظامیہ کے دوران مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے ”ٹھیکے داروں“کو بآسانی ویزے فراہم کرنے کے لئے بنائی اس کی پالیسی بالآخر اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد گار ثابت ہوئی۔ اسامہ کے خلاف ہوئے آپریشن کے بارے میں عالمی شہرت یافتہ سیموئیل ہرش نامی اخبار نویس نے بھی ایک طویل داستان لکھی ہوئی ہے۔ مجھے اس داستان میں بتائی تفصیلات سے ہرگز اتفاق نہیں۔ محض ایک رپورٹر کے طورپر حاصل کردہ معلومات کی بناء پر البتہ میں ہرش کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے پر مجبور ہوں کہ ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی کی اطلاع سی آئی اے کو ہماری ایجنسیوں کے لئے کام کرنے والے ایک فرد نے فراہم کی تھی۔ وہ مخبر ان دنوں امریکا میں ”محفوظ“ زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہے۔ حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں چھپے مضمون کو ایک مخصوص تناظر میں رکھ کر پڑھنے کے بعد نظرانداز کردینا ہی مناسب تھا۔ ہمارے سیاست دانوں کے پاس مگر ان دنوں فراغت ہی فراغت ہے۔دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ فوج لڑرہی ہے۔افواجِ پاکستان ہی کی معاونت سے ہمارے ہاں ان دنوں مردم شماری کا بنیادی فریضہ ایک طویل وقفے کے بعد نبھانے کی مشق جاری ہے۔ یاد رہے کہ اس مردم شماری کا فیصلہ بھی ہماری سیاسی حکومت نے نہیں کیا تھا ۔وہ شاید اسے مزید ٹالنے کو ترجیح دیتی۔ سپریم کورٹ نے مگر مہلت دینے سے انکارکردیا تھا۔ اپنے بنیادی فرائض سے قطعاََ غافل یہ سیاستدان اب حسین حقانی کے مضمون کے حوالے دے کر ماتم کنائی میں مصروف ہیں۔ ایک بار پھر ”حقائق جاننے کے لئے “کوئی کمیشن-عدالتی یا پارلیمانی-بنانے کے مطابے ہورہے ہیں۔ماضی میں اُٹھے مختلف قضیوں کے بارے میں بھی سینہ کوبی کے بعد ایسے کئی کمیشن بنائے گئے تھے۔اسامہ کے خلاف ہوئے آپریشن کے حقائق جاننے کے لئے بھی ایک کمیشن بنا تھا۔اس کمیشن کی رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر میں راجہ پرویز اشرف کے زمانے سے کسی کونے میں پڑی گرد کی نذر ہورہی ہوگی۔حسین حقانی نے بھی اس کمیشن کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔اس کمیشن کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کی جرات دکھائے بغیر حسین حقانی کے لکھے ایک حالیہ مضمون پر مچائی ہاہاکار لہذا محض منافقت ہے اور میں اس میں حصہ ڈالنے کو ہرگز تیار نہیں ہوں۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleدُشنام طرازی اور غدار سازی کی مستحکم روایت ۔۔ سبط حسن گیلانی
Next Article اسرائیل بالکل بھی نسل پرست نہیں ۔۔ وسعت اللہ خان
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدر ٹرمپ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جون 9, 2026

عدلیہ سے مکالمے کی ضرورت : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ

جون 8, 2026

کشیر کی کہانی ۔۔ کل کے اتحادی آج کے دہشت گرد : حامد میر کا کالم

جون 8, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدر ٹرمپ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 9, 2026
  • عدلیہ سے مکالمے کی ضرورت : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ جون 8, 2026
  • کشیر کی کہانی ۔۔ کل کے اتحادی آج کے دہشت گرد : حامد میر کا کالم جون 8, 2026
  • آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ جون 8, 2026
  • آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 8, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.