کالملکھارینصرت جاوید

پی ٹی آئی کی متحرک سوشل میڈیا ٹیم:برملا/نصرت جاوید

سوشل میڈیا کے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹس نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو وحشیانہ حد تک گہرا کیاہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں تحریک انصاف نے اس میڈیا کی قوت کو اپنے مخالفین سے بہت پہلے دریافت کیا۔ مختلف اشیائے صرف کی ماریکٹنگ کے لئے مصروف ہوئے ماہرین سے رجوع کیا۔ ان کی رہنمائی میں سوشل میڈیا ٹیم بنائی جس نے کمال مہارت سے تحریک انصاف کے فکری اور سیاسی مخالفین کو ’’لفافے‘‘ اور ’’غدار وطن‘‘ ٹھہراکر بوکھلادیا۔ اس کی زد میں آئے گروہ جب جوابی جنگ کے لئے تیار ہوئے تو بہت دیر ہوچکی تھی۔
مجھے خدشہ تھا کہ اقتدار میں آجانے کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا والے اپنے مخالفین کو مزید زچ ہونے پر مجبور کردیں گے۔ ایسا مگر ہو نہیں پایا۔وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک ہیلی کاپٹر کا استعمال،خاور مانیکا سے جڑا سکینڈل اور تحریک انصاف کے پنجاب میں فروغ ثقافت کے لئے لگائے فیاض الحسن چوہان نے بلکہ اس جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ تحریک انصاف کے تھنک ٹینک نے اگرچہ ہمت نہیں ہاری۔ وقتی طورپر جارحانہ انداز کو ترک کردیا ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد اب بھرپور توجہ Feel Good Storiesکی تخلیق اور فروغ پر دی جارہی ہے۔
سوشل میڈیا بنیادی طورپر کسی پیغام (Message)کو سادہ ترین لفظوں اور انداز میں پھیلانے کا نام ہے۔ اس کے استعمال کا اصل ہنر مگر پیغام دینے سے قبل کسی ایسے موضوع کا چناؤہے جو لوگوں کی نظر میں اہم ترین بنایا جاسکے۔ ذرائع ابلاغ کے ماہرین اس عمل کو بیانیے کی تشکیل یا Narrative Buildingکہتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے استعمال کا تخلیقی ماہر کوئی ایسا موضوع ڈھونڈتا ہے جو ہمارے اردگرد موجود بے تحاشہ مسائل کونظرانداز کرتے ہوئے محض کسی ایک مسئلے کو زندگی یا موت والا سوال بنادے۔
تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد بے تحاشہ گھمبیر مسائل کے حل تلاش کرنا ہے۔ یوں محسوس ہورہاہے کہ اس نے ان مسائل کے حل کے لئے کوئی ہوم ورک نہیں کیا۔ اقتدار مل گیا ہے تو ان مسائل کے حل ڈھونڈنے کے لئے ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورسز بنادی ہیں۔ماہرین کو اپنی رپورٹس مرتب کرنے کیلئے وقت درکار ہے۔ سوال یہ تھا کہ اس دوران خلقِ خدا کو مصروف رکھنے کے لئے کیا سودا بیچا جائے۔انتہائی خلوص سے یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ تحریک انصاف کے بیانیہ سازوں نے اپنی حکومت کے بارے میں Task Drivenہونے کا تاثر قائم کرنے کے لئے مناسب موضوعات ڈھونڈلئے ہیں۔
آبادی کے بے تحاشہ بڑھاؤنے ہمارے ماحول کو انسانی حرص کا نشانہ بناکر تباہ وبرباد کردیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر ساون بھادوں کی کمزور بارشوں کی صورت نظر آنا شروع ہوگیا ہے اور ہمارے لئے دستیاب پانی کے ذخائر بہت تیزی سے خشک ہورہے ہیں۔برسوں تک ہم یقینی نظر آتی اس تباہی کے بارے میں بے خبر رہے۔ بہت دیر بعد ہوش آئی ہے تو سمجھ نہیں آرہی کہ ماحول کے تحفظ کو یقینی کیسے بنایا جائے۔
تحریک انصاف نے ماحول کی تباہی کے باعث پھیلے اس خوف کا بہت مہارت سے ادراک کیا اور اپنی میڈیا ٹیم کو متحرک کرتے ہوئے پیغام یہ دیا کہ اگر شہری کچھ وقت نکال کر شجرکاری پر توجہ دینا شروع ہوجائیں تو معاملا ت بہتری کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
اتوار کا دن لہذا ملک بھر میں شجرکاری کی مہم چلانے کے لئے وقف ہوا۔ وزیر اعظم بذاتِ خود درخت لگانے ہری پور تشریف لے گئے۔ تحریک انصاف کے دیگر اہم رہنماؤں اور وزیروں نے ہاتھوں میں بیلچے لئے گڑھے کھودتے اور ان میں پودے لگاتے ہوئے اپنی تصاویر میڈیا کے لئے جاری کیں۔ یہ کالم لکھنے سے قبل تھوڑی دیر کے لئے اپنا ٹویٹر اکائونٹ کھولا تو گماں ہوا کہ سارا ملک اتوار کے دن شجرکاری میں مصروف رہاہے۔
کئی ایسے دانشور اور صحافی جو اپنے ٹویٹر پیغامات کے ذریعے تحریک انصاف کی بھد اُڑاتے رہے ہیں اتوار کے روز اپنے پیغامات کے ذریعے عمران خان صاحب کی درختوں سے محبت کی تعریف کرتے رہے۔لوگوں کو اس عمل پر راغب کرتے پائے گئے کہ وہ کم از کم دس سے پندرہ درخت لگائیں اور ایسا کرتے ہوئے یہ خیال بھی رکھا جائے کہ درخت ہمارے قدرتی ماحول کا Organicحصہ ہوں۔ اس شہتوت سے پرہیز کیا جائے جو اسلام آباد کو سرسبز بنانے کیلئے آسٹریلیا سے منگوایا گیا تھا۔ اب کئی برسوں سے اس شہر میں پولن پھیلاکر اچھے بھلے صحت مند لوگوں کے لئے بھی سانس لینا دشوار تر بنادیتا ہے۔ سفیدہ نامی درخت کے نقائص بھی سمجھائے گئے۔ شجرکاری مہم کے ذریعے تحریک انصاف نے کم از کم سوشل میڈیا پر اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کو وقتی طورپر ہی سہی ختم ہوتے دکھایا۔
چمن،پھولوں اور درختوں سے محبت میری جبلت کا حصہ ہے۔ بارہ دوازوں والے لاہور کی پیداوار ہوں۔ بچپن میں صبح اُٹھ کر باغ میں ٹہلنا ضروری شمار ہوتا تھا۔گرمیوں کی شامیں گھر میں رہتے ہوئے گزارنا محال نظر آتا تھا۔ 1975میں اسلام آباد آیا تو پہاڑوں اور قدرتی چشموں کا حسن دریافت ہوا۔ بارش کو ذہنی سکون کا سبب پایا۔ 90کی دہائی سے مگر اس شہر کا سبزہ خاک کی نذر ہونا شروع ہوگیا۔ اس شہر کے فطری حسن پر حملہ آور ہوئی وحشت کے تدارک کے لئے میں کچھ بھی نہ کرپایا۔ میرے مزاج اور طبیعت کو تحریک انصاف کا یوم شجرکاری لہذا بہت پسند آیا۔
بدقسمتی مگر یہ بھی ہے کہ ذات کا رپورٹر ہوں۔دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑا قیلولہ ہوگیا۔ دھوپ کی حدت کم ہوئی تو گاڑی لے کر مارگلہ کے دامن میں گولڑہ شریف سے پہاڑی کو جاتے راستے پر واقعہ گائوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
میں جو راستہ اس گاؤں جانے کے لئے استعمال کرتا ہوں اس سیکٹر میں تحریک انصاف 2011سے کافی متحرک ہے۔ مجھے گماں تھا کہ شاید اس جماعت کے کارکنوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں کی جانب بڑھتے راستوں پر کوئی روڈ سائیڈ کیمپ لگائے ہوں گے جہاں پہاڑوں میں کسی مقام پر درخت لگانے کے خواہش مند افراد کے لئے مختلف پودوں کی پنیریاں موجود ہوں گی۔
میں جس گاؤں گیا نام اس کا شاہ اللہ دتہ ہے۔ E-11سے سڑک یہاں آتی ہے اور چٹھی کے دن یہاں بہت رش ہوتا ہے کیونکہ کئی لوگ اپنے بچے لے کر یہاں سے اس مقام تک جاکر شامیں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سینکڑوں سال قبل بدھ مت کی تعلیم کے حتمی مرکز ٹیکسلا یونیورسٹی کو پیدل جانے والے غاروں میں قیام کرتے۔یہاں قیام کے دوران انہوں نے دیوار پر Muralsبھی کھوددئیے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے نقوش مٹ چکے ہیں۔کشش اس مقام کی اب بھی اپنی جگہ موجود ہے اگرچہ بلڈرمافیا نے پہاڑوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کی ہوس میں درختوں سے محروم کرکے گنجا کردیا ہے۔ کئی مقامات پر پہاڑ کاٹ کر بھی پلاٹ نکالے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ان پہاڑوں کی حفاظت کے لئے اب سخت احکامات جاری کردئیے ہیں۔میری شدید خواہش تھی کہ تحریک انصاف کے مقامی کارکن ہاتھوں میں پنیریاں لئے Buddha Cavesکو جاتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو مارگلہ پہاڑی کو درختوں سے دوبارہ بھرنے کی تلقین کرتے نظر آتے۔وہ شاید فیس بک پر ہی درخت اُگانے کی تلقین کرنے میں مصروف رہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker