کالملکھارینصرت جاوید

”اِک مِک “ ہو کر بیٹھے چودھری نثار اور اعتزاز احسن۔۔نصرت جاوید

موبائل فون کی Settingsسے متعلق جو معاملات ہیں مجھے ان کی ککھ سمجھ نہیں۔ نجانے کیوں مگر اس گماں میں مبتلا رہا کہ Whatsapp کے ذریعے آپ سے صرف وہ لوگ ہی رابطہ کرسکتے ہیں جن کے ٹیلی فون نمبر آپ نے Contactsمیں محفوظ کئے ہوتے ہیں۔میرے گماں کو غلط ثابت ہونے میں کچھ دن لگے۔ تاہم اس سہولت کی وجہ سے بہت آسانی محسوس کی جو آپ کو Contactsکی فہرست سے باہر لوگوں کی جانب سے آئے پیغامات کے بارے میں آگاہ کرکے دریافت کرتی ہے کہ انہیں دوستوں میں شامل کرنا ہے یا نہیں۔ اس سہولت کے باوجود کسی نامعلوم شخص کی جانب سے کوئی پیغام آئے تو گھنٹی تو بجتی ہے اور رات کو سونے سے قبل احتیاطاََ Silent Modeپر کیا فون بھی گھوں گھوں کرتے ہوئے آپ کو جگادیتا ہے۔
منگل کی رات اس گھوں گھوں نے بہت تنگ کیا۔ رات ایک بجے کے بعد سے یکے بعد دیگرے خدا جھوٹ نہ بلوائے تو تیس کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے ایک ہی تصویر آتی رہی۔ اس تصویر میں بیرسٹر اعتزاز احسن اور چودھری نثار علی خان راولپنڈی میں حال ہی میں منعقد ہوئی شادی کی ایک تقریب میں ایک دوسرے کے ساتھ چپک کربیٹھے ہیں۔ ایک دوجے کے ساتھ بیٹھنے کے باوجود ان دونوں کے مابین گرم جوشی نظر نہیں آتی۔ بیرسٹر صاحب نے اپنی آنکھ کا رُخ کسی اور جانب موڑ رکھا ہے۔ چودھری نثار نے اپنے دونوں بازوؤں کو سینے پر رکھ کر ہاتھوں سے تھام رکھا ہے۔
Body Language جسے ہمارے کئی دوست بدن بولی بھی کہتے ہیں کے بارے میں چند کتابیں کچھ عرصہ قبل خریدی تھیں۔ ان کے سرسری مطالعے سے ایک Defensive یعنی مدافعانہ Postureکے بارے میں تھوڑی شدبدنصیب ہوئی۔ اس کا اطلاق مذکورہ تصویر میں نظر آنے والے چودھری نثار علی خان پر کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے خود کو بیرسٹر اعتزاز احسن کی ”قربت“ سے محفوظ رکھنے کے لئے مدافعانہ انداز اپنا رکھا ہے۔ نمایاں طور پر نظر آنے والی اس مدافعت کے باوجود یہ تصویر بھیجنے والے ”یہ کیا ہورہا ہے“ جیسے سوالات اٹھارہے تھے۔ چند ایک نے طنزیہ طورپر ”سرکار“ میں پہنچ جانے کے بعد ایک ہو جانے والے مصرعہ کا استعمال بھی کیا۔ میں اگر چہ یہ طے نہیں کرپایا کہ اس تصویر پر تبصرہ آرائی کے ساتھ مجھے گھوں گھوں کرکے جگانے والوں کا اصل مقصد کیا تھا۔ نیند غارت ہو چکی تھی۔ غور کرنے کو مجبور ہوا تو اپنے تئیں باور کیا کہ بے تحاشہ لوگوں کو چودھری نثار علی خان اور اعتزاز احسن کا ”اک مک“ ہوکر بیٹھا پسند نہیں آیا۔ گزشتہ پارلیمان میں یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کے پرخچے اُڑانے کو بے چین رہا کرتے تھے۔ ایک دوسرے سے اپنی نفرت کو یہ دونوں حضرات ان دنوں بھی بھلانے کو تیار نہیں ہوئے جب عمران خان کے دئیے دھرنے سے ”پارلیمان کو بچانے“ کی خاطر ان کی جماعتیں یکجہتی دکھانے کو بے چین تھیں۔ پریس گیلری میں بیٹھے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے نواز شریف صاحب کو چودھری نثار سے ”جان دیوے“والا ترلا کرتے دیکھا تھا۔ سیاسی حوالوں سے بہت نازک تصور ہوئی صورت حال میں ان دونوں حضرات کی انائیں تماشہ لگانے کو بے چین تھیں۔ بے تحاشہ لوگ شاید ان دنوں کو بھول نہیں پائے ہیں۔ غالباََ انہیں حیرانی ہے کہ بظاہر اپنی اناؤں کے اسیر ہوئے یہ دونوں حضرات جب ”وہاں“ بلائے جاتے ہیں تو اچھے بچوں کی طرح ایک ہی صوفے پر ایک دوجے کے ساتھ چپک کربیٹھنے میں ذرا تامل محسوس نہیں کرتے۔ان کی انائیں فقط ہم عامیوں کے روبرو سیاسی اعتبار سے بہت نازک ٹھہرائی صورت حال میں بھی ایک دوسرے سے ٹکرانے کو بے قرار رہتی ہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ میں مریضانہ حد تک جھکی ہوچکا ہوں۔ بے شمار سیاست دان ہیں جنہیں کئی برسوں تک میں نے بہت اصولی وغیرہ تصور کرتے ہوئے بتوں کی طرح دکھایا اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کی عزت کی۔ وقت مگر بہت ستم گرہوتا ہے۔ اسے لوگوں کی اصلیت کھول کر ہی قرار ملتا ہے۔ بے شمار یادوںکا انبار ہے۔ انہیں Slow Motion میں اپنے ذہن میں لاؤں تو ان دونوں حضرات کی پہاڑ ایسی دِکھتی اناؤں کی حقیقت کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا جاسکتا ہے۔ چسکہ فروشی مگر میری عادت نہیں اپنی سادگی ہی کو مورودالزام ٹھہراتے ہوئے ان یادوں کو ذہن سے مٹا دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ مکدی گل یہ بھی ہے کہ بیرسٹراعتزاز احسن ہوں یا چودھری نثار علی خان۔ یہ دونوں حضرات بنیادی طورپر سیاست دان ہیں۔ تعلق ان دونوں کا سرکارِ انگلشیہ کی سند یافتہ اس اشرافیہ سے ہے جسے لاہور کے ایچی سن کالج میں فقط ان کے شجرہ نصب کی بنیاد پر داخل ہونے کا حق عطا ہوا ہے۔ نئے پاکستان میں بھی جہاں ”برطانوی سامراج کی یاد دلاتے“ گورنر ہاؤس کی دیواریں توڑنے کا عہد باندھا گیا ہے اس کالج کو ”دو نہیں ایک پاکستان“ کی علامت بنانے کا ذکر نہیں ہوتا۔ ملک بھر میں ”یکساں نظام تعلیم“ کی گردان کرتے ہوئے بھی اس کالج کے معاملات غور طلب تصور نہیں کئے جاتے۔ اس اشرافیہ کی ذاتی اناؤں پر مشتمل پھوں پھاں ہم ذلتوں کے مارے عام انسانوں کے روبروہی پرواز کرتی ہے۔ ان کا DNA مگر جبلی طورپر جانتا ہے کہ طاقت کا اصل مرکز کہاں ہے۔ وہاں بیٹھنے کے کچھ آداب ہیں۔ رسمِ دُنیا بھی ہے۔ موقعہ بھی ہے۔ دستور بھی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔
یہ اشرافیہ نہیں بلکہ ہم عام شہری رحم کے مستحق ہیں کہ اشرافیہ کے لئے مختص ہوئے کالج سے ابھرے لوگوں کی دل موہ لینے والی گفتگو سن کر انہیں ”اصولوں“ کے بت بناتے ہوئے ان کی پرستش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں عمران خان کا ”اوئے“ کہہ کر لوگوںکو پکارنا سمجھ میں آتا ہے۔ یہ ”اوئے“ بے شمار افراد کے دلوں میں نسلوں سے منتقل ہوئی بے بسی کو Cathartic اہمیت دیتا تھا۔
خان صاحب بھی لیکن ایچی سن کالج سے ہیں۔ چودھری نثار علی خان وہاں ان کے پرویز خٹک سمیت جوڑی دار ہوا کرتے تھے۔ وزیراعظم کے منصب پر پہنچنے کے بعد خان صاحب بتدریج ہم عامیوں کے دلوں کو گرمانے والے ”اوئے“ کو مگر اب بھلارہے ہیں۔ ہماری اشرافیہ کوآپ پسند کریں یا نہیں، صحیح معنوں میں گزشتہ چند مہینوں سے فقط اس جماعت کے رہنماؤں نے للکارا ہے جس نے چند دن قبل ہی تین دنوں تک پشاور سے کراچی تک جانے والی تمام شاہراہیں بند کروا دی تھیں۔ غریب آدمی جب اس جماعت کے رہنماؤں کو اشتیاق سے سنتا ہے تو وجہ اس کی اب مجھے سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker