Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جنوری 14, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • جمہوریت سے ناخوش امریکہ کی اگلی چال کیا ہو گی ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • طاقت کا کھیل ۔۔’’ فلسطین میں بچے بڑے نہیں ہوتے : یاسر پیرزادہ کا کالم
  • آتش فشاں کے دہانے پر ایران ،رضا شاہ اور فرح دیبا کا تذکرہ : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے : جرمنی : ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی : رائٹرز
  • امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم
  • بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘ ۔۔لا پتا افراد کے ورثاء
  • پاکستانی بیوروکریسی کا نوآبادیاتی تناظر : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ
  • بے نظیر کا مائینس ہونے سے انکار ان کے قتل کی وجہ بنا ؟ : حامد میر کا کالم
  • پیر پگاڑا اور بلّی چوہے کا کھیل : سہیل وڑائچ کا کالم
  • نشانیاں ’ چیزیں ‘ نہیں ہوتیں : گھی کے ڈبے میکے کے باورچی خانے اور ابا کی یادیں : ڈاکٹر خدیجہ وکیل کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»زرداری کی خراب صحت اور زوال کے زمانے والے تماشے ۔۔ نصرت جاوید
کالم

زرداری کی خراب صحت اور زوال کے زمانے والے تماشے ۔۔ نصرت جاوید

رضی الدین رضیاکتوبر 18, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
asifa bhutto and Asif-Ali-Zardari
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ذہنِ انسانی میں اکثر بے تکے خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔ منطقی جواز ان کا ہرگز نہیں ہوتا مگر وہ آپ کے ذہن میں چپک جاتے ہیں۔گزشتہ دو دنوں سے میرے ذہن میں جون 1977کے آخری ایام گھوم رہے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے ان دنوں اپوزیشن کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھٹو صاحب دنیا کی ہر شے بھلاکر جلدازجلد ان مذاکرات کو کسی قابلِ عمل معاہدے کی طرف لے جانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ مذاکرات کے اہم ترین مراحل میں لیکن وہ طویل غیر ملکی دوروں پر روانہ ہوگئے۔ان کی عدم موجودگی میں نوجماعتی اتحاد کے انتہا پسند رہ نماؤ ں کی سوچ مفاہمت کی خواہش رکھنے والوں پر حاوی ہوگئی۔ بالآخر معاہدہ کے بجائے 4جولائی 1977ہوگیا اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان میں جمہوریت وہ صورت اختیار نہیں کر پائی جس کے خواب ہمارے ملک کا ہر سیاست دان دکھاتا رہتا ہے۔



آج کے پاکستان میں جون 1977کے آخری ایام کی یاد ہر اعتبار سے یقینا غیر منطقی ہے۔عمران حکومت کے خلاف سڑکوں پر پاکستان قومی اتحاد کی چلائی تحریک جیسے حالات موجود نہیں۔نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے قدآور رہنما جیلوں میں ہیں۔پارلیمان میں بھاری بھر کم تعداد میں ہونے کے باوجود ان کی جماعتیں مؤثر سیاسی کردار ادا کرتی نظر نہیں آرہیں۔ عمران حکومت کو ریاست کے دائمی ستونوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔امریکی صدر ہمارے وزیراعظم کے ’’دوست‘‘ بن چکے ہیں۔ ’’ستے خیراں‘‘ کے اس موسم میں بھی منگل کے روزکابینہ کا جو اجلاس ہوا اس کے ایجنڈے پر ایک آرڈیننس کی منظوری بھی شامل تھی۔ وزیر قانون فروغ نسیم کی عدم موجودگی کے سبب مجوزہ آرڈیننس زیر بحث نہیں آیا۔امید ہے آئندہ منگل کو لاگو ہوجائے گا۔



نئے قانون کے اطلاق سے احتساب کی بنیاد پر زیر تفتیش اور جیلوں میں بھیجے تمام افراد کو عام مجرموں کی طرح دیکھا جائے گا۔وہ بی کلاس کی ان تمام سہولتوں سے محروم کردئیے جائیں گے جن کی بدولت سونے کے لئے سپرنگوں والا وہ بستر مل جاتا ہے جو ہسپتالوں میں عام مریضوں کو دیا جاتا ہے۔مشقتی کے ذریعے اپنے لئے چائے اور کھانا بھی تیار نہیں کرواپائیں گے۔ جیل کے لنگر پر گزارہ کرنا ہوگا۔اپنے خرچے پر بھی ہیٹریا ایئرکنڈیشن جیسی سہولت استعمال نہیں کر پائیں گے۔عمران خان صاحب گو یا اپنے مخالفین کو ’’رلانے‘‘ والے وعدے کی تکمیل کردیں گے۔ ان کی کرپشن سے نفرت کرنے والی Baseخوش ہوجائے گی۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری’’عبرت کے نشان‘‘ بنادئیے جائیں گے۔



لوگوں کی بیماریوں کا تقابل کرنے سے مجھے خوف آتا ہے۔ذاتی علم کی بنیاد پر یہ کہنے کو مگر مجبور ہوں کہ آصف علی زرداری اپنی صحت کے اعتبار سے نواز شریف صاحب سے کہیں زیادہ Vulnerableہیں۔ مارچ 2016میں ان کا انٹرویو کرنے میں نیویارک گیا تھا۔میرے بہت ہی محترم رفیق سہیل وڑائچ بھی اس شہر میں آئے ہوئے تھے۔ہم دونوں کو خوب علم ہے کہ بظاہر خوش گوار اور آرام دہ حالات میں بھی زرداری صاحب کو دن میں کئی گھنٹے ڈاکٹروں کے ساتھ گزارنا ہوتے تھے۔



راولپنڈی جیل کی انتظامیہ ان دنوں انہیں اپنا ’’مہمان‘‘ بنانے سے بہت خوفزدہ ہوچکی ہے۔اسلام آباد کا جڑواں شہر پیپلز پارٹی کے لئے تاریخی اعتبار سے ’’بری خبریں‘‘ ہی لاتا رہا ہے۔جیل کے ڈاکٹر آصف علی زرداری کو ہسپتال منتقل کرنا چاہ رہے ہیں۔ان کی شنوائی نہیں ہورہی۔ پیپلز پارٹی بھی اس ضمن میں کامل بے بسی کا شکار ہے۔اس کے باوجود بلاول بھٹو زرداری ’’سسٹم‘‘ کو بچانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کا کامل ساتھ دینے سے گریز کررہے ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ان دنوں عمران حکومت انگریزی محاورے والے Last Laughسے لطف اندوز ہورہی ہے۔اس کے لئے صاحبان کی خواہش والی گلیاں سنجیاں ہوچکی ہیں اور ’’مرزا یار‘‘ ان میں اطمینان سے گھوم رہا ہے۔

جون 1977کے آخری ایام ان ٹھوس حقائق کے ہوتے ہوئے بھی لیکن میرے ذہن میں گزشتہ دو دنوں سے فلم کی ریل کی طرح چل رہی ہیں۔ میں ان سے جان چھڑانہیں پارہا۔ غالباََ ثالثی کی خواہش میں وزیر اعظم صاحب کے ایران اور سعودی عرب کے دوروں نے مجھے بہکادیا ہے۔



مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کے بارے میں پیش گوئیوں سے دانستہ پرہیز کررہا ہوں۔ذاتی جذبات میرے اس ضمن میں ویسے ہی ہیں جو عمران خان صاحب کے 2014میں دئیے دھرنے کی بابت تھے۔سوال مگر یہ ضرور اٹھتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب جیسے معتدل مزاج اور زیرک سیاست دان تخت یا تختہ والی انتہا پسندی اپنانے کو کیوں مجبور ہوئے۔ انہیں مناسب وقت پر Engageکیوں نہیں کیا گیا۔شنید ہے کہ اب پرویز خٹک کے ذریعے مذاکرات کی راہ نکالی جارہی ہے۔اگرچہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ عمران حکومت اس وقت مولانا کو ’’کیا‘‘ پیش کرتے ہوئے نرم رویہ اپنانے کو مائل کرسکتی ہے۔

ہماری ریاست یقینا بہت طاقتور ہے ’’تخت یا تختہ‘‘ والے حالات سے بخوبی نبردآزما ہوسکتی ہے۔ ہمارے مسائل اس وقت مگر اپنی سرشت میں محض ’’سیاسی‘‘ نہیں ہیں۔ اس کالم کے ذریعے مسلسل فریاد کررہا ہوں کہ فی الوقت پاکستان کا اصل مسئلہ اقتصادی ہے۔ بازار کی منڈی،مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ اور کاروبارچوپٹ ہوجانے والا ماحول۔ اس ماحول میں سڑکوں اور گلیوں کو احتجاج سے بچائے رکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔مولانا کا مارچ یا دھرنا ناکام ہوگیا تو کوئی اور نمودار ہوجائے گا۔

ہماری اقتصادی مشکلات ہی سے بھارت نے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 370کا خاتمہ کردیا۔ 5اگست سے آج تک 80لاکھ کشمیری دنیا کی وسیع ترجیل میں محصور ہوچکے ہیں۔ ہم ان کی اذیت کے ازالے کے لئے بھرپور کردار ادا نہیں کر پائے ہیں۔



کشمیر کی تکلیف دہ صورتحال اپنی جگہ قائم ہے اور اس ماہ کے آخر میں افغانستان کے صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہونا شروع ہوجائے گا۔طالبان کی دھمکیوں کے باعث مذکورہ انتخابات میں ٹرن آؤ ٹ بہت کم رہا۔ امریکہ کی قیادت میں ’’عالمی برادری‘‘ کا مگر اصرار ہے کہ بائیومیٹرک نظام کے بھرپوراطلاق کی بدولت جعلی ووٹ بھگتانا ناممکن رہا۔ووٹوں کی گنتی میں بھی گھپلوں کی گنجائش موجود نہیں۔ ٹرن آؤ‌ٹ کی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے نتائج کا لہذا احترام کرنا ہوگا۔ یہ احترام اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ لوگوں نے کم تعداد میں لیکن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انتخابی عمل میں حصہ لیا۔



افغان سیاست کے کئی اہم کردار مگر متوقع نتائج کو ہضم کرنے پر تیار نظر نہیں آرہے۔ اس کی وجہ سے وہاں خانہ جنگی کا ایک اور ہولناک مرحلہ بھی شروع ہوسکتا ہے۔میرے منہ میں خاک اگر یہ مرحلہ شروع ہوگیا تو پاکستان اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائے گا۔اس دوران اگر ٹرمپ نے ’’خصماں نوں کھاؤ ‘‘ جیسا ایک ٹویٹ لکھ کر افغانستان سے اپنی افواج کے کسی معاہدے کے بغیر انخلاء کا اعلان کردیا تو ہماری مغربی سرحد پر ویسی ہی ابتری رونما ہوجائے گی جو ان دنوں شام کے شمال مشرقی علاقوں کا مقدر ہوچکی ہے۔

نام نہاد Big Pictureپر غور سے نگاہ ڈالتا ہوں تو خوف سے کانپ اٹھتا ہوں۔ہمارے میڈیا میں لیکن اس Pictureپر توجہ نہیں دی جارہی۔ ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کے کردار سے خوش ہوا جارہا ہے۔ہمارے جی کو بہلانے کے لئے برطانوی شہزادہ بھی اپنی اہلیہ سمیت پا کستان میں موجود ہے۔شہزادی نے شلوار قمیض پہنی۔ شاہی جوڑا رکشے میں بیٹھا۔رکشہ اگرچہ اسلام آباد میں ویسے چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے بھی ’’رکشے‘‘ سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں۔بہتر ہوتا کسی زمانے میں بہت مستند اور شاندار تصورہوتا’’پشاوری تانگہ‘‘ شاہی سواری کے لئے استعمال کرلیا جاتا۔



رومن ایمپائر اپنے ایامِ زوال میں تماشے رچایا کرتی تھی۔ بغداد کے گردونواح میں ہلاکو خان دندنارہا تھا مگر اس شہر کے علماء فروعی موضوعات پر مناظروں میں مصروف تھے۔ ان دنوں ہمارے ہاں بھی یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ دیوبندکا ’’حقیقی نمائندہ‘‘ کون ہے۔مولانافضل الرحمن اگر اس قابل نہیں تو رجوع علامہ طاہر اشرفی سے کریں یا مولانا طارق جمیل صاحب سے۔

(‌بشکریہ :‌روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

آصف زرداری عمران خان مولانا فضل الرحمن
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعمران کو اس خطے کا ’’اردگان‘‘ بنانے کی کوشش۔۔نصرت جاوید
Next Article لاڑکانہ الیکشن بھٹو کے قاتل اور بلاول ۔۔ شاہد راحیل خان
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

شہادت کے لیے بھی تیار ہوں : سربراہ پی ٹی آئی نے سڑکوں پر آنے کی کال دے دی

دسمبر 21, 2025

یہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔۔۔ سید مجاہدعلی کاتجزیہ

دسمبر 18, 2025

فیض حمید کی سزا سے میری بے اعتنائی کی خواہش : نصرت جاوید کا کالم

دسمبر 16, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • جمہوریت سے ناخوش امریکہ کی اگلی چال کیا ہو گی ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم جنوری 14, 2026
  • طاقت کا کھیل ۔۔’’ فلسطین میں بچے بڑے نہیں ہوتے : یاسر پیرزادہ کا کالم جنوری 14, 2026
  • آتش فشاں کے دہانے پر ایران ،رضا شاہ اور فرح دیبا کا تذکرہ : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم جنوری 13, 2026
  • ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے : جرمنی : ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی : رائٹرز جنوری 13, 2026
  • امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم جنوری 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.