Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جون 16, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران امریکہ ڈیل: اندیشے بدستور موجود ہیں ۔۔۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • 1984 کا اور آج کا اسلام آباد نصرت جاوید کا کالم
  • ’میں نے وزیراعظم نہیں بننا‘ : حامد میر کا کالم
  • نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے
  • آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی : ایران کا اعلان ۔۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
  • امریکا ایران امن معاہدہ طے پا گیا : 19 جون کو دستخط ہوں گے : شہباز شریف
  • حکومت تبدیلی کی بحث کتنی حقیقت پسندانہ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • "لیڈز سے لاہور ۔۔۔ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا : ڈاکٹر سید علی رضا نقوی کا اختصاریہ
  • خبردار ، ہوشیار، تیار : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ : تعلیمی ادارے سرمایہ کاروں کے سپرد کرنے کی پالیسی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»آزادی مارچ : کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا.. نصرت جاوید
کالم

آزادی مارچ : کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا.. نصرت جاوید

ایڈیٹرنومبر 15, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
JUI march
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اقبالؔ کا اُٹھایاسوال: ’’ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا؟‘‘میرے دل پہ نقش ہوچکا ہے۔ سیاسی موضوعات پر لکھتے ہوئے ’’طوطا فال‘‘ والی پیش گوئیاں کرنے سے ہمیشہ گریز کی کوشش کی۔ترجیح ہمیشہ سیاسی منظر نامے پر مچی ہل چل کے پیچھے چھپے محرکات کے بار ے میں سوالات اٹھانے کو دی ہے۔اگر چند سوالوں کے معقول جوابات مل جائیں ان کی روشنی میں تھوڑا ’’تجزیہ‘‘ کردیا۔ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ ایک مہینے سے لیکن مجھے مستقل بوکھلائے رکھا۔ان کی لگائی گیم سے پریشان ہوا میں ان کے مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی اس کے بارے میں جان بوجھ کر اس کالم میں ’’ناغے‘‘ کا اعلان کرتا رہا۔بدھ کی شام مولانا نے اپنا دھرنا ’’اچانک‘‘ ختم کردیا ہے۔ایسا کرتے ہوئے اگرچہ جے یو آئی کے کارکنوں کو ’’پلان-بی‘‘ کے اطلاق کے مشن پر روانہ کردیا۔ پلان-بی کے اثرات دیکھنے کے لئے میرے پاس مزید دو دن ہیں۔آج اس ہفتے کا آخری کالم لکھنا ہے۔شاید آئندہ ہفتے کا پہلا کالم لکھنے تک صورت حال واضح ہوجائے۔گزشتہ کئی مہینوں سے مولانا فضل الرحمن شہر شہر جاکر ’’آزادی مارچ‘‘ کے ارادے کا اظہار کررہے تھے۔ اس کے بارے میں اس کالم میں ہمیشہ سوالات اٹھائے۔ مسلسل اس امر پر توجہ دلاتا رہاکہ FATFکی زد میں آئی ریاستِ پاکستان اسلام آباد میں ’’مذہبی انتہا پسندوں‘‘کی مؤثر موجودگی برداشت نہیں کر پائے گی۔عمران حکومت اگر ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے اسے منتشر کرنا چاہے گی تو اس کی مذمت کے بجائے ’’بلے بلے‘‘ ہوجائے گی۔یہ بلکہ بہت ’’مستحکم‘‘ ہوئی نظر آئے گی۔’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ کی ’’نمائندگی‘‘ کی تہمت سے محفوظ رہنے کی خاطر ہی شاید مولانا فضل الرحمن ہمیں یہ دکھانے کی کوششوں میں مصروف رہے کہ عمران حکومت کے خلاف ان کی جدوجہد کی اصل محرک ’’سول بالادستی‘‘ کی خواہش ہے۔ آئین کا احترام اور صاف،شفاف انتخابی عمل کے مطالبے۔ نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی ان مطالبات کی شدومد سے حمایت کرتی ہے۔’’آزادی مارچ‘‘ لہذا فقط جے یو آئی ہی کا شو ہی نہیں ہوگا۔اسے تمام اپوزیشن جماعتوں کے جذبات کا اظہار تصور کیا جائے ۔عمران حکومت کی مخالف جماعتوں سے گفتگو کے دوران مگر وہ اس امر پر بضد رہے کہ ان کے تجویز کردہ مارچ کا انعقاد ہر صورت اکتوبر 2019میں ہوا۔ وہ اسے نومبر کے آخری ہفتے یا آئندہ سال کے آغاز تک مؤخر کرنے کو ہرگز تیار نہیں تھے۔ اپوزیشن رہ نمائوں کے ساتھ ان ملاقاتوں میں بھی جہاں موبائل فونز کمرے سے باہر رکھوادئیے جاتے ہیں وہ یہ سمجھانے کو ہرگز تیار نہیں ہوئے کہ ان کی سوئی اکتوبر کے مہینے پر کیوں اٹکی ہوئی ہے۔اس ضمن میں انہوں نے پُراسرار خاموشی اختیار کئے رکھی۔ بے پناہ اعتماد سے البتہ یہ تاثر دینے میں ضرور کامیاب رہے کہ انہوں نے کوئی بہت ہی ’’گہری گیم‘‘ لگارکھی ہے۔اس ’’گہری گیم‘‘ کے تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے قوی امید تھی کہ عمران حکومت انہیں اسلام آباد کی اجازت ہی نہیں دے گی . گرفتاریوں وغیرہ کے ذریعے ان کا اسلام آباد تک مارچ روک دیا جائے گا۔حکومت نے اس ضمن میں کافی تڑیاں لگانے کے بعد مگر خاموشی اختیار کرلی۔ مولانا اپنے کارکنوں کی ایک مؤثر تعداد کے ساتھ بالآخر اسلام آباد پہنچ گئے۔سچی بات یہ بھی ہے کہ ان کے مارچ کے شرکاء کی تعداد اوسطاََ اس تعداد سے ہمیشہ تقریباََ دو گنا رہی جو تحریک انصاف اور طاہر القادری نے باہم مل کر اگست 2014سے جاری رہے دھرنے میں دکھائی تھی۔ ان دو جماعتوں کے دئیے دھرنے کے مقابلے میں مولانا کے پیروکار بے تحاشہ منظم بھی نظر آئے۔ ان کی جانب سے پارلیمان،سپریم کورٹ یا میڈیا سے متعلق اداروں کے خلاف جارحانہ پیش قدمی نہیں ہوئی۔صرف ایک بار مولانا نے جوش خطابت میں وزیر اعظم ہائوس میں داخل ہوکر عمران خان صاحب کو گرفتار کرنے کی بڑھک لگائی تھی۔ اس کے بعد وہ اس خیال سے رجوع کی کاوشوں میں مبتلا رہے۔مولانا کے کارکنوں نے اپنے صبر اور نظم سے اسلا م آباد کے شہریوں کی کثیر تعداد کو یقینا خوش گوار حیرت مہیا کی۔ اس شہر کے اکثر رہائشی مجھے ’’مولوی ایسے تو نہیں ہوتے جیسا ہم سوچتے رہے‘‘ والی بات کہتے پائے گئے ۔صحافی مگر What Nextوالے سوالات اٹھانے کو مجبور ہوتا ہے۔مجھے گماں تھا کہ منظم کارکنوں کی ایک متاثر کن تعداد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ کر مولانا اس شہر سے رخصت کے لئے اپنے لئے حکومت سے کوئی Face Saverضرور حاصل کریں گے۔ حکومت نے پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک وزارتی کمیٹی کے قیام کے ذریعے ان سے مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے میرے اندازے کو تقویت بخشی۔ چند ملاقاتوں کے بعد مگر نجانے ’’کس‘‘ نے چودھری شجاعت حسین صاحب کو اسلام آباد بلوالیا۔ وہ وزارتی کمیٹی کے متوازی مذاکرات میں مصروف ہوگئے۔ گزرے پیر کی سہ پہر قومی اسمبلی کا جو اجلاس ہوا اس کے دوران پرویز خٹک نے جے یو آئی کے دھرنے کے بارے میں بہت تحقیر آمیز زبان استعمال کی۔ان کے رویے نے واضح پیغام دیا کہ عمران حکومت مولانا فضل الرحمن کو ہرگز کوئی Face Saverدینے کو تیار نہیں ہے۔دریں اثناء نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ’’آزادی مارچ‘‘ سے قطعی لاتعلقی اختیار کرلی۔ خود کو تنہا محسوس کرتے ہوئے مولانا نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے تقریباََ طیش کے عالم میں ’’مذہبی کارڈ‘‘ کھیلنا شروع کردیا۔ان کی زبان نے مجھے اس خوف میں مبتلا کردیا کہ عمران حکومت سے کوئی Face سور نہ ملنے سے مایوس ہوکر مولانا اپنی ’’اصل Base‘‘ کو ’’مذہبی کارڈ‘‘ کے استعمال سے اُکساتے ہوئے ’’تختہ یا تخت‘‘ والا معرکہ برپا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے ’’لاشیں اٹھانے‘‘ کے ارادے کا بھی کھل کر اظہار کیا۔اس اظہار کے بعد مگر انہوں نے ’’آزادی مارچ‘‘ کو سیرت النبیﷺ کے اجتماع میں بدل دیا اور عید میلادالنبیﷺ گزرجانے کے دو دن بعد ’’پلان-بی‘‘ کے نام پر اسلام آباد سے اپنے کارکنوں سمیت واپس لوٹ گئے۔سوالات مگر اپنی جگہ موجود ہیں جن کے جوابات کم از کم میں ابھی تک حاصل نہیں کرپایا ہوں۔ بنیادی سوال وہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن اکتوبر ہی میں اپنا مارچ حلیف جماعتوں کے اصرار کے باوجود اسلام آباد لانے کو کیوں بضد رہے۔اکتوبر2019کی ان کی نظر میں کیا اہمیت تھی؟سوال اس کے بعد یہ اٹھتا ہے کہ مؤثر منظم کارکنوں کی ایک مؤثر تعداد کے ہمراہ دو ہفتوں تک اسلام آباد میں موجود رہتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے ٹھوس سیاسی اعتبار سے کیا حاصل کیا؟ نظر بظاہر کچھ نہیں۔ وہ عمران حکومت کو اس امر پر بھی آمادہ نہ کر پائے کہ جولائی 2018میں ہوئے انتخابات کی کسی پارلیمانی یا عدالتی کمیٹی کے ذریعے طے شدہ اور مختصر ترین دورانیے میں تحقیقات ہوں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام کے دنوں سے عمران حکومت کی بنائی وزارتی کمیٹی نے بلکہ ان سے مذاکرات جاری رکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔مزید سوال یہ اٹھتا ہے کہ عمران حکومت سے کسی بھی نوعیت کے تسلی نما وعدے نہ ملنے کے باوجود وہ ’’کس‘‘ کے اصرار پر اپنا مارچ ختم کرنے کو تیار ہوئے۔ اس سوال کا جواب نہ ملنے کی صورت میں ہم یہ تصور کرنے کو مجبور ہوں گے کہ کئی برسوں سے بہت ہی ’’زیرک‘‘ شمار ہوتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے باکسنگ کی زبان میں ’’ازخود‘‘ اپنے ’’وزن سے زیادہ‘‘ ایک ’’گیم‘‘ لگائی۔ اپنے تئیں لگائی اس گیم سے انہوں نے چند ’’غیر منطقی‘‘ توقعات باندھ لیں۔ یہ توقعات پایہ تکمیل تک پہنچتی نظر نہ آئیں تو پلان-بی کے نام پر ’’باجو کی گلی‘‘ سے اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔مولانا جس انداز میں اسلام آباد سے رخصت ہوئے ہیں اس نے ان کی ابھی تک ’’زیرک‘‘ ہونے کی شہرت کو بہت دھچکا پہنچایا ہے۔عمران حکومت اس کی وجہ سے کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہوئی نظر آرہی ہے۔ ’’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا‘‘ والا معاملہ محسوس ہورہا ہے۔
( بشکریہ روزنامہ نواۓ وقت )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

دھرنا مولانا فضل الرحمن
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنفرت اور نعرے بازی کی عمران خان برانڈ سیاست کامیاب نہیں ہو سکتی ۔۔سید مجاہد علی
Next Article میں شاعر تو نہیں .. ماہ طلعت زاہدی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فیض حمید مائنڈ سیٹ سے جان چھڑائیں : حامد میر کا کالم

دسمبر 15, 2025

جمہوری سیاسی قیادت کا قحط : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ

اکتوبر 23, 2025

ٹی ایل پی پھر میدان میں : اسلام آباد ، راول پنڈی کنٹینروں کے شہر میں تبدیل : موبائل اور انٹرنیٹ بند

اکتوبر 10, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایران امریکہ ڈیل: اندیشے بدستور موجود ہیں ۔۔۔سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 16, 2026
  • 1984 کا اور آج کا اسلام آباد نصرت جاوید کا کالم جون 16, 2026
  • ’میں نے وزیراعظم نہیں بننا‘ : حامد میر کا کالم جون 16, 2026
  • نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے جون 15, 2026
  • آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی : ایران کا اعلان ۔۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جون 15, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.