تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ۔۔’’نامکمل موت‘‘ کا خیال

منگل کی رات بہت مشکل سے تقریباََ 2بجے آنکھ لگی،غالباََ ایک گھنٹہ گزر گیا تو پنکھا بند ہوگیا۔ کھڑکی سے باہر جھانکا تو بھاری بارش کا شور برپا تھا، اسے بجلی غائب ہونے کا باعث ٹھہراکر دوبارہ سو گیا۔کچھ دیر بعد مگر پسینے سے شرابور ہوااُٹھ گیا۔بارش میں نرمی آچکی تھی۔تازہ ہوا کی خاطر کھڑکیوں کے پٹ کھولے۔ہوا کی تھپکیوں نے حوصلہ دیا،گہری نیند مگر فراہم نہ ہوئی۔فیصلہ نہ کرپایا کہ نیند میں ہوں یا عالم خواب میں چلا گیا ہوں۔اسی کیفیت میں ’’دریافت‘‘ ہوا کہ شاید میں نے کوئی ’’نظم‘‘ لکھی ہے اگرچہ شاعری کے ساتھ تمام عمر فقط اسے پڑھنے یا سننے کا تعلق رہاہے۔ بہرحال ’’میری نظم‘‘ میں ایک مصرعہ تھا جو ’’نامکمل موت‘‘ کا ذکر کررہا تھا۔ اس ترکیب کی آمد نے دل لرزا دیا۔ ابھی تک یہ طے نہیں کر پایا ہوں کہ میں نے اسے پہلے ہی سے پڑھ یا سُن رکھا تھا یا میرے ’’تخلیقی ذہن‘‘ میں غیب سے آئے مضامین کی طرح نمودار ہوگیا۔ بجلی سے محروم ہوا، صبح کا انتظار کرنا شروع ہوگیا۔9 بجے کے قریب واپڈا کے دفتر گیا تو معلوم ہوا کہ F-8/2سیکٹر کو بجلی فراہم کرنے والی تار جو زمین میں دھنسی ہوتی ہے ’’کہیں‘‘ سے خراب ہوگئی ہے۔بجلی کی ترسیل میں خرابی کا تعین کرکے اسے درست کرنے والا سٹاف دفتر آنا شروع ہوگیا تھا۔ عملہ کی نفری پوری ہونے کے بعد وہ ’’سائٹ‘‘ پر جائے گا۔ زمین کو کھود کر پتہ لگایا جائے گا کہ ’’خرابی‘‘ کس مقام پر ہوئی۔میری موجودگی میں پونے دس بجے کے قریب عملے کی نفری پوری ہوگئی۔ وہ ’’سٹورکیپر‘‘ جو بجلی کی مرمت کے سامان کا نگہبان ہوتا ہے مگر اس وقت تک ڈیوٹی پر نہیں آیا تھا، اسے فون کئے جارہے تھے۔ مجھے اطمینان دلایا گیا کہ جیسے ہی وہ دفتر پہنچا، بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے والا عملہ جائے وقوعہ کو روانہ ہوجائے گا۔’’فالٹ‘‘ اگر ابتداء ہی میں دریافت ہوگئی تو شاید ایک گھنٹے بعد بجلی بحال ہوجائے گی۔ایسا نہ ہوا تو مزید تین سے چار گھنٹے تک انتظار کرنا ہوگا۔ تیز بارش میں ایسے واقعات ہوجاتے ہیں۔صبر کے سوا اورچارہ بھی کیا ہے۔مجھے صبر کی تلقین کرتے ہوئے ایک خوش مزاج بندے نے انتہائی خلوص سے مجھے چائے پلانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ٹھنڈے پانی کی بوتل منگوانے پر بھی اصرار کرتا رہا۔ انکار کے باوجود میں اس کی خوش مزاجی کے بوجھ تلے دبا گھر لوٹ آیا۔
گھر لوٹتے ہوئے مگر خیال آیا کہ واپڈا کے دفتر میں تقریباََ چالیس منٹ تک موجود رہا ہوں۔میرے علاوہ مگر کوئی اور ’’صارف‘‘ بجلی کو بحال کرنے کی فریاد لے کر وہاں نہیں آیا تھا۔ ’’فالٹ‘‘ اگر سنگین اور طویل ہوجائے تو واپڈا والے اکثر اپنے فون کے رسیور کو کریڈل سے ہٹاکر “Busy”بنادیتے ہیں۔ میری موجودگی میں یہ اہتمام بھی نظر نہیں آیا۔اس حقیقت نے مجھے سمجھا دیا کہ کم از کم اسلام آباد میں صارفین کی اکثریت نے اپنے تئیں گھروں میں بجلی کی فراہمی کا بندوبست کررکھا ہے۔معاملہ جنریٹر سے شروع ہوا تھا۔اس کے بعد UPSآئے۔اب سولرنے مؤثر متبادل بھی فراہم کردیا ہے۔فقط مجھ جیسے ’’ماڑے‘‘ لوگ ہی ایسی نعمتوں سے محروم ہیں۔ ’’لفافہ صحافت‘‘ میں عمر لٹادینے کے بعدبھی راحت بھری زندگی کو یقینی نہیں بناپائے۔
دریں اثناء 11بج چکے تھے۔بجلی سے محروم ہوئے 7گھنٹے گزرچکے تھے۔فضا میں حبس بھی حاوی ہونا شروع ہوگیا۔مجھے لیکن یہ کالم لکھ کردفتر بھجوانا تھا۔لان میں درخت کے نیچے بیٹھ کر اسے لکھنے میں مصروف ہوگیا ۔ یہ البتہ جان لیا ہے کہ اسلام آباد کے نام نہاد ’’پوش‘‘ علاقوں کے صارفین کی اکثریت سرکار سے فراہم ہوئی بجلی پر ہی تکیہ نہیں کرتی۔ اپنی راحت کو خود ہی یقینی بنائے ہوئے ہے۔ ’’اپنی مدد آپ والا‘‘ یہ رویہ آپ کو احتجاج تو دور کی بات ہے، شکایت درج کروانے کیلئے بھی نہیں اُکساتا۔ سرکار خواہ کسی کی بھی ہو اسے گھبرانے کی لہٰذا ہرگز ضرورت نہیں۔ صبر کاپھل ویسے بھی میٹھا ہوتا ہے۔سوال اگرچہ ذہن میں یہ بھی اُٹھتا ہے کہ پاکستان کے 22کروڑ افراد میں سے کتنے فیصد اپنے تئیں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے والے بندوبست سے مالا مال ہیں،شاید پانچ فی صدبھی نہیں۔یہ تعداد مگر ہماری Eliteیعنی اشرافیہ بھی کہلاتی ہے۔سیاسی حوالوں سے ذہن سازی یا Perception Buildingکے عمل پر اس کا اجارہ ہے۔یہ اشرافیہ ’’کرپشن‘‘ کے سخت خلاف ہے۔سیاستدانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ سے بے پناہ نفرت کرتی ہے۔اسے گلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا ‘‘بک‘‘ چکا ہے۔مافیا کا یرغمال بن چکا ہے۔اس کی جانب سے اٹھائے معاملات بنیادی طورپر Fake Newsہوتے ہیں۔انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔دنیا بھر کی اشرافیہ کا حصہ ہوتے ہوئے سیاست دان مگر میڈیا کو تھوڑی لفٹ کروانے کو مجبور ہوتے ہیں۔اس ضمن میں سب سے زیادہ ’’مجبوری‘‘ ان سیاستدانوں کو لاحق رہتی ہے جو کسی نہ کسی طرح پارلیمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ان کی خواہش رہتی ہے کہ وہ جب بھی پارلیمان میں کسی ’’عوامی مسئلہ‘‘ کا ذکر کریں تو اس کی میڈیا میں مناسب کوریج ہو ۔
1985ء سے پارلیمانی کارروائی کے بارے میں مسلسل لکھتے ہوئے مجھے اس حوالے سے اکثر شکایات کا سامنا رہا،2018ء کے بعد مگر جو پارلیمان چل رہی ہے وہ اس ’’بوجھ‘‘ سے اب آزاد ہوئی نظر آرہی ہے۔ چند گِنے چُنے سیاست دانوں کے علاوہ ان کی بے پناہ اکثریت نے اخبار پڑھنا چھوڑدئیے ہیں۔2002ء سے ان کی توجہ ٹی وی سکرینوں کی جانب مبذول ہوگئی۔ گزشتہ چند مہینوں سے مگر انہوں نے ہمارے آزاد اور بے باک ٹی وی والوں سے گلے شکوے کرنا بھی چھوڑ دئیے ہیں۔ان میں سے ذہین افراد نے اپنی سوشل میڈیا ’’ٹیم‘‘ بنالی ہیں۔ وہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں کوئی تقریر کرتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا پر Uploadکردیا جاتا ہے۔ اسے Likesاور Shareمل جاتے ہیں۔ ’’اپنی مدد آپ‘‘ والا اصول یہاں بھی کارفرما ہوا نظر آرہا ہے۔سیاست دانوں کی ’’میڈیا‘‘ سے رہائی کی حقیقت کا بخوبی ادراک کرنا ہو تو ان دنوں جاری سینٹ اجلاس کی کارروائی پر ذرا غور کرلیں۔منگل کی شام یہ اجلاس چھ بجکر 20منٹ پر شروع ہوا۔تقریباََ45منٹ تک سوالات کا وقفہ جاری رہا۔ بعدازاں نماز کے لئے بریک ہوگئی۔ اجلاس ساڑھے سات بجے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ اس دوران کم از کم دو اہم ترین موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ عمران حکومت کی ترجیح اگرچہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کو یقینی بنانے والے چند قوانین کی منظوری درکار تھی۔ ہماری دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی نے ایوان بالا میں بھاری بھر کم اکثریت کے باوجود ’’ذمہ دار اور حب الوطنی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کی اس ضمن میں بھرپور معاونت فرمائی۔ ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لئے اب تک پانچ قوانین قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوچکے ہیں۔باقی دو بھی ہوجائیں گے۔حکومت اور اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے کئی رہ نماؤں نے اگرچہ مجھ اور آپ جیسے عامیوں کو ابھی تک تفصیل سے نہیں بتایا کہ حال ہی میں منظور ہوئے قوانین کے اہم ترین نکات کیاہیں۔ان قوانین کی بابت فقط مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے تھوڑی دہائی مچائی۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے ’’قوم پرستوں‘‘ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ان جماعتوں کی مچائی دہائی کا اصل مقصد مگر یہ تھا کہ عوام کو باور کروایا جائے کہ ’’عالمی قوتوں‘‘ کو ’’خوش رکھنے‘‘کی کاوشوں میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے عمران حکومت کی بھرپور ’’سہولت کاری‘‘ کا کردار ادا کیا۔ کیوں، کیسے اور کس طرح؟ ان سوالات کے جوابات فراہم کرنے کا اگرچہ تردد نہیں ہوا۔ہمارے نام نہاد ’’نمائندوں‘‘ نے اگر پارلیمان میں کھڑے ہوکر ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کی خاطر ہوئی قانون سازی کی تفصیلات عوام کو سمجھانے کا تردد نہیں کیا تو ’’بکائو میڈیا‘‘سے یہ امید کیوں باندھی جائے کہ وہ اپنے تئیں اس ضمن میں تھوڑی تحقیق کرے۔ کچھ وقت لگاکر کھوج لگائے کہ FATFکو درحقیقت کیا مطلوب تھا۔ اس ادارے کو مطمئن کرنے کے بہانے عمران حکومت کس ہوشیاری سے ہر نوعیت کی ’’منی لانڈرنگ‘‘ کو ’’دہشت گردی‘‘ سے جوڑنا چاہ رہی تھی۔ ایسا ہوجاتا تو اپوزیشن کے کونسے نمایاں سیاستدان شایدعمر بھر کے لئے جیلوں کو بھیج دئیے جاتے۔ ان کے تحفظ کے لئے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو کونسے جتن کرنا پڑے۔ رات کے اندھیرے میں ہوئی ملاقاتوں میں تاہم ’’مک مکا‘‘ بالآخر ہوگیا۔اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں خود کو ’’ذمہ دار اور محب الوطن‘‘ ثابت کرنے میں کامیاب رہیں۔ عمران حکومت کو مگر اب بھیSelected پکارے چلی جارہی ہیں۔میرے ذہن میں ’’نامکمل موت‘‘ کا جو خیال کوندا تھا وہ غالباََ پاکستان کی سیاست کے بارے میں تھا۔ سیاسی عمل کی وطنِ عزیز میں موت واقعہ ہوچکی ہے۔ہم مگر کبوتر کی طرح آنکھ بند کئے ہوئے اس سے منکر نظر آرہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker