تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ:یومِ تشکر: مکافاتِ عمل

اکتوبر 1999میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل مشرف کئی برسوں تک ہمارے ملک کے حتمی فیصلہ ساز رہے۔ جمہوریت کی چمپئن کہلاتی سیاسی جماعتیں ان کی مزاحمت میں قطعاََ ناکام رہیں۔وہ جسے ’’سول سوسائٹی‘‘ کہاجاتا ہے اس کے خود ساختہ کئی نامور نمائندے جمہوریت کی ’’اصل‘‘ شکل بحال کرنے کے بجائے اس امر پر شاداں محسوس کرتے رہے کہ فوجی وردی پہنے ہوئے بھی جنرل مشرف ’’روشن خیال‘‘ ہیں۔ ’’ملاؤں‘‘ کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ خواتین کو سیاسی اور معاشی میدان میں فعال دیکھنا چاہتے ہیں۔کشمیر کا ’’آؤٹ آف باکس‘‘ حل ڈھونڈتے ہوئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنوبی ایشیاء کو دائمی امن واستحکام فراہم کرنے کے خواہاں بھی ہیں۔
میڈیا نے بھی خود کو جنرل مشرف کا احسان مند محسوس کیا کیونکہ ان کے دور میں نجی شعبے کو 24/7چینل کھولنے کی اجازت ملی۔ ان چینلوں نے ’’صحافت‘‘ کو پرکشش دھندا بنادیا۔معقول اور کئی صورتوں میں حیران کن تنخواہوں کی بدولت کئی صحافی راتوں رات فلمی ستاروں کی طرح مقبول ہونا شروع ہوگئے۔
’’ستے خیراں‘‘ کے اس پر رونق ماحول میں اچانک اپریل 2007آگیا۔ ان دنوں کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو ایوان صدر بلاکر چند کاغذات دکھاتے ہوئے ان سے استعفیٰ لینے کو دباؤ ڈالا گیا۔ چودھری صاحب نے انکار کردیا اور یوں عدلیہ بحالی کی تحریک کا آغاز ہوگیا۔ہمارے سادہ لوح عوام کے دلوں میں مذکورہ تحریک نے امید یہ جگائی کہ برسوں کے انتظار کے بعد قوم کو ایک ’’مسیحا‘‘ نصیب ہوگیا ہے۔وہ اس کے خیرمقدم کے لئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
اس تحریک کی بدولت مجھے بھی پرنٹ صحافت کی گمنامی سے نکل کر ٹی وی سکرینوں پر چند دنوں کے لئے ’’ہیرو‘‘ بننے کا موقعہ نصیب ہوگیا۔ خود کو میسر شہرت اور ترقی کے امکانات مگر میرے وسوسوں بھرے دل کو اطمینان نہ بخش پائے۔اقتدار کے کھیل کا متجسس شاہد ہوتے ہوئے جب بھی موقعہ ملا یہ اصرار کرنے سے باز نہ رہا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک ہمارے دُکھوں کا مداوا نہیں۔یہ ریاست کو ’’ماں‘‘ ہرگز نہیں بنائے گی۔ ’’انقلاب‘‘ ہمارے ہاں آنے سے ویسے بھی ہمیشہ ہچکچاتا رہا ہے۔کامل ہیجان کے موسم میں لیکن مجھ جیسے افراد کے وسوسوں پر غور کرنے کو کوئی تیار ہی نہیں ہوا۔
بالآخر افتخار چودھری صاحب اپنے منصب پر بحال ہوگئے۔تاثر یہ بھی پھیلا کہ نواز شریف نے اپنے گھر سے نکل کر اسلام آباد تک ایک ’’لانگ مارچ‘‘ کے ساتھ پہنچنے کا ارادہ باندھ کر افتخار چودھری کی بحالی کو ممکن بنایا۔ایک جذباتی ہجوم کے ساتھ وہ ابھی گوجرانوالہ تک ہی پہنچے تھے تو ان دنوں کے آرمی چیف -جنرل کیانی- نے انہیں فون پر مشورہ دیا کہ اسلام آباد آنے کے بجائے وہ ٹیلی وژن کے روبرو بیٹھ جائیں۔ چند ہی لمحوں بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی قوم سے خطاب کریں گے۔ یہ خطاب افتخار چودھری کی بحالی کو یقینی بنائے گا۔عدلیہ بحالی کی تحریک یوں ’’کامیاب‘‘ ہوگئی۔ کلیدی کریڈٹ اس کا نوازشریف کی ’’انقلابی‘‘ سیاست کو ملا۔
افتخارچودھری اپنے منصب پر لوٹ آئے تو ریاست کو ’’ماں‘‘ بنانے کے بجائے ایک سخت گیر نگہبان کی طرح ریاستی نظام کو ’’سیدھا‘‘ کرنے کے مشن میں مصروف ہوگئے۔ اسمبلیوں کو جعلی ڈگریوں والوں سے پاک کرنے کی ٹھان لی۔سوموٹو اقدامات کے ذریعے بدعنوان سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کو لگام ڈالنا شروع کردی۔ان کی خواہش تھی کہ ان دنوں کے صدر یعنی آصف علی زرداری کے مبینہ طورپر سوئس بینکوں میں چھپائے خیرہ کن ڈالروں کا سراغ بھی لگایا جائے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کو ایک چٹھی لکھنے کا حکم ہوا۔موصوف نے انکار کردیا تو ’’حیف ہے اس قوم پر‘‘ کی دہائی مچاتے ہوئے انہیں گھر بھیج دیا گیا۔’’نااہل اور بدعنوان‘‘ سیاست دانوں سے اُکتائی قوم کے لئے افتخار صاحب واقعتا ’’مسیحا‘‘ ثابت ہونا شروع ہوگئے۔
یہ ’’مسیحا‘‘ اگرچہ اپنے فرزند- ارسلان- کا بہت ہی شفیق باپ بھی تھا۔فرزند افتخار چودھری نے ڈاکٹر بننے کی تعلیم حاصل کی تھی۔اسے مکمل کرنے کے بعد مگر انہوں نے ایف -آئی-اے میں شامل ہوکر قوم کو جرائم سے پاک کرنا چاہا۔ ان کے ابو اپنے منصب پر واپس آئے تو ارسلان ذاتی کاروبار چمکانے کی کاوشوں میں مصروف ہوگئے۔انہیں حرکت سے کہیں زیاد ہ ’’برکت‘‘ نصیب ہوئی۔ افتخار چودھری کو بحال کروانے کے دعوے دارنواز شریف اور ان کی جماعت مگراس پہلو کو نظرانداز کرتے رہے۔ افتخار چودھری سے ’’انصاف‘‘ کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے بلکہ میموگیٹ کے نام سے اُبھرے سکینڈل کی پیروی کے لئے کالے کوٹ پہن کر عدالتوں کے روبرو بھی پیش ہوتے رہے۔
تاریخ مگر بہت ظالم ہوا کرتی ہے۔بسااوقات ’’جیسا کرو گے ویسا بھروے گے ‘‘والے محاورے میں بیان کردہ حقیقت کو نہایت سفاکی سے اجاگر کرنے میں مصروف رہتی ہے۔افتخار چودھری سے جیسا ’’انصاف‘‘ نواز شریف اور ان کی جماعت اپنے سیاسی مخالفین کے لئے یقینی بناتے رہے،ثاقب نثار کی کمان میں آیا تو پانامہ ہوگیا۔سوموٹو اب ان کے خلاف استعمال ہوا۔ اس کی بدولت وہ سسیلین مافیا کے سرغنہ ٹھہرائے گئے۔بالآخر تاحیات کسی بھی منتخب عہدے کے لئے نااہل قرار پائے۔
ان کی فراغت کا فیصلہ آیا تو اس کا کریڈٹ اب ایک اور سیاسی جماعت یعنی تحریک انصاف نے اُچک لیا۔اسلام آباد میں اس کے زیر اہتمام ’’یوم تشکر‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور جلسے کا اہتمام ہوا۔نواز شریف کو مافیا کا سرغنہ اور سیاسی عمل کے لئے تاحیات نااہل ٹھہرانے والے عزت مآب ججوں کی قدآور تصاویر یوم تشکر والے جلسے میں نمایاں انداز میں لگائی گئیں۔ ان سب کو قوم کے ’’مسیحا‘‘ پکارا گیا۔ان کے نام لے کر ایک سیاسی جلسے میں قصیدوں سے منسوب مدح سرائی ہوئی۔میں بدنصیب ان دنوں بھی پریشان ہوا فریاد کرتا رہا کہ عدالت کا بنیادی فریضہ ہی انصاف کی فراہمی ہے۔ وہ اگر واقعتافراہم ہوجائے تو ’’فرض شناس‘‘ ججوں کو مسیحا قرار دینے کا رواج غیر مناسب ہے۔تاریخ کی سفاکی اور مکافاتِ عمل والی حقیقت بھی یاد دلانے کی کوشش کرتا رہا۔
خدارا اعتبار کرلیں کہ مذکورہ بالا طولانی تمہید کے ذریعے میں رعونت سے مغلوب ہوئے ’’دانشوروں‘‘ کی طرح اپنی جبلت میں موجود ’’دوراندیشی اور بصیرت‘‘ کو اجاگر نہیں کرنا چاہ رہا۔ محض دو ٹکے کا رپورٹر رہا ہوں۔اب اس قابل بھی نہیں رہا۔ عرصہ ہوا متحرک زندگی سے کنارہ کش ہوا گھر کے کونے میں دبکا ’’دہی‘‘ کھانے میں مصروف رہتا ہوں۔لکھنے کی علت ہفتے میں پانچ دن اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کو مجبورکرتی ہے۔جو پڑھے اس کا بھی بھلا-جو نہ پڑھے اس کا مزید بھلا۔
آج کے کالم کے ذریعے آپ کو فقط متنبہ کرنا مقصود ہے کہ اپوزیشن کے دنوں میں ’’آزاد ججوں‘‘ کے یوم تشکر کے ذریعے گن گانے والی تحریک انصاف حکومت سنبھالنے کے بعد اب عدلیہ کے عمومی رویے کے بارے میں تقریباََ ویسا ہی محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے جو پیپلز پارٹی افتخار چودھری اور نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ ثاقب نثار کے دنوں میں محسوس کیا کرتی تھی۔ جنرل مشرف کے ’’جوابی وار‘‘ چونکہ ناکام رہے تھے اس لئے یہ دونوں جماعتیں ‘‘جوابی قدم‘‘ اٹھانے سے ہچکچاتی رہیں۔عمران خان صاحب مگر کسی سے گھبراتے نہیں ہیں۔حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد اپنی توانائی کو ’’ری چارج‘‘ ہوا بھی محسوس کررہے ہیں۔انہیں فواد چودھری اور شہزاد اکبر مرزا صاحب جیسے نابغوں کی معاونت بھی میسرہے۔گماں یہ بھی ہے کہ ’’مقتدر حلقوں‘‘ کے چند بااثر افراد بھی ہماری عدالتوں کے کچھ فیصلوں کی بابت ناخوش ہیں۔عمران حکومت کو ’’جوابی وار‘‘ کے لئے لہٰذا مناسب ماحول بناہوانظر آرہا ہے۔شہبازشریف کو لندن جانے کی اجازت والے فیصلے نے نظر بظاہر اسے مزید ساز گار بنادیا ہے۔اندھی نفرت وعقیدت پرمبنی ہیجان کا لہٰذا ایک اور موسم شروع ہونے والا ہے۔حفاظتی بند باندھ لیجئے اور ان احتیاطی تدابیر کو ہمہ وقت ذہن میں رکھیں جن کا پرواز کے ناہموار ہونے کے دوران ہر صورت استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker