تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ:آزاد کشمیر کے انتخابات

میرا ایک چھوٹے بھائیوں جیسا دوست ہے۔سیاست وصحافت میں دلچسپی تو کیا اس کے بارے میں گفتگو بھی پسند نہیں کرتا۔ امریکہ کی ایک مشہور یونیورسٹی سے مگر اس کی بیوی نے ابلاغ کا ہنر سیکھا ہے۔شادی کے بعد وہ پاکستان میں صحافت کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔میں نے بہت مشکل سے اسے قائل کیا کہ بھول جائے۔ابتداََ مجھ سے دل شکنی والی تقریر سنتے ہوئے خفارہی ہے ۔میرا انجام دیکھ کر اب مگر سمجھ چکی ہے۔کئی بار بہت چائو سے نہاری وغیرہ بناتی ہے اور مجھے مدعو کرکے دادسمیٹنا چاہتی ہے۔میں اس کی گفتگو سے ہمیشہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میرا دوست کاروباری ہے۔ہمہ وقت اپنا دھندا چمکانے میں مصروف رہتا ہے۔کاروبارہی کے سلسلے میں تقریباََ تین ماہ قبل اسے آزادکشمیر جانا پڑا۔اس کی بیوی کبھی آزادکشمیر نہیں گئی تھی۔اس کے ساتھ سیاحت کی خاطر روانہ ہوگئی۔آزادکشمیر سے لوٹنے کے چند دن بعد مجھے کھانے کے لئے بلایا۔ان کے ہاں موجودگی کے دوران ایک رپورٹر اور سفر نامہ لکھنے والے ادیبوں کی طرح خاتونِ خانہ اپنے مشاہدات وتاثرات بیان کرتی رہی۔اس کے مشاہدے میں آئی ایک بات نے مجھے چونکا دیا۔
میرے دوست اور اس کی بیوی کو آزادکشمیرکا ایک رہائشی ڈرائیور اسلام آباد سے وہاں لے کر گیا تھا۔میری میزبان خاتون نے بتایا کہ جیسے ہی وہ مری سے گزرکر مظفر آباد کی حدود میں داخل ہوئے تو ڈرائیور نے انگریزی میں اسے ’’ویل کم ٹو خیبرپختونخواہ ‘‘ کہتے ہوئے حیران کردیا۔ہنر ابلاغ کی طالب علم نے سنجیدگی سے استفسار کیا کہ اس نے یہ الفاظ کیوں ادا کئے ہیں۔ ڈرائیور نے میری میزبان کو بتایا کہ آزادکشمیر اسمبلی کے نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔تحریک انصاف کے امیدوار اُن کی بدولت زیادہ تعداد میں جیت کر حکومت بنائیں گے کیونکہ آزادکشمیر کے ووٹر روایتی طورپر اسی جماعت کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں جو وفاق میں بھی برسراقتدار ہو۔ڈرائیور کا دعویٰ تھا کہ آزادکشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگئی تو بعدازاں وہاں کے ’’ریاستی ’’تشخص کو بدلنے کی کوشش ہوگی۔اس کے نتیجے میں نتھیاگلی اور ایبٹ آباد کی قربت کی وجہ سے مظفر آباد خیبرپختونخواہ میں ماضی کے قبائلی علاقوں کی طرح مدغم بھی ہوسکتا ہے۔
واقعہ سناکر میری رائے جاننے کی کوشش ہوئی۔میں نے دانشورانہ رعونت سے ڈرائیور کے بیان کردہ خدشات کا تمسخر اڑایا۔ مصررہا کہ آزادکشمیر کو ’’ریاست‘‘ کے بجائے ’’صوبہ‘‘ بناکر پاکستان عالمی برادری کے روبرو مودی سرکار کی جانب سے 5اگست 2019کے دن لئے اقدامات کی توثیق کرتا نظر آئے گا۔آزادکشمیر کا ’’ریاستی تشخص‘‘ لہٰذا ہر صورت برقرار رہے گا۔میزبانوں کے پاس میری رائے رد کرنے کے لئے کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں تھی۔محض ایک ڈرائیور کے بیان کردہ خدشات تھے۔
آج سے چند دن قبل لیکن مجھے کئی دوستوں کی جانب سے آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے ایک خطاب کی وڈیو بھیجی گئی۔انتخابی مہم کے لئے ہوئے ایک جلسے کے دوران وہ انتہائی جذباتی نظر آرہے تھے۔ ان کی جذباتی تقریر کے دوران نوجوان سامعین کا ایک گروہ تواتر سے ایک نعرہ بھی بلند کرتا رہا۔وہ نعرہ تھا :’’بچہ بچہ کٹ مرے گا-کشمیر صوبہ نہیں بنے گا‘‘۔ وہ وڈیو دیکھتے ہی میں نے میزبان خاتون کو فون کیا۔نہایت خلوص سے اعتراف کیا کہ ہنر ابلاغ کی طالب علم کا مشاہدہ قابل تعریف تھا۔ میں نے دانشورانہ رعونت سے مگر اس پر توجہ نہیں دی تھی۔
مذکورہ کلپ دیکھنے کے بعد ہی میں نے وہ کالم لکھا تھا جس کے ذریعے فکر مندی سے گلہ کیا کہ میرے کئی نوجوان ساتھی اپنی توانائی کو آزادکشمیر جاکر برسرزمین حقائق کے مشاہدے کے لئے استعمال نہیں کررہے۔ہم سب نے فرض کرلیا ہے کہ 25جولائی کے روز وہاں ہوئے انتخاب میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی کیونکہ آزادکشمیر کے ووٹر اسی جماعت کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وفاق میں بھی حکومت ہو۔ سیاسی عمل میں روایت کی اہمیت کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔بھرپور انتخابی مہم اگرچہ بسااوقات حیرتوں کے در بھی کھول دیتی ہے۔صحافیانہ تجسس تقاضہ کرتا ہے کہ ’’روایت‘‘ کی وجہ سے نمودار ہوئے ’’حقائق‘‘ کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔اقبال نے ویسے بھی کہہ رکھا ہے کہ زندگی میں ثبات فقط تغیر کو نصیب ہوتا ہے۔
بہرحال اخبارات کو بغور پڑھنے کی عادت ریٹائر ہوئے رپورٹر کو یہ دہرانے کو مجبور کررہی ہے کہ آزادکشمیر میں جاری انتخابی مہم کا پیشہ وارانہ نگاہ سے تازہ سوالات اٹھاتے ہوئے جائزہ نہیں لیا جارہا۔میرے چند دوست بلکہ برسرزمین جائے بغیر 25جولائی کے روز ہونے والے انتخابات کے ’’نتائج‘‘ کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ان کی دانست میں تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر اُبھرے گی۔ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) تیسرے نمبر پر رہے گی۔
چند ساتھیوں کی جانب سے آزادکشمیر کے 25جولائی کے روز ہونے والے انتخابات کے ’’نتائج‘‘ کی تصدیق یا تردید کے لئے میرے پاس کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے۔تاہم اگر وہ درست ثابت ہوئے تو سیاسی اعتبارسے ان کا سب سے زیادہ نقصان محترمہ مریم نواز صاحبہ کو ہوگا۔حال ہی میں پنجاب میں جو ضمنی انتخابات ہوئے تھے انہوں نے مریم صاحبہ کی Vote Pullingکشش کو بھرپورانداز میں اُجاگر کیا تھا۔یہ اثر ہمیں پرویز خٹک کے آبائی شہر یعنی نوشہرہ میں بھی نظر آیا۔ڈسکہ میں دوبار انتخاب کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں کاٹنے دار مقابلے کے بعد محترمہ نوشین افتخار کا انتخاب مذکورہ بالا تناظر میں اہم ترین رہا۔ آزادکشمیر میں مریم نوازصاحبہ کے بھرپور جلسوں کے باوجود اگر 26جولائی کی صبح نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت تیسرے نمبر پر نظر آئی تو ووٹروں کو متحرک کرنے کے حوالے سے مریم نوازصاحبہ کے امیج کو خاصہ دھچکا لگے گا جس کے اثرات مسلم لیگ (نون) کی اندرونی سیاست پر بھی تیزی سے اثرانداز شروع ہوجائیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائےقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker