تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاویدکا تجزیہ:’’صوبے دار‘‘ دلی دربار سے آزاد کشمیر

کمپیوٹر کی ایجاد سے قبل اخبار میں چھپنے والا مواد کاتب اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ ان کا لکھا پروف ریڈر انتہائی غور سے پڑھنے کے بعد ہی اس سیکشن کو بھیجتے جہاں پریس میں بالآخر چھپنے والی کاپی تیار ہوتی تھی۔مذکورہ کاپی کو چھپنے کے لئے پریس بھیجنے سے قبل آخری شفٹ کا انچارج اسے سرعت سے بغور پڑھتا۔دریں اثناء پریس سے وہ کاپی لے جانے والا بھی اس کے سرپردندنا رہا ہوتا۔ اخبار فروشوں تک اخبار کو بروقت پہنچانے کے لئے وہ لمحات ’’وقت کم اور مقابلہ سخت‘‘ جیسے اذیت ناک ہوتے تھے۔
اس دوران نیوز ایڈیٹر اگر کوئی فاش غلطی دیکھ لیتا تو اسے درست کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا اور و ہ یہ کہ جس خبر یا مضمون میں غلطی نظر آئی ہے اسے کاپی سے اکھاڑ کر کاتب کو واپس بھیجا جائے۔غلطی درست کرنے کے لئے مگر مزید وقت درکار ہوتا اور پریشان کن سوال یہ اُٹھ کھڑا ہوتا کہ غلطی درست کرتے ہوئے اخبار کو بروقت اخبارفروشوں تک پہنچایا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔ہمارے کئی جید نیوز ایڈیٹر فیصلے کی اس سخت گھڑی میں اپنے ہاتھ اٹھادیتے۔کاپی کو فاش غلطی سمیت پریس میں چھاپنے کے لئے بھجوادیتے۔ایسے موقعوں پر عموماََ یہ فقرہ بھی جی کو بہلانے کے لئے استعمال ہوتا کہ ’’چھپ کر ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔
معاملات کے ’’چھپ کر ٹھیک‘‘ ہوجانے کی امید ہمارے طاقت ور سیاست دانوں کو بھی لاحق ہوجاتی ہے۔ان دنوں عمران خان صاحب بھی اس امید سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہورہے ہیں۔آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کو منعقد ہوئے ایک ہفتہ گزرچکا ہے۔تحریک انصاف نے مذکورہ انتخاب میں واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔یہ بات ابھی تک مگر طے نہیں ہوپائی کہ آزادکشمیر کا وزیر اعظم کو ن ہوگا۔
25جولائی کے روز ہوئے انتخاب سے چند ماہ قبل تک رپورٹروں اور سیاسی مبصرین کی اکثریت انتہائی اعتماد سے یہ تصور کئے ہوئے تھی کہ میرپور کی طاقت ور جاٹ برادری کے دیرینہ اور تگڑے نمائندے بیرسٹرسلطان محمود تحریک انصاف کی کامیابی کی صورت آزادکشمیر کے وزیر اعظم ہوں گے۔ مئی کے آخری ہفتوں میں لیکن سردار تنویر الیاس نمودار ہوگئے۔وہ اسلام آباد کے سب سے نمایاں اور قیمتی رہائشی وکاروباری پلازے کے مالک ہیں۔مالی اعتبار سے انتہائی تگڑی سامی ہوتے ہوئے فیاض دل اور کھلے ہاتھ والے تصور ہوتے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے انہیں اپنا مشیر بھی بنارکھا ہے۔آزادکشمیر کے باغ سے ان کا آبائی تعلق نہیں وہ مگراس شہر سے صحافت سے نواز شریف کے جیالے ہوئے میرے بھائی مشتاق منہاس کو ہرانے انتخابی میدان میں اتر آئے۔ مشتاق منہاس کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے ان کی صورت میں ہوئے بندوبست نے یہ پیغام بھی دیا کہ بیرسٹرسلطان محمود کے بجائے وہ آزادکشمیر کے آئندہ وزیر اعظم ہوں گے۔
عمران خان صاحب کو مگر لوگوں کو چونکادینے کی عادت ہے۔2018کے انتخاب کے بعد پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کے لئے عثمان بزدار کا انتخاب ہر حوالے سے حیران کن تھا۔خیبرپختون خواہ بھی سوات سے ابھرے ایک نووارد محمود خان کے سپرد کردیا گیا۔عثمان بزدار اور محمود خان کا انتخاب یہ عندیہ دے رہاتھا کہ بطور وزیر اعظم عمران خان صاحب اپنی جماعت ہی سے ایسے طاقت ور ’’صوبے دار‘‘ ابھرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے جو مستقبل میں ان کے تگڑے حریف بھی ہوسکتے ہیں۔
ایک طاقت ور ’’صوبے دار‘‘ کی پیش بندی محض عمران خان صاحب ہی کا وطیرہ نہیں۔ہمارے اولیں وزیر اعظم لیاقت علی خان پنجاب کے دولتانہ اور مشرقی پاکستان کے حسین شہید سہروردی سے خائف رہتے تھے۔وہ سازشیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے تو پاکستان میں پہلا مارشل لاء بھی فقط پنجاب ہی میں لگا تھا جہاں ان دنوں کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین مذہبی جذبات پر ابھری ایک تحریک پر قابو پانے میں ناکام رہے۔مذکورہ تحریک کودولتانہ کی صوبائی حکومت نے وزیر اعظم کو کمزور کرنے کے لئے سازشی انداز میں بھڑکایا تھا۔
غلام مصطفیٰ کھر ذوالفقار علی بھٹو کے بہت چہیتے رہے۔ 1970کے بعد پنجاب کے لہٰذا گورنر ہوگئے۔’’پولیس بغاوت‘‘ پر انہوں نے عوام کی بھرپور حمایت سے قابو پایااور ’’شیر پنجاب‘‘ مشہور ہوگئے۔ اس ’’شیر‘‘ کو اس کی ’’اوقات ‘‘ میں رکھنے کے لئے بھٹو صاحب نے ملک معراج خالد اور حنیف رامے کی سرپرستی شروع کردی۔ ان تینوں کی ’’دم‘‘ ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ’’گم‘‘ ہوگئی تو ملتان کے قریشی خاندان کے ایک بڑے جاگیردار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔اس صوبے کے تمام تر معاملات بھٹو صاحب مرکزہی سے براہ راست چلاتے رہے۔ممتاز بھٹو بھی ان کے ’’ٹیلنٹڈ کزن‘‘ مشہور تھے۔ سندھی زبان کو ابتدائی تعلیم کے لئے لازمی بنانے والے قضیے نے انہیں مگر سندھی قوم پرستوں کی نگاہ میں ’’شیر‘‘ ثابت کیا۔بھٹو صاحب اس ’’شیر‘‘ کو بے اثر دکھانے کے لئے غلام مصطفیٰ جتوئی کو سندھ کا وزیر اعلیٰ بنانے کو مجبور ہوئے۔جتوئی صاحب کے اثرورسوخ سے بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو مگر خائف ہونا شروع ہوگئیں اور وہ دونوں 1986میں ایک دوسرے کے سیاسی حریف بن گئے۔
1990کی دہائی میں نواز شریف کے عروج کا اصل سبب بھی یہ حقیقت تھی کہ وہ 1985سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چلے آرہے تھے۔ جنرل ضیاء نے ان کی صورت ڈیروں اور دھڑے والے سیاستدانوں کا ایک صنعت کار متبادل دریافت کرلیا تھا۔اس ’’دریافت‘‘ نے نہایت مہارت سے بتدریج پنجاب کی شہری مڈل کلاس میں اپنا ووٹ بینک قائم کرنے کے بعد اسے توانا تر بنانا شروع کردیا۔اس ووٹ بینک کے بل بوتے پر ہی وہ ان ریاستی حلقوں سے ’’بغاوت‘‘ کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے مخصوص سیاسی ماحول میں حکومت سازی کے حوالے سے حتمی فیصلہ ساز شمار ہوتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے تجربات سے عمران خان صاحب نے کلیدی پیغام یہ اخذ کیا ہے کہ ’’صوبے داروں‘‘ کو مرکز میں ان کے متبادل کے طورپر ابھرنے کے امکانات سے محروم رکھا جائے۔تاریخی اعتبار سے اس فیصلے پر غور کریں تو یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مغلیہ دور میں بنگال کے مرشد علی خان ،اودھ کے نواب سعادت اور حیدر آباد کے آصف جاہ بھی کبھی صوبے دار ہوا کرتے تھے۔ اورنگزیب کی رحلت کے بعد دلی دربار کمزور ہونا شروع ہوا تو انہوں نے ان تینوں صوبوں میں ’’خودمختار‘‘ ریاستیں اور دربار قائم کرلئے۔’’صوبے داروں‘‘ کو ان کی اوقات میں رکھنے کی روایت ہمارے خطے میں لہٰذا بہت قدیم ہے۔
جمہوریت اور عوامی رائے کے احترام کے ڈرامے تو ہم بہت رچاتے ہیں۔جبلی اعتبار سے مگر ’’سلطانوں‘‘ کی نگاہ کرم کی محتاج قوم ہیں۔ہمارے ہاں جمہوری نظام واقعتا موجود ہوتا تو آزادکشمیر کا انتخاب مکمل ہوجانے کے بعد اسے جیتنے والی تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوتا اور وہ سنجیدہ بحث مباحثہ کے بعد اپنا وزیر اعظم ازخود ’’منتخب‘‘ کرتی۔اس ضمن میں حتمی فیصلہ سازی مگر عمران خان صاحب کے حوالے کردی گئی ہے۔و ہ ممکنہ وزیر اعظم کے چنائو کے لئے اپنے ذہن میں بنائی ترجیحی فہرست میں موجود افراد کے انٹرویو کررہے ہیں۔’’جمہوریت‘‘ کا یہ ’’ٹاپ ڈ اؤن‘‘ ماڈل مگر سلطانی کی علامت ہے جمہوریت کی نہیں۔ہم اگرچہ اس پہلو پر کبھی توجہ ہی نہیں دیں گے۔ ’’سلطانوں‘‘ کی جی حضوری ہماری سرشت میں شامل ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker