محبت !ہاں محبت یہ روگ جسے لگ جاۓ دیمک کی طرح چاٹ لیتاہے ۔کچھ کو محبت کے نام کی بھیک مل جاتی ۔اور کچھ خالی کشکول لیے در بدر بھٹکتے پھرتے۔
یک طرفہ محبت وہ عذاب ہے جو کسی کی روح کو لگ جاۓ تو زندگی تو پھر اک کھوکھلے وجود کے ساتھ سانس لیتی ۔روح تو فنا ہوجاتی ۔اک معمولی ہنسی بھی گونج بن جاتی کچھ سوجھتا ہی نہیں اندر باہر اک شور ویرانی ۔
بظاہر اس محبت کے اسیر پنچھی پرسکون نظر آتے ہیں ۔لیکن ان کے وجود کے اندر اک طوفان ہوتا جو اندر کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر خود ہی مدہم ہو جاتا ۔ایسے لوگ بہت قابلِ رحم ہوتے ہیں ۔نہ کھل کے جی سکتے اور نہ مر سکتے ۔
اک عجیب حالت خیال میں رہتے وہ بھی مجھے سوچتا ہو گا ۔پاگل یک طرفہ محبت میں کہاں دوسرے کو فرق پڑتا ۔پر میں نے دیکھا ہے ایسے لوگ بہت کھرے ہوتے ہیں محبت میں بنا مطلب یا صلے کے وہ عقیدت سے محبوب کو صرف چاہے جاتے ۔سلامتی اور خیر کی دعا دیے جاتے ۔آخر میں ان کی بے لوث محبت کو مذاق بنا دیا جاتا ہے ۔پھر یک طرفہ محبت کی دیمک ان کو بھر بھرا کر کے زمین میں ملا دیتی ہے ۔اور وہ بے نام ہی مٹی میں مٹی ہو جاتے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

