اہم خبریں

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کے لیے سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا قیام

ریاض :سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور تعلقات کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے ‘سعودی-پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل’ قائم کرنے کے معاہ
دے پر دستخط کیے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کی کابینہ دو روز پہلے ہی اس کونسل کے قیام کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کونسل کا مقصد دونوں ممالک کے دو طرفہ تعاون کو بہتر اور ہموار کرنا ہے تاکہ فروری سنہ 2019 کے سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے کے دوران جو سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے تھے ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر راساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، دونوں ملکوں کے نمائیندوں نے غیر قانونی منشیات، جدید نشہ آور ادویات اور ان کے کیمیائی عناصر کی سمگلنگ روکنے کے لیے ایک یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔ایک سعودی ویب سائیٹ العربیہ کے مطابق، ‘سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیاان توانائی کے شعبے، انفرسٹرکچر، ٹرنسپورٹ، پانی اور کمیونیکیشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ایک اور مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا تین روزہ دورہ جمعۃ الوادع کے دن سے شروع ہوا ہے جو نو مئی تک جاری رہے گا، جبکہ اِس دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اُسی روز شہزادے سے ملاقات کر چکے ہیں۔
سعودی عرب کے نجی شعبے کہ انگریزی اخبار عرب نیوز کے مطابق گزشتہ شب وزیر اعظم عمران خان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے وزیر اطلاعات اور وزیر تجارت اور دیگر حکام کے ہمراہ جدہ میں کیا تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی ملاقات کیسی رہی؟
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جن میں اقتصادی، امور، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات، توانائی، پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع، پاکستانیوں کی فلاح و بہبود جیسے معاملات شامل ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے اعلامیے جاری کیے گئے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہر شعبے میں مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اپنے اعلامیے میں اس کی تصدیق کی ہے۔
کشمیر کے پرامن حل پر زور
پاکستانی اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے قومی معاشی ترقی کے لیے پرامن ہمسائیگی سے متعلق بات کی۔ پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نےجموں اور کشمیر تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم نے خطے میں امن اور سیکورٹی کے فروغ کے لیے سعودی ولی عہد کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے افغانستان میں بھی امن اور مصالحت میں پاکستان کی مستقل کوششوں کا ذکر کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے شام اور لیبیا میں تنازعات کے سیاسی حل سے متعلق اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یمن کے تنازع پر بھی تفصیلات شامل ہیں اور سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرونز حملے کی مذمت بھی شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ولی عہد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
وزیر اعظم اور آرمی چیف بیک وقت سعودی عرب میں
پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ کا بیک وقت سعودی عرب کا دورہ کرنا خطے میں بدلتی ہوئی حالت میں زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا ہے، لیکن ماہرین کا خـیال ہے کہ سٹریٹیجک معاملات میں دونوں کی پالیسیوں میں شاید ہی تبدیلی آئے، البتہ دونوں اب اپنے تعلقات کو ‘ری سیٹ’ (دوبارہ سے ترتیب) دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔وزیرِ اعظم کے وفد میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بارے میں کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر کافی سخت باتیں کی تھیں۔ پھر قریشی نے متحدہ عرب امارات میں انڈیا کی اُس وقت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو بلائے جانے پر اسلامی ممالک کے وزاراءِ خارجہ کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔
اس کے بعد جب پاکستان نے ملائیشیا میں انڈونیشیا، ترکی، بنگلہ دیش اور ایران کی قیادت میں معقد ہونے والے اسلامی بلاک میں شرکت کا اشارہ دیا تھا تو سعودی عرب نے پاکستان سے سخت نارضی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم جلد ہی پاکستان نے کوالالمپور جانے کا اعلان کرنے کے بعد مبینہ طور پر سعودی دباؤ میں آکر فیصلہ تبدیل کرلیا تھا۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker