تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : پردہ سے ریپ اور خیرات سے بیمار معیشت کا علاج

وزیر اعظم عمران خان سماجیات اور معاشیات کے حوالے سے ایسی باتیں کرتے رہے ہیں جن کا حقائق، حکومت کی اتھارٹی و کارکردگی یا احساس ذمہ داری سے کوئی تعلق استوار نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ ویک اینڈ پر براہ راست سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے فحاشی کو ریپ کا سبب قرار دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ اسلام میں اسی لئے پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ عورتوں کو اپنی ’حفاظت‘ کے لئے پردہ کرنا چاہئے۔ ایک سربراہ حکومت کا یہ رویہ ہر سطح پر مسترد ہونا چاہئے۔
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ متعدد تنظیموں، مبصرین اور اخباری اداریوں میں وزیر اعظم کے اس غیر ذمہ دارانہ اور عاقبت نااندیشانہ بیان پر احتجاج کیا گیاہے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان نے تو وزیر اعظم سے اپنے طرز گفتگو اور سوچ کے انداز پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ عمران خان کا ماضی دیکھتے ہوئے اور ان کے ایسے بیانات کی روشنی میں کہ ’وہ بہت باخبر ہیں، انہیں سب پتہ ہے اور میں تو پہلے ہی کہتا تھا‘ طرز کے دعوؤں کو پرکھا جائے تو اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وزیر اعظم اس حساس موضوع پر اپنی سطحی، بے بنیاد اور گمراہ کن بات چیت پر کوئی شرمندگی محسوس کریں گے۔ شرمندگی اور معذرت کا تعلق غلطی ماننے کی صلاحیت سے ہوتا ہے۔ بار بار اپنے فیصلے تبدیل کرنے کی وجہ سے ’مسٹر یو ٹرن‘ کا خطاب پانے کے باوجود، عمران خان کبھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ بھی غلط سوچ یا سمجھ سکتے ہیں۔
عمران خان بنیادی طور سے مقبول عام بیان دینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ارادی یا غیر ارادی طور پر وہ سنگین اور مشکل مسائل کو سمجھ کر ان کا مناسب حل تلاش کرنے کی بجائے، ان کا سادہ اور عام فہم ’حل‘ بیان کرتے ہیں بلکہ کسی حد تک اس پر عمل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی سوچ، طریقہ اور کام کرنے کا انداز بالکل درست ہے ۔ انہیں کسی رائے، مشورہ یا تعاون کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب ان کی کسی بات یا طرز عمل پر شدید رد عمل سامنے آتا ہے تو اسے کسی نہ کسی طرح سابقہ حکمرانوں، ان کی نام نہاد لوٹ مار اور غلط کاریوں کےساتھ ملا کر ، وہ یہ بتاتے ہوئے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے کہ مسائل موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ ان کی اصل ذمہ داری مالی طور سے بدعنوان اور اخلاقی طور سے قلاش سابقہ حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اور اب وہ ان سے ’این آر او‘ لینے کے لئے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن ’عمران خان بلیک میل نہیں ہوگا‘۔
اس طرز عمل سے صرف امور حکومت ہی تعطل اور نقص کا شکار نہیں ہورہے بلکہ سماج میں منفی اور انتہاپسندانہ مزاج فروغ پانے لگا ہے ۔ وقت کے ساتھ ملک کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ پاکستان کے عوام کو اس حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان سمیت ملک کے سارے سیاسی و عسکری لیڈر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی جانی و مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی ان قربانیوں کو اہم سمجھتی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہتی ہے تو اسے عمران خان کی سربراہی میں گمراہ کن مذہبی تفہیم اور اشتعال انگیز سماجی مزاج کو عام کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ملک میں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والے لاتعداد بچوں، کم سن لڑکیوں اور خواتین کی حفاظت کے علاوہ ملک کو شدت پسندانہ جنونی رویہ سے بچانے کے لئے ایسی سوچ کو ختم کرنا ہوگا جو سماجی مسائل کا حل کوتاہ نظری پر مبنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تلاش کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ بدقسمتی سے ملک کا وزیر اعظم اس سوچ کا سب سے طاقت ور نمائیندہ بنا ہؤا ہے۔
پاکستان جس دہشت گردی کے گرداب میں ابھی تک پھنسا ہؤا ہے اور جس کی وجہ سے اس نے اقوام عالم میں وقار، ملکی معیشت پر اعتبار کھویا ہے اور سماجی سوچ کو بیمار کیا ہے، اس کی بنیاد بھی سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں مذہبی انتہا پسندی کا وائرس پھیلاکر ہی رکھی گئی تھی۔ افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف نام نہاد ’جہاد‘ کے نام پر ملک کے مذہبی عناصر کی حوصلہ افزائی کی گئی، نوجوانوں کو دہشت گردی پر آمادہ کرنے کے لئے باقاعدہ مراکز تیار کئے گئے اور مدرسوں کے علاوہ اسکولوں و یونیورسٹیوں کے نصاب کو جہادی مزاج کی ترویج کے نقطہ نظر سے تیار کیا گیا۔ امریکہ پر کمیونزم کو شکست دینے کا جنون سوار تھا اور ضیا الحق کی فوجی حکومت کو امریکی ڈالروں کی ضرورت تھی۔ ایسے میں یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ جب مذہب کے نام پر ناحق خوں ریزی کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تو اس عفریت کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ پہلی افغان جنگ کے بعد امریکہ تو اپنا بوریا بستر لپیٹ کر علاقے سے روانہ ہوگیا لیکن اس کی بھاری قیمت پاکستان اور افغانستان کے بے گناہ عوام کو ادا کرنا پڑی۔ کسی حد تک افغان جہاد کے بطن سے پیدا ہونے والی مذہبی جنونیت اور دہشت گردی سے ابھی تک نجات حاصل نہیں کی جاسکی۔
عسکری قیادت اور حکومت نے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی علامات ختم کرنے اور ان کے لیڈروں کو جیلوں میں بھیجنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی ہے لیکن اس کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کا اعتبار بحال نہیں ہوسکا۔ دنیا بھر میں طویل عرصہ تک جب بھی کسی دہشت گرد فرد یا گروہ کا سراغ ملتا تھا تو اس کا سرا کسی نہ کسی طرح پاکستا ن کے قبائیلی علاقوں میں کسی مدرسے یا تربیتی مرکز سے جا ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسا دشمن ملک دہشت گردی کو بدستور پاکستان کے خلاف سب سے مؤثر سفارتی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ پاکستانی حکومت خود فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے عالمی فورمز کو مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کررہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سرپرست یا سہولت کار نہیں ہے بلکہ اس نے تو اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات سمیٹے ہیں ۔ وہ تو دہشت گردی کے خلاف ’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘ ہے۔ بوجوہ پاکستان اپنا یہ مؤقف تسلیم کروانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ عمران خان جیسے لیڈر مقبول بیانیہ تشکیل دینے کی دوڑ میں ایسا سماج بنانے کا سبب بن رہے ہیں جو مذہب کو دلیل بنا کر ہر قسم کے جرم کو ’درست ‘ ثابت کرنے لگتا ہے۔
وزیر اعظم سے براہ راست جواب دینے کے سیشن میں ایک کالر نے سوال کیا تھا:’حکومت ریپ اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لئے کیا کررہی ہے اور کیا وزیر اعظم ان اقدامات سے مطمئن ہیں۔ دوسرے یہ کہ حکومت مدینہ ریاست کے قیام کا دعویٰ کرنے کے باوجود ریپ کے مجرموں کو سر عام پھانسی کا اعلان کیوں نہیں کرتی‘۔ عمران خان نے ان سوالوں کا براہ راست جواب دینے اور اپنی حکومت کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنے کی بجائے اخلاقیات پر لیکچر دے کر یہ مسئلہ حل کرنے کا ’مشورہ‘ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کرپشن کا خاتمہ سب کو مل کر کرنا ہوگا ، اسی طرح معاشرے سے ریپ جیسے جرائم ختم کرنے کے لئے پورے معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے ہالی وڈ اور بالی وڈ کی پھیلائی ہوئی فحاشی کو جنسی جرائم کا سبب بتایا ۔ پھر اسلام میں پردہ کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرما یا کہ ’ پردے کا مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے میں جنسی جرم کی حوصلہ شکنی ہو۔ کیوں کہ سب میں قوت ارادی نہیں ہوتی‘۔ اس ’وضاحت یا تاکید‘ کا ایک ہی مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پردہ ہی ریپ کا علاج ہے ۔ اسے اختیار کئے بغیر کوئی قانون معاشرے سے ایسے لوگوں کا خاتمہ نہیں کرسکتا جو جنسی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔
خواتین کے علاوہ ریپ جیسے جرائم کا شکار بننے والے کم سن بچوں کو کسی جرم کی حوصلہ افزائی کا سبب قرار دے کر وزیر اعظم نے دراصل ملک کے مذہبی عناصر کو ایک طاقت ور ہتھیار فراہم کیا ہے۔ اسلام آباد کے مولوی عبدالعزیز جیسے مذہبی پیشوا تو پہلے ہی جنسی جرائم کی ساری ذمہ داری خواتین پر ڈال کر معاشرے کو ایک قید خانہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح ان مذہبی عناصر کو طاقت ملتی ہے اور وہ سماج کو اپنے انتہا پسندانہ نظریات کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ عمران خان ان فرسودہ و دقیانوسی دلائل کے ذریعے ایک طرف سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے ’وکیل‘ بن کر سامنے آئے ہیں تو دوسری طرف اس ناقص دلیل کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے از سر نو فروغ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ حالانکہ تین دہائی تک جہادی کلچر، خوں ریزی اور مذہبی شدت پسندی کا سماجی، سیاسی، سفارتی اور معاشی خمیازہ بھگتنے کے بعد ، اب پاکستان کو اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
جرم کے لئے حجت کا طرزعمل کسی سربراہ حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ صرف ایسا لیڈر ہی اس قسم کا رویہ اختیار کرتا ہے جو ذمہ داری قبول کرنے سے بھاگتا ہو اور سستی شہرت کے لئے معاشرے کو کسی بھی پسپائی میں دھکیلنے پر تیار ہو۔ ایسا لیڈر ملک سنوارنے یا اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لائق نہیں ہوتا۔ اس تباہ کن مزاج کو پہچاننےاور اسے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان صرف سنگین سماجی علت کے بارے میں ہی سطحی اور قابل مذمت سوچ کا اظہار نہیں کرتے۔ ملک میں معاشی مسائل حل کرنے اور بھوکے کو روٹی دینے کے حوالے سے وہ ’اصلاح‘ کے جس ایجنڈے کا پرچار کرتے ہیں، وہ بھی کسی حکومت کی بجائے کسی فلاحی ادارے کا منشور لگتا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت خیرات کے مختلف منصوبوں کو عمران خان معاشی اصلاح قرار دیتے ہیں اور اسے اپنی حکومت کی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حکومت کو پہلے روزگار اور قومی پیداوار میں اضافہ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر جو لوگ سماجی طور سے کمزور ہوں ، ان کی امدا کا بند و بست کیا جاتاہے۔
عمران خان جیسے پردے کے ذریعے ریپ ختم کرنا چاہتے ہیں ، اسی طرح خیرات کے ذریعے معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس کم نگہی پر کف افسوس ملنے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker