رضی الدین رضی مجھ سے عمر میں بہت چھوٹا ہے مگر اپنی محنت، استقامت اور طنازی یا طراری میں بہت آگے ۔اپنے جڑواں / مثنی شاکر حسین شاکر اور کچھ احباب کے ساتھ مل کر اس نے گردوپیش کو ایک ویب سائٹ ہی نہیں اشاعتی ادارہ بنا دیا ہے اور ہم جیسے اسی کی سخاوت سے اس جیسے اچھے اہل قلم کی تحریروں سے واقف ہوتے رہتے ہیں ۔
کچھ باتیں یا کمزوریاں ایسی ہیں جو اس میں اور مجھ میں مشترک ہیں اس نے ہوتل بابا کے قلمی نام سے لکھ کے تب کھلبلی مچا دی تھی جب سول لائنز کالج میں مبارک مجوکہ، انور جمال ، محمد امین ، حسین سحر صبح صبح ملتان کے اصلی یا قلمی ناموں سے چھپنے والے کالموں پر قیاس آرائی کرتے یہ قیاس آرائی ایمرسن کالج کی لائبریری کے سامنے خالد سعید اور کچھ دوستوں کے مبالغے سے رنگ آمیز ہوتی پھر ریڈیو سٹیشن پر پہنچتی وہاں دل چسپ خبروں اور ” حکایتوں ” کو جنم دیتی پھر ایاز صدیقی صاحب کی بیٹھک میں پہنچتی ، بابا ہوٹل ، خان کیفے ٹیریا اور تاج ہوٹل کی میزوں پر چہکتی اور پھر اگلے روز یونیورسٹی پہنچتی جہاں قاضی عابد ، عامر سہیل ، سجاد نعیم ،حماد رسول ، محمد آصف اور کبھی کبھار عقیلہ جاوید بھی انہیں دل چسپ سرگوشیاں بنا دیتے مگر اے بی اشرف، نجیب جمال اور اصغر ندیم سید کے تبصرے انہیں افسانہ بنا دیتے مگر شہر میں کسوٹی کے دو ہی سینئر دیوانے تھے جابر علی سید اور فاروق عثمان جو شخصیات کو بوجھتے بجھتے ان قلمی ناموں کے پیچھے ” کون "؟ پر طبع آزمائی کرتے ۔
ارشد ملتانی ایک جان دار قہقہہ لگاتے اور اصغر علی شاہ قینچی والے سگریٹ کا ایک معنی خیز کش لگاتے اور پھر احمد خان درانی اپنی مخصوص ہنسی کے ساتھ عرش صدیقی صاحب کو کہتے یہ انوار کا دھندا ہے یا اس کے کسی شاگرد یا پسندیدہ باغی یا گستاخ کی حرکت !
رضی الدین رضی کے کالموں میں یہ کہانیاں پڑھ کے متواتر ایسا محسوس ہوتا رہا کہ ہم اور ملتان جس تہذیبی دنیا کو رفتہ رفتہ گنوا رہا ہے وہ رضی نے معصومانہ انداز میں پیش کر دی ہے ۔ ہمارے پیارے صفدر عباس اور شاہد راحیل کے بر عکس وہ سٹیج ڈراموں کی طرف نہیں گیا مگر آج کے بڑے صحافیوں ظفر اہیر ، عارف معین بلے ، شکیل اور جمشید کی اٹھان بھی سامنے آتی ہے ۔ پیر سپاہی ،شمس کو بوٹی بھوننے کے لئے سورج کو ملتانیوں کے لئے نیچے اتارنے اور دھپ سڑی کا وجود میں آنا پھر اس کا سورج میانی بن جانا پھر شیعہ میانی بن کر شاہ گردیز سے الگ تھلگ ایک جزیرہ بن جانا ربیع الاول کو بارہ وفات کیوں کہتے تھے شیر افضل جعفری کی وہ نظم جو اس نے عظیم پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام ملنے پر لکھی جس میں اسے جھنگ کا اوپرا فرزند کہنا اور یہ کہنا
یہ شخص کیمیا کا ہے ابدال خوش خیال
فزکس کی فرات کا صادق نہنگ ہے
اور پھر رضی کا یہ اعتراف کرنا کہ یہ اسے نوازش ندیم نے تحفہ بھیجا اور اس کی تلمیحات کو کھولا ۔۔
یہی نہیں یوسف مستی کے انٹر ویو سے قسور گردیزی جیسے نظریاتی اور اصول پسند پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا تشدد اور ان کے بیٹے اور فکری جانشین زاہد گردیزی پر بھی لکھا یہی نہیں خالد مسعود اور زاہد سلیم گوندل کی طرف سے ملتان والوں کو ملتان ٹی ہاوس اور آڈیٹوریم کے تحفے کا احوال لکھا ہے اور سب سے بڑھ کر روزنامہ نیادن سے وابستگی کے زمانے کی سرگرمی کو بہت دل چسپ انداز میں پیش کیا ہے میرے پاس اس کتاب کے کئی صفحات اور فقرے ہیں جو میں پیش کر سکتا ہوں مگر میری انگلیاں تھک گئی ہیں اب آپ ہمت کریں 600 روپے میں یہ کتاب منگائیں اور اپنے ذوق کی تسکین کریں
کچھ باتیں یا کمزوریاں ایسی ہیں جو اس میں اور مجھ میں مشترک ہیں اس نے ہوتل بابا کے قلمی نام سے لکھ کے تب کھلبلی مچا دی تھی جب سول لائنز کالج میں مبارک مجوکہ، انور جمال ، محمد امین ، حسین سحر صبح صبح ملتان کے اصلی یا قلمی ناموں سے چھپنے والے کالموں پر قیاس آرائی کرتے یہ قیاس آرائی ایمرسن کالج کی لائبریری کے سامنے خالد سعید اور کچھ دوستوں کے مبالغے سے رنگ آمیز ہوتی پھر ریڈیو سٹیشن پر پہنچتی وہاں دل چسپ خبروں اور ” حکایتوں ” کو جنم دیتی پھر ایاز صدیقی صاحب کی بیٹھک میں پہنچتی ، بابا ہوٹل ، خان کیفے ٹیریا اور تاج ہوٹل کی میزوں پر چہکتی اور پھر اگلے روز یونیورسٹی پہنچتی جہاں قاضی عابد ، عامر سہیل ، سجاد نعیم ،حماد رسول ، محمد آصف اور کبھی کبھار عقیلہ جاوید بھی انہیں دل چسپ سرگوشیاں بنا دیتے مگر اے بی اشرف، نجیب جمال اور اصغر ندیم سید کے تبصرے انہیں افسانہ بنا دیتے مگر شہر میں کسوٹی کے دو ہی سینئر دیوانے تھے جابر علی سید اور فاروق عثمان جو شخصیات کو بوجھتے بجھتے ان قلمی ناموں کے پیچھے ” کون "؟ پر طبع آزمائی کرتے ۔
ارشد ملتانی ایک جان دار قہقہہ لگاتے اور اصغر علی شاہ قینچی والے سگریٹ کا ایک معنی خیز کش لگاتے اور پھر احمد خان درانی اپنی مخصوص ہنسی کے ساتھ عرش صدیقی صاحب کو کہتے یہ انوار کا دھندا ہے یا اس کے کسی شاگرد یا پسندیدہ باغی یا گستاخ کی حرکت !
رضی الدین رضی کے کالموں میں یہ کہانیاں پڑھ کے متواتر ایسا محسوس ہوتا رہا کہ ہم اور ملتان جس تہذیبی دنیا کو رفتہ رفتہ گنوا رہا ہے وہ رضی نے معصومانہ انداز میں پیش کر دی ہے ۔ ہمارے پیارے صفدر عباس اور شاہد راحیل کے بر عکس وہ سٹیج ڈراموں کی طرف نہیں گیا مگر آج کے بڑے صحافیوں ظفر اہیر ، عارف معین بلے ، شکیل اور جمشید کی اٹھان بھی سامنے آتی ہے ۔ پیر سپاہی ،شمس کو بوٹی بھوننے کے لئے سورج کو ملتانیوں کے لئے نیچے اتارنے اور دھپ سڑی کا وجود میں آنا پھر اس کا سورج میانی بن جانا پھر شیعہ میانی بن کر شاہ گردیز سے الگ تھلگ ایک جزیرہ بن جانا ربیع الاول کو بارہ وفات کیوں کہتے تھے شیر افضل جعفری کی وہ نظم جو اس نے عظیم پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام ملنے پر لکھی جس میں اسے جھنگ کا اوپرا فرزند کہنا اور یہ کہنا
یہ شخص کیمیا کا ہے ابدال خوش خیال
فزکس کی فرات کا صادق نہنگ ہے
اور پھر رضی کا یہ اعتراف کرنا کہ یہ اسے نوازش ندیم نے تحفہ بھیجا اور اس کی تلمیحات کو کھولا ۔۔
یہی نہیں یوسف مستی کے انٹر ویو سے قسور گردیزی جیسے نظریاتی اور اصول پسند پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا تشدد اور ان کے بیٹے اور فکری جانشین زاہد گردیزی پر بھی لکھا یہی نہیں خالد مسعود اور زاہد سلیم گوندل کی طرف سے ملتان والوں کو ملتان ٹی ہاوس اور آڈیٹوریم کے تحفے کا احوال لکھا ہے اور سب سے بڑھ کر روزنامہ نیادن سے وابستگی کے زمانے کی سرگرمی کو بہت دل چسپ انداز میں پیش کیا ہے میرے پاس اس کتاب کے کئی صفحات اور فقرے ہیں جو میں پیش کر سکتا ہوں مگر میری انگلیاں تھک گئی ہیں اب آپ ہمت کریں 600 روپے میں یہ کتاب منگائیں اور اپنے ذوق کی تسکین کریں
فیس بک کمینٹ

