کالمکھیل

انڈیا کی باسکٹ بال ٹیم کی کھلاڑی کی خودکشی کا معمہ: ’میں چاہتی ہوں کہ تم کچھ یادیں بنانے کے لیے واپس آؤ‘

‘تم پہلے جیسی نہیں رہیں، تم کتنی بدل گئی ہو، تم کتنا ہنستی اور باتیں کرتی تھیں، جب تم کسی سے ملتیں تو اس سے بات کر کے خوش ہوتی تھیں، تمھیں معلوم ہے کہ میں اس ’پرانی تم‘ سے کتنا پیار کرتی ہوں۔۔۔‘
’لیکن آج تم نے خود کو سمیٹ لیا ہے۔ تم نے بولنا بند کر دیا ہے جیسے تم نے خود کو کہیں کھو دیا ہو۔ تم واپس آؤ گی۔ میں چاہتی ہوں کہ تم کچھ یادیں بنانے کے لیے واپس آؤ۔‘
یہ لیتھارا کےسی کا ملیالم زبان میں لکھا گیا آخری خط ہے۔
23 سالہ لیتھارا کےسی نے 26 اپریل کو انڈیا کے شہر پٹنہ میں واقع اپنے کرائے کے کمرے میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔
اس کے بعد کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجیین نے 28 اپریل کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو خط لکھ کر اس کیس کی منصفانہ تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔
معاملہ کیا ہے؟
لیتھارا انڈین باسکٹ بال کھلاڑی تھیں۔ وہ کیرالہ کی اس ٹیم کی رکن تھیں جس نے سنہ 2018 میں قومی سطح پر باسکٹ بال فیڈریشن کپ جیتا تھا۔
انھیں سپورٹس کے کوٹہ پر انڈین ریلوے میں نوکری ملی تھی۔ لیتھارا 15 نومبر 2019 سے ایسٹ سینٹرل ریلوے میں جونیئر کلرک کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
26 اپریل کو لیتھارا شام چھ بجے کے قریب اپنے گھر واپس آئیں اور خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا۔ کیرالہ میں رہنے والے ان کے والدین نے رات کو ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔
اس کے بعد پریشان ہو کر انھوں نے لیتھارا کے کرائے کے مکان کے قریب رہنے والے ایک دوست سے رابطہ کیا۔ لیکن لیتھارا نے اپنے کسی جاننے والے کا فون تک نہیں اٹھایا۔
اس کے بعد معلوم ہوا کہ لیتھارا نے خودکشی کر لی ہے۔
لیتھارا کے گھر والوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی جس کے بعد لیتھارا کے ماموں راجیون اور ان کے ایک پڑوسی نشانت پٹنہ آئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لیتھارا کی میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔
لیتھارا کےسی کون ہیں؟
لیتھارا کے والد کرونان کےسی کوزیکوڈ میں رہتے ہیں اور اجرت پر روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ ان کی بیوی یعنی لیتھارا کی والدہ کینسر کی مریضہ ہیں۔
اس جوڑے کے تین بچے ہیں جن میں سے دو لڑکیاں یعنی لیتھارا کی دو بہنیں شادی شدہ ہیں۔ لیتھارا سب سے چھوٹی تھیں اور اپنے والدین کی اکلوتی مالی معاونت کرنے والی بھی تھیں۔
ان کے پڑوسی نشانتھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’لیتھارا کا خاندان مالی طور پر بہت کمزور پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ چونکہ وہ سرکاری ملازمت میں تھیں، اس لیے خاندان کے لیے وہ واحد امید تھی۔ اس نے شاید چند لاکھ روپے کا قرض بھی لیا تھا۔ چند دن پہلے 11 اپریل کو ہی وہ گھر آئی تھیں اور تین دن کے بعد پٹنہ میں کام پر واپس چلی گئیں۔ وہ ایک خوش مزاج لڑکی تھی۔‘
کوچ روی سنگھ پر الزامات
نشانتھ کا کہنا ہے کہ لیتھارا نے کئی بار اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ کوچ روی سنگھ ان کو مسلسل ہراساں کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم نے ان کھلاڑیوں سے بھی بات کی جنھوں نے ان کے ساتھ وی ایس کھیلا تو انھوں نے بتایا کہ لیتھارا کوچ کی وجہ سے پریشان تھیں۔‘
لیتھارا کے ماموں راجیون نے پٹنہ کے راجیو نگر پولیس سٹیشن میں 27 اپریل کو درج کرائی گئی نامزد ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ’لیتھارا نے مجھے پہلے فون پر بتایا تھا کہ میرا باسکٹ بال کوچ جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کر رہا ہے، وہ مجھ پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے۔ وہ اثر و رسوخ والا شخص ہے، میں اس کے خلاف شکایت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ مجھے (راجیون) کو پورا یقین ہے کہ لیتھارا نے اپنے کوچ روی سنگھ کے ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کی وجہ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی ہے۔‘
بی بی سی ہندی نے اس سلسلے میں کوچ روی سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کے اہلخانہ نے بتایا کہ ’وہ ابھی شادی میں گئے ہیں۔‘
تاہم لیتھارا کی خودکشی کے بعد مقامی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’کچھ لڑکے، لڑکیاں کھیلنے کے لیے میدان میں آتی ہی نہیں تھیں۔ اس بابت میں نے 19 اپریل کو ہی اپنے سینیئر حکام سے تحریری طور پر شکایت کی تھی، اگر انھیں کسی قسم کی شکایت تھی تو خاتون کھلاڑی کو چاہیے تھا کہ وہ سینیئر حکام سے اس کی شکایت کرتیں، لیکن میرے خلاف ایسی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔‘
راجیو نگر پولیس سٹیشن کے انچارج نیرج کمار سنگھ نے کہا: ’اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے، کوچ کو پوچھ گچھ کے لیے دو بار بلایا گیا ہے۔‘
اس معاملے میں ایسٹ سینٹرل ریلوے کے حاجی پور ہیڈکوارٹر کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر وریندر کمار نے کہا: ’یہ معاملہ پولیس کی جانچ میں ہے، تحقیقات کے نتائج کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ فی الحال روی سنگھ کو کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘
اس سوال پر کہ کیا لیتھارا کےسی نے کبھی کسی قسم کی ہراسانی کی شکایت کی ہے، وریندر کمار کا کہنا ہے کہ ’میں ایسا کچھ نہیں جانتا۔‘
زبان کا مسئلہ
ویسے لیتھارا بہار میں مختلف زبان کی وجہ سے لسانی مسئلے سے بھی نبرد آزما تھیں جس کی تصدیق ان کے خاندان کے افراد اور ان کے ساتھی کارکنان نے کی ہے۔
نشانتھ کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اپنے والدین کو بتایا تھا کہ وہ بہت پریشانی محسوس کرتی ہیں کیونکہ وہ ہندی نہیں جانتی ہیں۔‘
سنہ 1965 میں پدم شری سدھا ورگیس بھی 16 سال کی عمر میں کیرالہ سے بہار آئی تھیں۔ وہ اب پورے بہار میں ’سائیکل والی دیدی‘ کے نام سے مشہور ہیں لیکن ایک وقت میں وہ بھی اس لسانی مشکلات سے لڑ چکی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں: ’جب آپ نہیں جانتے کہ دوسرا شخص کیا کہہ رہا ہے اور آپ جو کہنا چاہتے ہیں اس کا اظہار کیسے کریں؟ تب آپ عجیب سی پریشانی میں پڑ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ لڑکی بھی اپنا مسئلہ کسی کو نہیں بتا سکی۔ کوئی ایسا نہیں تھا جو سمجھ سکے۔ جب میں بھی آئی تھی تو سب سے پہلے میرے والد نے کہا کہ آپ کو ہندی تو نہیں آتی لیکن میں جانتی تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔‘
گذشتہ آٹھ مارچ کو ایسٹ سینٹرل ریلوے کے حاجی پور ہیڈ کوارٹر میں کھیلوں کے میدان میں نام روشن کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازا گیا جن میں لیتھارا بھی شامل تھیں۔
کیرالہ کے وزیر اعلی پنّارائی وجین کی طرف سے وزیر اعلی نتیش کمار کو 28 اپریل کو لکھے گئے خط میں لکھا گیا ہے کہ ’خاندان کا ماننا ہے کہ ایسے حالات نہیں تھے جو لیتھارا کی خودکشی کا باعث بن سکتے تھے۔ اس لیے اہلخانہ کی جانب سے ان کی بے وقت موت کی تحقیقات کی درخواست کی گئی ہے۔‘
لیتھارا کا خاندان اب صرف اپنی بیٹی کے لیے ’انصاف‘ چاہتا ہے۔ لیکن بہار کے وزیر کھیل ابھی تک اس واقعہ سے لاعلم ہیں۔
بی بی سی ہندی سے بات چیت میں وزیر کھیل آلوک رنجن جھا کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔ چونکہ متاثرہ خاتون کسی دوسری ریاست کی کھلاڑی تھیں اور مرکزی حکومت کی ملازمت میں تھیں، اس لیے یہ میرے علم میں نہیں ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker