ادبرضی الدین رضیلکھاری

ادبی بیٹھک کا احوال ، 2011 اور2012۔۔محنت کے سال ۔۔ زیر طبع کتاب ” سخن ورانِ ملتان ( 2 ) “ کا پیش لفظ ۔۔ رضی الدین رضی

سال 2010ء کو ہم نے ادبی بیٹھک کے حوالے سے محبت کا سال قراردیا تھا اور اس کی تفصیل ہم نے گزشتہ برس اپنے ایک مضمون میں بیان کی تھی۔ محبت کی خوبی یہ ہے کہ اس میں شکوے بہت زیادہ ہوتے ہیں،شکایتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور توقعات بھی وابستہ کرلی جاتی ہیں۔توقعات وابستہ کرلی جائیں تو پھرشکایتیں بھی جنم لینا شروع ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ محبت کا حسن یہ ہے کہ یہ غیرمشروط ہوتی ہے اور توقعات سے بھی بالاتر ہو تی ہے کہ توقعات وابستہ نہ کرنا ہی محبت کا حسن ہے لیکن اس کے باوجود انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ پھربھی توقعات وابستہ کرلیتا ہے۔توقعات کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اصل موضوع کی جانب آتے ہیں۔
گزشتہ برس سخن وران ملتان کے نام سے ادبی بیٹھک کے پہلے سال کے احوال پر مبنی کتاب کے پیش لفظ میں ہم نے وعدہ کیاتھا کہ بیٹھک کے شرکاء کا تعارف آنے والے برسوں میں بھی کتابی صورت میں محفوظ کرتے رہیں گے۔پہلے ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہرسال ایک سال کا احوال محفوظ کیا جائے لیکن بعدازاں خیال آیا کہ اس طرح اس تاریخ کو محفوظ کرنے کا کام دس برس پر محیط ہوجائے گا۔سو اب ہم سخن ورانِ ملتان کی دوسری جلد میں 2011اور 2012 کا احوال محفوظ کررہے ہیں تاکہ یہ کام جلد مکمل ہوسکے۔پہلی کتاب کی طرح اس کتاب میں بھی اجلاسوں کے موضوعات اور تمام شرکاء کے نام شامل کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ 30شخصیات کا تعارف بھی کتاب میں شامل ہے۔ کتاب کے آخر میں ان 50شخصیات کی فہرست بھی شائع کی جارہی ہے جن کے تعارف پہلی کتاب میں شامل تھے۔اس طرح ان دو کتابوں میں ادبی بیٹھک کے 12برس اور 80شخصیات کاتعارف محفوظ ہوگیا۔ ان 12برسوں کے دوران سینکڑوں شخصیات بیٹھک میں تشریف لائیں۔بہت سی اہم شخصیات اب بھی ایسی ہیں جن کا تعارف اس ایڈیشن میں بھی شامل نہیں کیا جاسکا۔تاہم آنے والے برسوں میں کوشش ہوگی کہ جلد ازجلد زیادہ سے زیادہ شخصیات کی زندگیوں کو سخن وران ملتان کی اگلی جلدوں میں محفوظ کردیا جائے۔
سال2011 ء کاآغازریذیڈنٹ ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل محمد علی واسطی کے اعزاز میں تقریب سے ہوا تھا۔واسطی صاحب نے 2010ء میں ادبی بیٹھک کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیاتھااور وہ اس خواب کو تعبیر دینے میں ہمارے مددگارثابت ہوئے تھے۔جنوری میں ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں ادبی بیٹھک میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی تو اس میں عمرفاروق جوئیہ نے نئے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کے طورپر شرکت کی۔ تقریب کی صدارت نامور براڈکاسٹر خورشید ملک نے کی جبکہ محمد علی واسطی کے علاوہ آصف خان کھتیران اورعمرفاروق جوئیہ نے مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی۔.3فروری کو ایک اور خوبصورت تقریب زوارحسین ادبی ایوارڈ کی تقسیم کے حوالے سے تھی۔ نامور مصور،شاعر اوردانشور زوار حسین کی برسی کے موقع پر یہ ایوارڈ ان کے بھائی خاکسارحسین اور بھاوج شگفتہ خاکسار نے جاری کیا تھا۔ اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر اسلم انصاری نے کی اورپہلا ایوارڈ نامور شاعر ڈاکٹر عاصی کرنالی اوران کی اہلیہ ثمربانو ہاشمی کو دیاگیا۔یہ ادبی بیٹھک کی بھرپورتقریبات میں سے ایک تقریب تھی اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ عاصی کرنالی ادبی بیٹھک کی آخری تقریب میں شرکت کررہے ہیں۔پھر 27فروری 2011ء کو اسی آرٹس کونسل میں ڈاکٹر عاصی کرنالی کی یاد میں ملتان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ملتان کی 25سے زیادہ تنظیموں کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس محفل کی مجلس صدارت میں لطیف الزماں خان، پروفیسر اصغر علی شاہ، ڈاکٹر اسد اریب،پروفیسر اسلم انصاری،پروفیسرحسین سحراور اقبال ارشد شامل تھے۔ یہ تقریب ملتان آرٹس کونسل کے مرکزی ہال میں منعقد ہوئی۔بلاشبہ یہ ملتان کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی تعزیتی تقریب تھی۔ادبی بیٹھک کی پہلی سالگرہ 10فروری 2011ء کو منائی گئی اور اس سالگرہ میں یہ روایت قائم کی گئی تھی کہ بیٹھک کے سب سے کم عمر نوجوان سے سالگرہ کا کیک کٹوایا جائے۔سب سے کم عمرنوجوان ارشد عباس ذکی تھے جنہوں نے اسی بیٹھک سے اپنے ادبی سفر کا آٰغاز کیاتھا۔ کیک کاٹنے کی تقریب میں بیٹھک کے تمام عہدیداروں کے علاوہ رشید ارشد سلیمی، راشد نثار جعفری، مسیح اللہ جامپوری، منیر ابن رزمی، مسعودکاظمی، بربط تونسوی بھی شریک تھے۔ارشد عباس ذکی کا کیک کاٹنا ادبی بیٹھک کے کچھ شرکاء کو ناگواربھی گزرا تھا اور بعد کے دنوں میں ان کی جانب سے اس ناراضی کا برملا اظہارکیاگیا لیکن جب تک یہ اظہار ہوا ارشد عباس ذکی اپنی اننگز کھیل کرادبی بیٹھک سے رخصت ہوچکے تھے کہ یہ بیٹھک ان کی توقعات پر پوری نہیں اتری تھی۔
اس برس کی دیگر تقریبات میں مذاکرے،محافل موسیقی، نظم کامشاعرہ، ایک شام دوشاعر، افضل چوہان، خورشید ملک کے ساتھ شامیں، عید ملن مشاعرہ، مسالمہ اور حزیں صدیقی، ضیاء شبنمی، خادم رزمی، احمد ندیم قاسمی،ن م راشد،طفیل ابن گل، مجید امجدکی برسیوں پر خصوصی تقریبات شامل تھیں۔سال کی ایک اور اہم تقریب شام خاکہ تھی جو پروفیسر انور جمال کی صدارت میں 2جون کو منعقد ہوئی تھی۔اس تقریب میں نوازش علی ندیم کاخاکہ اگرچہ خوبصورت تھا لیکن انہوں نے جس دوست کاخاکہ اڑایا تھا وہ اس پر ناراض ہوگئے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد یہ ناراضی بھی ختم ہوگئی۔ مجید امجد اور ن م راشد کی برسیاں نظم کے مشاعروں پر مشتمل تھیں۔
2012 ء کا ا ٓغاز ایک دکھ بھری خبر سے ہوا۔دوجنوری کو نامور انشائیہ نگار اور صحافی اقبال ساغر صدیقی داغ مفارقت دے گئے۔ سال کی پہلی تقریب پانچ جنوری کو ان کی یاد میں تعزیتی جلسے کی صورت میں منعقد ہوئی۔26جنوری کو معروف شاعر اطہر ناسک کے ساتھ ملتان میں ان کی زندگی کی پہلی اورآخری شام منائی گئی۔یہ ایک بھرپور تقریب تھی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور اطہرناسک کے دوستوں نے شرکت کی۔اطہرناسک ان دنوں کینسر کا شکارتھے۔انہوں نے اپنا بہت سا کلام بھی سنایااور جلد دوبارہ بیٹھک میں آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔
فروری میں محترمہ ثمر بانوہاشمی انتقال کرگئیں۔9فروری کو اسی بیٹھک میں ان کی یاد میں تقریب منعقد ہوئی۔ اس کے علاوہ اس برس کے دوران تابش صمدانی،عاصی کرنالی، مہدی حسن،اظہر جاوید اور عابد صدیق کی یاد میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں۔ مہدی حسن کی یاد میں تقریب کی صدارت ثریا ملتانیکر نے کی اور یہ محفل موسیقی پر مشتمل تقریب تھی۔سال کا ایک اورصدمہ راشد نثار جعفری نے دیا۔ اپریل 2012ء میں وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔مئی میں ان کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔
ایک شام دوشاعر، کتابوں کی تقریبات رونمائی، محافل نثر، اردووسرائیکی مشاعرے، تازہ تخلیقات،نعتیہ مشاعروں اور حاصل مطالعہ کے نام سے ادبی بیٹھکیں سال بھر جاری رہیں۔ایک اہم تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین عبدالحمید خان کے ساتھ مکالمے پر مشتمل تھی جنہوں نے اسی بیٹھک میں ملتان کے ادیبوں سے خطاب کیا۔15مارچ کو حبیب جالب کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے ان کی صاحبزادی طاہرہ جالب اور صاحبزادے یاسر جالب نے شرکت کی۔اس برس کی دویادگارتقریبات میں نجمہ شاہین کھوسہ کے ساتھ شام اور نوشی گیلانی اور سعید خان کے ساتھ شام قابل ذکرہیں۔ان دونوں تقریبات کی خاص بات یہ تھی کہ12جولائی کوڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے ساتھ ملتان میں ہونے والی یہ شام ان کی زندگی کی پہلی تقریب پذیرائی تھی۔ اسی طرح دونومبر کو نوشی گیلانی نے کئی برسوں کے بعد ملتان کی کسی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے ساتھ پہلی شام29برس قبل 1983ء میں ملتان میں ہی منائی گئی تھی۔بعدازاں انہوں نے اسی شہر میں کئی یادگارمشاعرے بھی پڑھے اورپھر بیرون ملک چلی گئیں۔ اس تقریب میں پروفیسر انور جمال سمیت ملتان کے بہت سے قلمکاروں کے ساتھ ان کی طویل عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔ تقریب میں انہیں پھول اور تحائف پیش کیے گئے۔ اس موقع پر سعید خان نے بتایا کہ میری اور نوشی کا پہلا رابطہ بھی سخن ورفورم کے پورٹل پر ہواتھا۔ اس حوالے سے بھی ملتان آمد اور سخن ورفورم کی ادبی بیٹھک میں شرکت ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
آج پلٹ کردیکھتے ہیں کہ وہ بہت سے دوست جو 2011 اور2012 میں ہمیں متحرک دکھائی دیتے تھے اب ہمارے درمیان موجودنہیں۔لیکن ادبی بیٹھک آج جس مقام پر ہے وہ انہی تمام دوستوں کی محنت اور محبت کا نتیجہ ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker